دی ہیگ (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ نیدرلینڈ برانچ کی جانب سے آج نیدرلینڈز کے دارالحکومت دی ہیگ میں واقع انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، اس احتجاج کا مقصد 30 ستمبر 2022 کے زاہدان کے خونی جمعہ میں ایرانی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے نہتے بلوچوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔
یہ احتجاجی مظاہرہ دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک جاری رہا، جس میں مظاہرین نے ایرانی اور پاکستانی قابض ریاستوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس مظاہرے کا مقصد نہ صرف شہداء کو یاد کرنا تھا، بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دینا تھا کہ بلوچستان میں ایرانی اور پاکستانی افواج کی جانب سے جاری ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
مظاہرے کے دوران، فری بلوچستان موومنٹ کے مرکزی کابینہ کے رکن عبید بلوچ نے اپنے تقریر میں کہا ایرانی قابض ریاست بلوچوں کو انسان نہیں سمجھتی جہاں ہر روز بلوچوں کو بے بنیاد الزامات پر پھانسی دی جاتی ہے۔ انہوں نے زاہدان کے خونی جمعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی فوج نہتے بلوچوں پر کس طرح براہ راست فائرنگ کر کے انہیں شہید کرتی ہے۔
عبید بلوچ نے مزید کہا کہ زاہدان کا سانحہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایران کی بلوچ قوم کے خلاف جاری منظم نسل کشی کا حصہ ہے۔
احتجاج میں موجود بلوچ نیشنل موومنٹ کے ممبر ڈاکٹر لطیف بلوچ اپنے تقریر میں کہا اس براہ راست اور شدید فائرنگ میں، ایک ہی دن میں سو سے زیادہ بلوچ نوجوان اور بزرگ شہید ہوئے اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ایران اور پاکستان کے زیرِ قبضہ بلوچستان میں بلوچ عوام پر ہونے والے ظلم اور تشدد کی داستان کوئی اتفاق نہیں، بلکہ بلوچ قوم کی منظم نسل کشی قابضین کے قبضے کے پہلے دن سے جاری ہے اور اب بھی جاری ہے۔
ایران کے زیرِ قبضہ بلوچستان پر 96 سال کے قبضے کے دوران، لاکھوں بلوچ بچے اپنی سیاسی، سماجی اور ثقافتی وابستگیوں کی وجہ سے شہید اور جلاوطن ہوئے، لیکن ہمارا غیر متزلزل عزم اور ارادہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔ آج کا بلوچستان پچھلے 100 سال کی تقسیم کا عکاس ہے، لیکن بلوچ سرزمین کی وحدت اور آزادی کے حصول کے لیے ہماری کوششیں جاری رہیں گی۔
آخر میں فری بلوچستان موومنٹ کے ممبران نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ عالمی ادارے، خاص طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اس سانحے کی تحقیقات کریں اور اس میں ملوث تمام قابض ایرانی ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں یہ احتجاج اس عزم کا اظہار ہے کہ بلوچ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو نہیں بھولے گی اور اپنے سرزمین کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔















