اس وقت ملک میں عملی طور پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔ حالیہ لاہور میں تحریکِ لبیک پاکستان کے پرامن احتجاجی مظاہرے پر ریاستی کریک ڈاؤن اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ یہاں آئین و دستور محض دکھاوا ہیں۔ دو سو سے زائد سیاسی کارکنوں کی شہادتیں، سینکڑوں زخمی اور گرفتاریاں بتاتی ہیں کہ اس ملک میں اختلافِ رائے کو جرم سمجھا جا رہا ہے۔ آئین معطل ہے، اسمبلیاں، سینیٹ اور عدالتیں محض دنیا کو جمہوریت کا دھوکہ دینے کے لیے قائم رکھی گئی ہیں۔ حقیقت میں یہاں جمہوریت نہیں، ڈکٹیٹرشپ اور غنڈہ راج ہے۔ بلوچستان تو گزشتہ 78 برسوں سے اسی جبر و استبداد کا شکار رہا ہے۔ یہاں کبھی فوجی آمریت کے پردے میں، اور کبھی نام نہاد سلیکٹیڈ جمہوریت کے لبادے میں، ہر حکومت نے بلوچ عوام کے ساتھ ناانصافی کی۔ چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ نواز یا تحریک انصاف کسی نے بلوچستان کو نہیں بخشا۔ اب یہی آگ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا تک جا پہنچی ہے۔ سندھ کو سیاسی و جغرافیائی اعتبار سے کھوکھلا کیا گیا تاکہ وہ آواز نہ اٹھا سکے۔ پنجاب، جو کل تک بلوچوں کو “دہشتگرد” اور “بیرونی ایجنٹ” کہتا تھا، آج اسی ریاستی جبر کا مزہ چکھ رہا ہے۔ بلوچ رہنماؤں نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ “یہ آگ جب تمہاری دہلیز تک پہنچے گی، تب تمہیں احساس ہوگا۔” آج وہی دن آچکا ہے۔ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں بلوچ قوم پر جبر و ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ اب وہی جماعت خود اسی نظام کے شکنجے میں ہے۔ مسلم لیگ نواز کے ساتھ بھی تاریخ نے یہی کیا کبھی پرویز مشرف کے دور میں، کبھی عمران خان کے دور میں۔ آج پھر انہی کے اقتدار میں عوامی حقوق کو کچلا جا رہا ہے۔ یہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، جس نے بھٹو سے لے کر بینظیر بھٹو تک ہمیشہ وفاداری نبھائی، آج اسی طاقت کے ہاتھوں بے بس ہے۔ یہاں ایک مخصوص طبقہ برسوں سے ملک کا مالک بنا بیٹھا ہے جو کسی اور کو اقتدار میں برداشت نہیں کرتا۔ زہری: بلوچستان کا غزہ بلوچستان کے ضلع خضدار، تحصیل زہری میں گزشتہ ایک مہینے سے زائد عرصے سے سیکورٹی فورسز کا محاصرہ جاری ہے۔ مقامی آبادی پر ظلم و جبر کی انتہا کر دی گئی ہے۔ فضائی حملوں میں درجنوں معصوم بچے، نہتی عورتیں اور بزرگ شہری شہید ہو چکے ہیں۔ علاقے میں کرفیو نافذ ہے، بجلی اور مواصلات کا نظام معطل، دکانیں سیل، اور غذائی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ زرعی زمینوں پر سیکورٹی فورسز کا قبضہ، گوداموں رکھے گئے لوگوں کا اسٹاک میں گندم اور کھڑی کپاس کی فصلوں کو آگ لگا دی گئی یہ سب کچھ غزہ کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ زہری آج بلوچستان کا “غزہ” بن چکا ہے، مگر عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے ادارے خاموش ہیں۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، ایچ آر سی پی، اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زہری کے مظلوم عوام کی حالت زار پر فوری توجہ دیں۔ اگر اس بربریت کو نہ روکا گیا تو وہاں ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے اب وقت آ گیا ہے ریاستی جبر، ناانصافی اور منافقانہ رویے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ یہ ملک چند جرنیلوں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی فیکٹری بن چکا ہے جہاں چوبیس کروڑ عوام محض ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ مظلوم اور محکوم قومیں متحد ہو کر اس استحصالی نظام کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس ملک میں کسی کا بھی کوئی مستقبل باقی نہیں رہے گا۔