اکثر و بیشتر  یمارے پرانے دور کے تجزیے شاید آج کل کے تجزیوں سے الگ سلگ لگتے ہونگے۔ اس میں شاید عمر, علم اور تجربہ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ میں اکثر و بیشتر سوچھا کرتا تھا اور اکثر یمارے دوست بھی اس بات سے متفق ہوتے تھے اور کچھ آج بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ آگر پنجاب میں ریاستی قوم پرستی کی جگہ پنجابی قوم پرستی آجائے تو شاید پنجاب کی شخصیت میں سدھار آجائے۔شاید ڈاکٹر صبیہ صاحبہ سے لے کر اکثر گراونڈ پولیٹکس کے بندوں سے سننے کو ملا ہوگا کسی نہ کسی پلیٹ فارم کے ذریعے۔ خیر اس مباحثہ کو لے چلتے ہیں قوم پرستی کی ان بنیادوں کی طرف جہاں ایک طاقت ور میں اور ایک کمزور میں کیا فرق آجاتا ہے گر وہ ریاستی قوم پرستی کو اپنانے کی جگہ اپنی شخصی شناخت و قوم پرستی کو اپنانے میں اجتماعی طور پہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور ایک بڑے پیمانے پہ اس کو ادارکی طریقے سے اپنے سماجی اموار میں جذب کرلیتا ہے۔

قوم پرستی اور مذہب پرستی، علم سماجیات کے ترمیمات میں سب سے پرانی ترمیم ہے جسے آج تک کوئی بھی سماج اپنے اندر سے نکال کے باہر کرنے میں کامیاب نہ رہا۔ ان ہزاروں سالوں میں شاید ہی کوئی فلسفہ محدود رہا اور قدیم پنوں میں فنا ہوگیا، شاید کمیونسٹ،  سوشلسٹ ،نیلسٹ، انارکیسٹ اور دوسرے قدیم فارسی اور یونانی افسانے، نظام ء عقائد و اصول،  اور  ہر طرح کی اجتماہی نظریات غیرموثر ہوگئے۔ مگر سماج نے قوم پرستی اور مذہب پرستی کو محدث زمانہ و مکان کے مطابق چلایا۔ ہر زمانے میں اس میں ترمیمات لاتے گئے اور پروان چڑھاتے گئے ۔ البتہ روایتی قوم پرستی سے لے کر جدید قوم پرستی تک، سماج نے اپنے زاویوں کے مطابق ان میں تبدیلیاں لائی۔ ان میں بے سرحد قوم پرستی سے لے کر سرحدی قوم پرستی شامل ہے جو جدید قوم پرستی کو عموماً 1789 میں ہونے والی فرانس کی انقلاب کے بعد ابھرتی ہوئی تصور کرتے ہیں نہ کہ براہ راست 1648 میں ہونے والے ویسٹفیلِیا کے امن سے، البتہ ترمیمات کی حد یہاں تک نہیں رکھی۔

اب پھر سے بے سرحد قوم پرستی کو پھر سے ایک صورتحال کا سامنا کرنا پڑھا جب جمال ناصر نے مصر میں ) Pan-Arab) pan-natioalism)پین نیشنلزم کا نعرہ بلند کیا۔ stateless nationalism کی بنیادے واپس اپنے روایتی انداز میں آگئی تھی مگر اس میں جدید قوم پرستی کے عوامل بھی ابھر چکے تھے جس میں مختلف نظریات نے اس اپنی روح  پھونک دی تھی،  جن کو اب socialist nationalism, لیبرل نیشنلیزم وغیرہ جیسے الفاظون کے ساتھ اپنے نظریات کو پروان چڑھانے میں لگ گئے، مگر نیشنلزم کی ساخت چیلنج کو نہ کرسکے۔ جب کوئی شخص ریاستی قوم پرستی اور اپنی امپیریل شناخت کو اپنانا شروع کرتا ہے، تو یہ صرف اقلیتی گروپوں کے لیے ثقافتی تنہائی اور امتیازی سلوک کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اجتماعی سایڈ ازم (collective sadism) کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں، اکثریتی گروہ اپنے طاقتور مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اقلیتی گروپوں کی تکالیف کو خوشی یا تسکین کے طور پر دیکھ سکتے ہیں، جس سے ظلم اور استحصال کے عمل کو مزید جائز اور معمولی بنا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروپوں کو سیاسی، سماجی، اور ثقافتی سطح پر مزید ذلیل کیا جاتا ہے، جس سے پورے معاشرے میں نفرت  بڑھتی ہے۔ قوم پرستی میں موریلٹی ہمیشہ سطح اول پہ کردار ادا کرتی ہے جس کلچر میں انسانیت، اخلاقیات و اپنے رسم و رواج کے عین مطابق اپنوں اور دوسروں کے ساتھ سماجی تعلقات کو تعمیری رویہ کے بنیاد پہ رکھ کے نہیں دیکھا جاتا وہ فقط بغیر رسم و رسومات اور سماجی زاویوں کے اپنے راستے طے کرتے ہیں وہ شاید نفسیاتی بنیادوں،  خواہشات، بے حسی، شیطانی لطف،  نفس کی زورانک وری ، کمزور پہ تشدد میں سکون یا معاشرے کے برعکس حرکات اور عادات پہ مشتمل ہوتی ہے۔ جو آج کل پنجابی معاشرے میں زیادہ ملنے کو ملتی ہے جہاں اسلامی،  انسانی، اور  اخلاقی پستی کی بے جاہ مثالیں ملتی ہے ، باپ کا بیٹی سے زبردستی، بھاہی کا بہن سے، قبروں سے نکال کے عورتوں کی عصمتداری، دو ماہ کے بچی سے لے کر سستر سال کے عورت کو زنا و جبر کا نشانہ بنانے تک کی خبرین شامل ہیں ۔ حرام جانوروں کے گوشت کا سودا اور لوگوں کو کہلانا، میتوں سے جائداد کے کاغذات پہ انگھٹے لگوانا ، لاشوں کو کاٹ کر کھانا ، اپنے بہنوں اور بیٹیوں  کو چند روپوں کے عوض جسم فروشی کے دندوں پہ لگانا۔ دو سو سے زاہد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانا اور ان کے والدین کو ویڈیو دیکھا کے بلیک میل کرنا، ہر سماجی جرائم جو یمارے معاشرے میں کوہئ سوچ بھی نہیں سکتا ہر دن پنجاب کے اخباروں کی زینت بنی ہوتی ہیں۔

رویہیت (Behaviorism) ایک نفسیاتی نظریہ ہے جو انسانی اور حیوانی رویے کو مشاہدہ اور ماحولیاتی اثرات کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، تمام رویے سیکھے جاتے ہیں اور انہیں مثبت یا منفی نتائج کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس میں ایک   اسلاف/ اباواجداد سے جینیاتی وراثت میں ملتا ہے، چند جدید دور کے لالچ اور خواہشات سے، مگر رویہیت کو انفراد تک محدود نہیں کرتا بلکہ اجتماعیت کا جز بنا دیتا ہے۔ اس وقت  بلوچ اور پنجاب کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے تو وہ ادراکی  رویہیت کا ہیں جو بلوچ نے وراثت میں کہی ہزاروں سالوں سے سنبھال کے رکھی ہے۔  اور اگر کوئی فرد اس کے خلاف جاتا ہے تو اس محاشرے میں وہ اپنا اور اپنے لوگوں تک کے لیے رسوائی کی علامت بن جاتا ہے اور اپنی وجودیت کھو بیٹھتا ہیں۔

قوم پرستی اور پنجاب پہ جو پہلے پیراگراف میں زکر کر چکے ہیں ،  کہ اگر پنجاب میں پنجابی قوم پرستی کے آثار آجائے  تو اس کے بلوچ محاشرے پہ کیا مرکبات ہوسکتے ہیں ؟ شروع اول سے ریاست نے استحصالی پنجابی سوچ کو  ریاستی بیانیاں اور طاقت کا سرچشمہ سمجھا ہے، یہی پنجابی سامراج کے کچھ آزاد خیال اور جدت پسند لوگ جو خود کو بگت سنگ کا پیروکار اور پنجابی نظریہ کے رہبر تصور کرتے ہیں وہ بھی کہی نہ کہی بلوچستان کے معاملات میں آکے ریاستی اہلکار کا کردار ادا کرتے ہیں جن کو پنجاب میں سرخا، لبرلرڑ یا دوسرے ناموں سے بلایا جاتا ہے۔ اگر ان جیسے تعلیم یافتہ پنجابی بھی کہی نا کہی ریاستی بیانیوں کو اپنا مسکن سمھجتے ہیں اور پنجابی قوم پرستی کو ریاستی قوم پرستی کے ساتھ جھوڑ کر اپنی مفادات کی پٹڑی پہ چلتے رہتے ہیں جس میں کہی بلوچ ان کی غلط تجزیوں کی وجہ سے ریاستی دہشتگردی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔تو اگر پنجاب میں پنجابی قوم پرستی جو ریاستی قوم پرستی کی تھوڑ و جھوڑ سے بنی گئ ہو ان بے شعور اور پنجابی رویہیت پسندی کے اسباب سے جن کا ذکر پنجابی مزاج سے ہیں جو اپنی ماں بہن تک کے فرق سے نالاں ہیں تو سمجھو وہ بلوچ کے مفاد میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ریاست اپنی بیانیاں ان کی اور اپنی مزاج کے بناہے  مکان سے  اپنا ردعمل بناہے رکھتی ہیں،  ریاست کے لیے بلوچ کسئ قربانی کے بکرے سے کم نہیں۔  اور ریاستی بیانیاں پنجابی سپورٹ اور ان کی مدد کہ بنا کچھ نہیں۔

