جنگ میں جیت کی اصل بنیاد

جنگیں صرف تیز فیصلوں یا بہتر حکمتِ عملی سے نہیں جیتی جاتیں۔ (بلکہ) حقیقی جیت اُس وقت ہوتی ہے جب ہتھیار اپنے ہدف کو درست طور پر تباہ کر دیتے ہیں۔ آج کل امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون جدید، تیز اور سمارٹ نظام بنانے کی دوڑ میں یہ بھولنے کا خطرہ مول لے رہا ہے کہ کسی بھی ہتھیار کی اصل کامیابی مخصوص اور مستند انٹیلی جنس (یعنی دشمن کے نظامِ جنگ کی درست معلومات) پر منحصر ہوتی ہے۔

(لہذا) وہ کمانڈر جو دشمن کی مشینوں کو سمجھتا ہے (وہ) صرف اُن کے حرکت و عمل کو نہیں (بلکہ) وہی جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ امریکی قیادت اس بات کو یقینی بنائے کہ انٹیلی جنس ہی عسکری جدّت (innovation) اور موافقت (adaptation) کی بنیاد بنے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکی فیکٹریاں ایسے ہتھیار بنائیں گی جو حقیقی جنگ میں ناکام ہو جائیں گے۔

فیصلہ جاتی برتری کے حدود

ڈسیژن سپرائریٹی یعنی دشمن سے زیادہ تیز اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت امریکی دفاعی منصوبہ بندی کی رہنما قوت سمجھی جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو اس میں مرکزی کردار حاصل ہے — خاص طور پر “Joint Warfighting Concept” میں جو امریکہ کی بڑی طاقتوں کے خلاف جنگی حکمت عملی کا بنیادی خاکہ ہے۔

مگر اگر فیصلوں کو صرف ڈیٹا پر مبنی برتری کا مسئلہ سمجھا جائے تو قائدین اس غلطی میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ صرف تیزی ہی سب کچھ ہے جبکہ اصل جنگ میں طویل المدتی فیصلے، وسائل اور عملی ہتھیار زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

انٹیلی جنس کو صرف “معلومات” سمجھنا ایک اور بڑی غلطی ہے۔

حقیقت میں اچھی انٹیلی جنس حاصل کرنا نہایت تکنیکی اور خطرناک کام ہے۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی کوڈ توڑنے والوں نے جاپانی منصوبے پہلے سے جان لیے اور جرمن فوجی نظاموں کی تفصیلات اکٹھی کیں جس سے انویژن آف نارمنڈی (Normandy Invasion) ممکن ہوئی۔ یہ سب صرف فیصلوں کی تیزی نہیں بلکہ انٹیلی جنس کی طاقت تھی۔

جدّت اور موافقت میں انٹیلی جنس کا کردار

تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ میں کامیابی اس پر منحصر ہے کہ فوجیں جنگ سے پہلے کتنا اچھا تیار ہوتی ہیں اور جنگ کے دوران کتنی جلدی خود کو بدل سکتی ہیں۔

جدّت (Innovation) عام طور پر امن کے زمانے میں ہوتی ہے جب فوجیں مستقبل کی جنگوں کا مطالعہ کر سکتی ہیں۔

موافقت (Adaptation) جنگ کے دوران ہوتی ہے جب حقیقت نظریاتی منصوبوں کو چیلنج کرتی ہے۔

مثال: سرد جنگ کے دوران سوویت سائنسدان اڈولف ٹولکاچیف نے خفیہ طور پر امریکی CIA کو سوویت ریڈار نظام کی تکنیکی معلومات فراہم کیں۔ ان معلومات سے امریکہ نے نئے الیکٹرانک وارفیئر سسٹم (Electronic Warfare Systems) تیار کیے جیسے ریڈار جامرز اور اینٹی ریڈیشن میزائل جنہوں نے لیبیا، عراق اور سربیا کے فضائی دفاعی نظاموں کو ناکارہ بنا دیا۔ یہی انٹیلی جنس تھی جس نے امریکی فضائی برتری ممکن بنائی۔ مگر اس کے بدلے ٹولکاچیف اور دیگر ایجنٹوں کو سوویت یونین نے پکڑ کر پھانسی دے دی۔

