ایمسٹرڈیم: (ہمگام نیوز) 27 مارچ 1948 بلوچ قوم کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب قابض پاکستانی ریاست نے تمام بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آزاد اور خودمختار بلوچستان پر زبردستی فوجی قبضہ کیا۔ تب سے لے کر آج تک، گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بلوچ سرزمین پر ظلم، جبر اور خونریزی کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ دنیا کے سامنے پاکستان کے مبینہ غاصبانہ قبضے اور جاری نسل کشی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے نیدرلینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم کے ڈیم اسکوائر میں احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ یہ احتجاج دوپہر 1:30 بجے سے شام 3:00 بجے تک جاری رہے گا۔

1948 سے اب تک پاکستانی فوج پر بلوچ عوام کے خلاف نسل کشی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ہزاروں بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے، ماورائے عدالت قتل کرنے اور اجتماعی قبروں میں دفنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ جبکہ ناقدین کے مطابق پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کا نام نہاد نظریہ مظلوم قوموں کے وسائل لوٹنے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بلوچ قوم دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ پامالیاں محض ایک اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی بقا کا مسئلہ ہیں۔ مہذب دنیا کو پاکستان کے اس پرتشدد قبضے اور استحصالی پالیسیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