لندن (ہمگام نیوز) بلوچ قوم دوست رہنماء اور فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیربیار مری نے دوحہ میں عرب لیگ اور او آئی سی کے منعقدہ اجلاس پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس جو دوحہ میں منعقد ہوا میں پاکستان اور ایران نے اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی اور خودمختاری پر تقاریر کیں۔ مگر یہی وہ قابض ریاستیں ہیں جو لاکھوں بلوچوں، کردوں، پشتونوں، آذریوں اور الاحواز کے عوام کو اپنی جبری حکمرانی میں رکھتے ہوئے ان کی خودمختاری کو سلب کیے ہوئے ہیں۔
حیربیار مری نے مزید کہا کہ او آئی سی کے اندر یہ “مسلم” رکن ممالک، جیسے ترکی، پاکستان اور ایران، کسی بھی موقع پر نسل کشی کے خلاف شور مچانے یا فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر بلند آواز سے وکالت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، لیکن جب بات بلوچستان اور کردستان کی آتی ہے تو ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے۔ جبری گمشدگیاں، پھانسیاں، فوجی کریک ڈاؤن اور ثقافتی نسل کُشی ان میں سے کسی بھی ظلم کو نہ او آئی سی کے ایجنڈے پر جگہ ملتی ہے اور نہ ہی ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔ یہی عرب خلیجی اور مسلم ممالک لاکھوں ڈالرز برطانوی تخلیق کردہ “پراجیکٹ پاکستان” پر لگا رہے ہیں، جو صرف مظلوم عوام پر ظلم و ستم کو بڑھاوا دیتا ہے۔
بلوچ رہنماء نے مزید کہا کہ یہ منافقت ناقابلِ قبول ہے۔ عرب لیگ، جی سی سی اور او آئی سی جیسے پلیٹ فارمز جو انصاف کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، حقیقت میں محض کھوکھلے اسٹیج ہیں جہاں مخصوص معاملات پر ہی احتجاج کیا جاتا ہے۔ قطر کی آبادی صرف تیس لاکھ ہے، اور اسرائیلی حملے کے خلاف پوری مسلم دنیا یکجا ہو جاتی ہے۔ پیٹرو ڈالرز کمال دکھاتے ہیں۔ مگر دوسری طرف، پچاس ملین کرد، تقریباً تیس ملین پشتون جو پاکستانی قبضے میں ہیں، اور پچیس ملین سے زائد آذری عوام — ان سب کی کوئی آواز نہیں سنی جاتی۔
فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ نے مزید کہا کہ انصاف کا انتخاب انفرادی نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جب تک ان مقبوضہ اقوام کی امنگوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا، او آئی سی عوام کی آواز کے بجائے محض حکومتی و ریاستی مفادات کا آلہ کار ہی رہے گی۔
حیربیار مری نے مزید کہا کہ پاکستانی وزیرِاعظم نے مسلم ممالک کے دفاع کے لیے ایک “مسلم ٹاسک فورس” بنانے کی بات کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اصل جابر، خود مسلمان حکمران ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کو نوآبادی بنانے کی کوشش کی اور تین دہائیوں تک وہاں خانہ جنگی کو ہوا دی۔ میری بات یاد رکھیے: یہ “ٹاسک فورس” کبھی بھی مسلم عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال نہیں ہو گی، یہ صرف مسلم حکومتوں کے دفاع کے لیے موجود رہے گی۔ یہ قابض مسلمان حکمرانوں کو مزید طاقت فراہم کرے گی تاکہ وہ مظلوم مسلمانوں کو غلام بنا سکیں، ان کی زمینوں کو لوٹ سکیں اور ان کی شناخت کو مٹا سکیں۔















