بلوچستان کی زمین ہمیشہ سے قربانیوں کی گواہ رہی ہے یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر پتھر، ہر پہاڑ، میں ایک کہانی چھپی ہے کہانی ان لوگوں کی جنہوں نے مادرِ وطن کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج بھی ہمارے جان نِثار ، ہمارے بھائی، ہمارے بیٹے اور بیٹیاں، وہی داستان دہرا رہے ہیں، وہی راہ اپنائے ہوئے ہیں جو ہمارے شہیدوں نے اختیار کی تھی: قربانی کی راہ، آزادی کی راہ۔ ایک جنگی سپاہی کا بیان ، جو میرے سامنے آیا، دل کے زخموں کو چیر دیتا ہے۔ اس نے کہا: “میں نے اپنی آنکھوں سے ساتھیوں کو شہید ہوتے دیکھا ہے اور اپنے ہاتھوں سے شہیدوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی شہادت کی موت نصیب فرمائے۔” یہ الفاظ صرف ایک جذباتی کلام نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جسے ہر بلوچ سرمچار روزانہ جھیلتا ہے۔ وہ حقیقت جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ لمحے جب ایک دوست، ایک بھائی، یا ایک ساتھی تیر یا گولی کا شکار ہو کر زمین پر گر جاتا ہے، دلوں کو توڑ دیتا ہے، مگر روحوں کو اور مضبوط بناتا ہے۔ ہرشہید کے میت جسے ہاتھوں سے اٹھایا جاتا ہے، ہر خون جسے زمین پر بہتے دیکھا جاتا ہے، وہ ایک عہد ہے ایک عہد آزادی کے لئے، اپنی نسلوں کے لئے، اپنی زمین کے لئے۔ بلوچ جان نِثاروں کی یہ قربانیاں محض ذاتی نہیں، یہ پوری قوم کی آزادی کی بنیاد ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہر شہید کی قربانی ایک چراغ ہے، جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے راہ روشن کرتا ہے۔ یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ آزادی صرف حقوق کا نام نہیں بلکہ خون اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ تحریر صرف ماضی یا موجودہ حالات کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ ایک پیغام بھی ہے پاکستانی ریاست کی ظلم و ستم کی دیکھی گئی تاریخ، جبری لاپتہ نوجوان، اور بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ہماری بیداری کا پیغام۔ ہر شہید کی قربانی ایک چنگاری ہے جو مستقبل کی آزادی کے لئے جل رہی ہے۔ شہادت کا جذبہ صرف موت کا خوف ختم کر دیتا ہے۔ جب ایک سپاہی کہتا ہے: “اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شہادت نصیب فرمائے”، وہ نہ صرف اپنے ایمان کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اپنی قوم کے لیے اپنی محبت کا اعلانیہ کرتا ہے۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ قربانی کا مطلب صرف جان کا نذر ہونا نہیں، بلکہ اپنے وطن، اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں کے حق میں کھڑے رہنے کا نام ہے۔ آج جب ہم بلوچستان کے سرزمین پر نظر ڈالتے ہیں، ہم ہر پہاڑ، ہر وادی، اور ہر شہر میں قربانیوں کی صدائیں سنتے ہیں۔ یہ قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ آزادی ایک نعمت نہیں، بلکہ ایک جدو جہد ہے، اور ہر قدم جس میں خون بہا ہے، وہ قدم ہمیں آزاد مستقبل کی طرف لے جارہا ہیں ، بلوچ سپاہیوں کی قربانیاں، ان کی ہمت اور ان کا عزم ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حقیقی آزادی کے لیے قربانی سے بڑھ کر کوئی قیمت نہیں ہے، اور ہر شہید کی جان، ہر بہایا گیا خون، ایک نئے بلوچ مستقبل کی ضمانت ہے۔ شہادت محض موت نہیں، بلکہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت اور سب سے عظیم قربانی ہے۔ اور یہی وہ سبق ہے جو ہر بلوچ خاندان، اور ہر بلوچ نوجوان کو یاد رکھنا چاہیے: آزادی کی قیمت ہمیشہ قربانیوں سے ادا کی جاتی ہے، اور یہ قربانیاں ہماری شناخت، ہماری عزت اور ہمارے حق کی ضمانت ہیں ۔ ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، چاہے وہ جان کی ہو یا مال کی، کیونکہ ہماری محبت اور وفاداری اپنے وطن اور اپنے بھائیوں کے لیے بے مثال ہے۔ ہر شہید کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے اور ہر قطرۂ خون ہمیں آزادی کے قریب لے جاتا ہے۔