دوسری مثال: جب ایک جاپانی لڑاکا طیارہ “Zero Fighter” الاسکا میں گر کر تباہ ہوا تو امریکیوں نے اسے مرمت کر کے اڑایا تاکہ اس کی صلاحیتوں کا تجزیہ کیا جا سکے۔ اس سے امریکی F6F Hellcat طیارے میں اہم تبدیلیاں کی گئیں جس نے جاپانی طیاروں کے خلاف 19:1 کا کمالی تناسب حاصل کیا۔ یہ تھی “علم پر مبنی موافقت” یعنی دشمن کے ہتھیار کو سمجھ کر اپنے ہتھیار بہتر بنانا۔

جدید عسکری خریداری میں انٹیلی جنس کا فقدان

آج امریکی انٹیلی جنس برادری میں ایک خاص شعبہ ہے جسے Acquisition Intelligence کہا جاتا ہے یعنی وہ انٹیلی جنس جو نئے ہتھیار بنانے کے عمل میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے تحت کئی پیچیدہ پالیسی دستاویزات ہیں جیسے DoD Directive 5000.01 اور DoD Instruction 5000.86، جو طے کرتی ہیں کہ انٹیلی جنس کو عسکری ترقی میں کیسے شامل کیا جائے۔ لیکن حقیقت میں اکثر یہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کرتا۔

ایک 2021ء کی RAND رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے خریداری پروگراموں میں انٹیلی جنس کا کردار کمزور ہے۔ (اسکی) وجہ یہ ہے کہ انٹیلی جنس ماہرین کی تعداد کم ہے اور اکثر غیر رسمی تعلقات (“bro-nets”) کے ذریعے تعاون ہوتا ہے نہ کہ باقاعدہ نظام کے تحت۔

رفتار کی دوڑ اور انٹیلی جنس کا نقصان

2020 میں پنٹاگون نے Adaptive Acquisition Framework متعارف کرایا تاکہ ہتھیاروں کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

اس کے تحت دو نئے “تیز راستے” بنائے گئے:

1. Urgent Capability Pathway — دو سال میں نیا نظام تیار کرنا۔

2. Middle Tier Pathway — دو سے پانچ سال میں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان پروگراموں میں انٹیلی جنس کو لازمی نہیں قرار دیا گیا۔ یعنی تیزی کے چکر میں معلوماتی گہرائی قربان کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں تین بڑے خطرات پیدا ہو رہے ہیں: 1. فوری منصوبوں میں انٹیلی جنس کی کمی 2. چھوٹے مگر اہم منصوبوں کو نظرانداز کرنا 3. ایسے ہتھیار تیار ہونا جو دشمن کی جوابی تدابیر کے سامنے ناکام ہو جائیں۔

حل اور سفارشات

مصنف کے مطابق انٹیلی جنس کو ہر قسم کے منصوبے میں لازمی جزو بنایا جائے۔

کانگریس کو چاہیے کہ انٹیلی جنس کے لیے مخصوص بجٹ مختص کرے۔

نئے تیز رفتار کمانڈ سینٹرز اور دفاتر کو انٹیلی جنس سے جوڑا جائے تاکہ وہ حقیقی خطرات کو سمجھ سکیں۔

انٹیلی جنس کمیونٹی کو یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ طویل جنگ کے دوران فوری موافقت کیسے ممکن بنائی جائے۔

نتیجہ

امریکہ کو اپنی صنعتی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کرنے میں برسوں لگیں گے جبکہ چین تیزی سے اپنے بحری اور میزائل نظام کو بڑھا رہا ہے۔ ایسے حالات میں انٹیلی جنس ہی وہ عنصر ہے جو امریکی قوتِ حربی کو مؤثر اور خطرناک بنا سکتی ہے۔ جنگ جیتنے کے لیے صرف تیز فیصلے کافی نہیں بلکہ درست، گہری اور بروقت انٹیلی جنس ہی وہ عنصر ہے جو فیصلوں کو قاتلانہ مؤثریت میں بدل دیتی ہے۔