ہینوور ( ہمگام نیوز ) جرمنی ، فری بلوچستان موومنٹ (FBM) کی جرمن برانچ نے 11 نومبر کو ہینوور میں ایک آگاہی احتجاج کا انعقاد کیا، تاکہ 1928 میں ایرانی افواج کے ذریعے مغربی بلوچستان پر قبضے کی سال روز کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس مظاہرے کا مقصد خطے میں طویل عرصے سے جاری سیاسی جبر اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھانا تھا۔
مقررین میں فری بلوچستان موومنٹ کے ارکان ؛ نوید بلوچ ، ابوبکر بلوچ، حسن عزیزی، اشفاق بلوچ اور بہزاد بلوچ کے علاوہ الاحوازی اکٹیوَسٹ جمال الاحوازی اور ساوتھ آذربائیجانی اکٹیوَسٹ علیحان بیوغلو شامل تھے۔ مقررین نے مل کر قبضے کے تاریخی اور مسلسل اثرات اور اس کے بلوچ آبادی پر پڑنے والے منفی نتائج کو اجاگر کیا۔
ایف بی ایم کے نمائندوں نے بلوچ قوم کو درپیش متعدد مسائل کی نشاندہی کی، جن میں شامل ہیں:
بلوچ افراد کی ماورائے عدالت اور عدالتی قتل۔
ایک امتیازی انتظامی نظام جس کے ذریعے بلوچ باشندوں کو شناختی دستاویزات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
مقامی آبادی کی جبری بے دخلی، گھروں کا انہدام، اور خاندانوں پر خطہ چھوڑنے کے لیے دباؤ۔
آبادکاری کی پالیسیاں، جن کے بارے میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد مغربی بلوچستان کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنا ہے۔
وسیع تر ثقافتی، سیاسی اور انسانی حقوق پر پابندیاں۔
الاحواز اور ساوتھ آذربائیجان کی تحریکوں کے مقررین نے اظہارِ یکجہتی کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی اقوام بشمول آذربائیجانی ترک، الاحوازی عرب اور کرد بھی اسی نوعیت کی محرومیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ شرکاء نے آزادی کے حصول اور ایرانی قبضے کے خلاف جدوجہد میں متاثرہ اقوام کے باہمی تعاون پر زور دیا۔
احتجاج کے دوران، مقررین نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مغربی بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لیں اور بلوچ قوم کے حقوق، تحفظ اور وقار کی حفاظت کے لیے بلوچستان کی آزادی کی تحریک کی حمایت کریں۔
تقریب کا اختتام بلوچستان، ساوتھ آذربائیجان، الاحواز اور کردستان کی آزادی کے لیے مشترکہ اپیل کے ساتھ ہوا، تاکہ ایرانی قبضے اور مقامی اقوام کے استحصال کا خاتمہ کیا جا سکے۔















