تحریر: وارث بلوچ ہمگام کالم : کسی بھی سیاسی پارٹی کے قائد اور مزاحمتی تنظیم کے رہنما کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو قوم کے سامنے مخفی نہ رکھے کیونکہ پارٹی آزادی کی تحریکوں میں ایک ذریعہ یا پلیٹ فارم ہے جسے استعمال کرکے سیاسی قیادت سفارتکاری کے ذریعے بندوق کی آواز کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ جب ہم قومی آزادی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہماری ہر پالیسی قومی حمایت کا متقاضی ہوتا ہے کیونکہ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی پارٹی نے اکیلے آزادی حاصل نہیں کی ہے جب تک کہ عوامی حمایت حاصل نہ ہو قومی آزادی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ جب ہم عوام کی ترجمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں عوام سے اپنے گزرے کل، آج اور آنے والے کل کی بابت پالیسیوں کو کھلی کتاب کی طرح سامنے رکھنا پڑیگا۔ بلوچ عوام کا یہ پورا حق ہے کہ وہ کسی بھی پارٹی کے وژن اور موقف کا ساتھ دینے سے قبل ان کی پالیسی اور قومی پروگرام، بلوچ جغرافیہ سے متعلق اس پارٹی کا شفاف موقف، اپنے پڑوسیوں اور قابض ریاستوں ( ایران اور پاکستان) سے متعلق موقف جاننا ازحد ضروری ہوتا ہے۔ پارٹیوں اور مسلح تنظیموں کے قائدین بلوچ عوام اور پارٹی ورکروں کو اتنے بھی بھولے نہ سمجھیں کہ وہ پارٹی راز داریوں، تنظیمی ذمہ داریوں اور انتظامی معاملات اور پالیسیوں میں تمیز نہیں کرسکتے۔ آج بلوچ نوجوان اور بلوچ عوام بیس سالہ جدوجہد میں بہت سی چیزوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرچکے ہیں۔ وہ اب صرف اسی پارٹی پر بھروسہ کرسکتے ہیں جن کی پالیسیاں شفاف ہوں۔ بلوچ قومی تحریک آزادی کا طالبان یا کشمیریوں سے تقابلی جائزہ نہیں کیونکہ ہمیں طالبان اور پاکستانی فوج میں تمیز نہیں کرنی چاہیے۔ طالبان وہی کررہے ہیں جو انہیں جی ایچ کیو کی جانب سے احکامات ملتے ہیں، بلوچ نے کبھی کشمیریوں کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی، لیکن طالبان نے سویت یونین کے دور سے لیکر نائن الیون کے بعد کی ادوار میں بلوچ جہد کاروں کے خلاف آئی ایس آئی کے معاون کا کردار ادا کیا ہے۔ آج خطے کے حالات کے تناظر میں بلوچ قیادت کو پالیسی دینااس لیئے ناگزیر ہے کیونکہ ہم قانونی طور پراپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور آنے والے آزاد بلوچستان کی جغرافیہ، ملکی ھیت، تاریخ اور نظام حکومت سے متعلق دنیا کو ابھی سے آگاہ کرنا مقصود ہے۔ جس طرح ایک سیاسی پارٹی اپنی انتخابی منشور میں اپنے ووٹروں سے ایک ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنےمستقبل کی پانچ سالہ کارکردگی کو عوام کے سامنے رکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا یہاں بات بھروسے کی نہیں یہاں بات کردار اور عمل کی ہے، عوام اس پارٹی کو پختہ سمجھے گی، مخلص و ایماندار کہے گی جو اپنی عوام سے روز مرہ تنظیمی کاموں کے علاوہ اور کچھ نہیں چھپاتا۔ بلوچ آزادی پسند پارٹیوں اور مسلح تنظیموں کو اس بات کا ادراک جلد ہی کرنی چاہئے۔ پارٹی میں موجود لوگ کسی خلائی مخلوق سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ بھی عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، کوئی پارٹی اور ماس پارٹی کی ڈگڈگی بجاکر اس رعب و دبدبہ میں مشغول ہے کہ عوام ان کی ایران نواز پالیسیوں پر آنکھیں بند کرکے سوال و جوابدہی یا کارکنان بز اخپش کی طرح اثبات میں سرہلائیں گےتو یہ ان کارکنوں کی بھی بد قسمتی ہوگی۔ میرے نکتہ نظر میں عوام کے سامنے اپنی پالیسی متعارف کرانا ایک ذمہ دار قیادت ہونے کا ثبوت ہے۔ بلوچ سیاسی اور مزاحمتی پارٹی جو بلوچ عوام سے ووٹ نہیں بلکہ اس عظیم مقصد (آزاد بلوچستان ) کی حصول کے لیے عظیم قربانیاں جانی، مالی اور اخلاقی حمایت کا متقاضی ہیں کو اپنے کارکنوں، عوام کے سامنے خطے کے متحرک قوتوں، قابض ایران و پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی، اور دوست ملک افغانستان بابت جغرافیہ سے متعلق موقف پیش کرنے میں کسی لیت و لعل کا مظاہرہ نہ کرے ؟ آج بلوچ سیاسی پارٹیوں کو شہید غلام محمد بلوچ کی یاد بہت شدت سے آرہی ہے جنہوں نے کارکنوں کے سامنے نہ پارٹی پالیسی کو حکمت عملی کا چولہ پہناکر گمراہ کیا نہ ایران کو نرم گوشے کی چھتری فراہم کرکے گجر کے ہاتھوں شہید ہونے والے بلوچ عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو لاوارث چھوڑا۔ مجھے امید ہے شہید غلام محمد کی سیاسی وراثت کو اب زیادہ دیر تک کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا۔ غلام پھر سے گرجے گا اور تہران و اسلام آباد کی در و دیواروں کو ہلا کر رکھ دیگا۔ اب کی بار گجر سے سمجھوتہ کرنے کی روش و سوچ کو بلوچ کارکنان قبول کرنے کی بجائے قومی بیانیہ کا ساتھ دینگے، جس نے ہمیں کل تک یکجہتی اور اتحاد کی لڑی میں پرویا تھا اور ہم سب شہید صبا اور غلام محمد کی دلیرانہ قیادت میں درست سمت محو سفر تھے۔ اب بھی وقت ہے کہ کارکنان پارٹی مجبوریوں کو قومی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے نہ دیں اسی میں ہم سب کی جیت ہے اور پاکستان و ایران کی شکست چھپی ہے۔