لندن (ہمگام نیوز) ہم عالمی برادری، بالخصوص امریکہ، یورپ اور اپنے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کو ایک ذمہ دار، جمہوری اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جائے اور خطے میں امن، استحکام اور پراکسی تنازعات کے خاتمے کے لیے ہمارا ساتھ دیا جائے۔

ہم آہنگی اور ایسے قانونی تحفظات جو اُن شکایات کو جڑ سے ختم کریں جن سے انتہا پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی ہمارا وعدہ امریکہ، یورپ اور بالخصوص اپنے ہمسایہ ممالک اور تمام آزاد اقوام کے ساتھ ہے۔ ہمارے ساتھ شراکت کریں اور دیکھیں کہ ہماری کامیابی کس طرح ایران کی پراکسی سلطنت کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی وسائل اور افرادی قوت سے محروم کر دیتی ہے۔ مل کر ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں اور ایک ایسا مستقبل تعمیر کرتے ہیں جہاں کسی بھی ریاست کا انتہاپسند سایہ افق کو تاریک نہ کر سکے۔

فتح کے لیے ٹھوس راستے: فوری اقدامات کے لیے پالیسی تجاویز

غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف بحری قلعہ بندی: امریکہ اور مغربی ممالک کی مشترکہ قیادت میں تربیتی پروگرام، انٹیلیجنس کے مشترکہ مراکز اور ساحلی گشت کا آغاز کیا جائے تاکہ بلوچستان کے تقریباً 2000 کلومیٹر طویل ساحل کے ذریعے اسلحہ اسمگلنگ، شدت پسندوں کی رسد اور ملیشیاؤں کی سپلائی لائنز کو روکا جا سکے، اور عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستے یقینی بنائے جائیں۔

بلوچستان کے خودمختار دفاع کی تعمیر: ایک پیشہ ور، انسانی حقوق کا احترام کرنے والی قومی فورس کی تشکیل کے لیے صلاحیت سازی کی جائے جو سرحدی دفاع اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں مہارت رکھتی ہو۔

امن کے لیے سفارتی مرکز:

بلوچستان کی میزبانی میں ساحلی ممالک، مغربی طاقتوں اور عالمی شراکت داروں کا ایک اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ پابندیوں کے نفاذ، پراکسی تنازعات کے خاتمے اور تنازعات کی روک تھام کے لیے معاہدے کیے جا سکیں، اور بلوچستان کو سوئٹزرلینڈ کی طرح ایک غیر جانبدار امن مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے جہاں ممالک اپنے اختلافات حل کریں۔

پراکسی خطرات کا خاتمہ

ایک آزاد بلوچستان ہر سرحدی خلا کو بند کرے گا اور بندرگاہوں کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق منظم کرے گا۔ ہمارے وسائل کی شفاف نگرانی مقامی دولت کو بیرونی جنگوں میں ضائع ہونے سے روکے گی، جبکہ جمہوری شمولیت اُن زخموں کو بھرے گی جنہیں مختلف حکومتیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امریکہ، مغربی اتحادیوں اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر ہم حالات کا رخ بدل دیں گے: پراکسی جنگیں ناقابلِ عمل ہو جائیں گی، انتہا پسندی کمزور پڑے گی، اور امن قائم ہوگا—بغیر کسی غیر ضروری خونریزی کے۔

تاریخ کے نام ہماری فوری پکار

بلوچ قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، ہمارے دل آزادی کی تڑپ سے روشن ہیں۔ ہم انتہا پسندی کو مسترد کرتے ہیں؛ ہم اپنی خودمختاری، مشترکہ خوشحالی اور باہمی سلامتی کا حق مانگتے ہیں۔ مغربی جمہوریتیں، عالمی برادری اور ہمارے قریبی ہمسایہ ممالک، آج بلوچستان کو ایک مضبوط جمہوری شراکت دار کے طور پر تسلیم کریں۔ بلوچ عوام کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا سکیں—ایسے وسائل جو نہ صرف بلوچ قوم بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ دہشت گردی کی پراکسی لہر کو ختم کریں۔ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ظلم پر فتح کی ایک روشن مثال قائم کریں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آپ ہماری پکار کا جواب دیں۔