اکثر کہتے ہیں کہ بلوچستان میں مداخلت عام پنجابی نہیں بلکہ پنجابی establishment,  Mafia and elite کرتی ہیں تو یہ سراسر جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے بنیاد پہ بنائ گئ ہے۔ پنجاب کا ہر فرد جس کے ہاتھ میں فرعون کا جنڈہ ہوتا ہے چاہے وہ کوئی (کولی کیمپ کوئٹہ ) کے کسی زندان میں صاف صفائی والا بھی ہو اپنا ظلم و ستم کا چیرہ ڈنڈے مار کر یا تھوک کر مظلوم کو دیکھاتا ہے، اور ہر کوئ اپنی اوسط کے مطابق اس جرم کا مداری بنا پر رہا ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کو جنونیت کی حد تک بلوچ کو قتل ، بے عزت کرنے یا  اذیت دینے میں سکون اور لطف محسوس ہوتا ہیں۔ اس اجتماعی کیفیت کو علوم نفسیات میں collective sadism کہتے ہیں۔ فروم “معمولی” معاشرت اور ایسی معاشرت کے درمیان فرق کرتے ہیں جو تخریبی رجحانات کو فروغ دیتی ہے۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جابرانہ نظاموں (جیسے فاشسٹ حکومتوں) میں لوگ اپنے شناخت یا طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے اجتماعی سادیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔ فروم کے مطابق، دوسروں کے دکھوں سے حاصل ہونے والی لذت ایک احساسِ قابو، طاقت، اور اپنی خوفوں اور عدم تحفظات سے ایک قسم کی بھاگنے کی شکل ہوتی ہے۔ اسی طرح سارتر کا تصور “بدگمانی”—جو ایک خود فریبی ہے جس میں لوگ آزادی اور ذمہ داری کے اضطراب سے بچنے کے لیے ملوث ہوتے ہیں—یہ وضاحت فراہم کرتا ہے کہ کیوں گروپ میں افراد سادیستی اعمال(sadistic behaviour) میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ ذمہ داری کو دوسروں پر ڈال دیتے ہیں، اس طرح اپنے گناہ کو کم کر لیتے ہیں۔ ایک اجتماعی سیاق و سباق میں، یہ بدگمانی پھیل سکتی ہے، اور قومی شناخت، فرض، یا تاریخی شکایت کے بہانے تشدد کے اعمال کو جواز بخشا جا سکتا ہے۔ سارتر کے وجودی فلسفے کے مطابق، اجتماعی سادیت اس ضرورت سے ابھرتی ہے کہ گروہ دوسروں پر اپنی طاقت کو مستحکم کرے، چاہے اس کے لیے اخلاقی انحطاط کی قیمت بھی چکانی پڑے۔

اور state nationalism کے ساتھ پنجابی nationalism اب بھی روان دوان ہیں مگر وہ ہر عام و خاص شخص نہیں دیکھنا چاہتا اگر کچھ کو لگتا ہے پنجابی نیشنلزم کا مطلب پختون نیشنلزم ہے تو وہ ان کی بھول ہے، پختون خود مظاوم ہے اور ان کے روایات بھی اعلی طرز کے قوموں کے ہیں،  البتہ پنجابی طاقت ور و ظالم  ذہنیت کی عکاسی کرتا ہیں اور جابرانہ نظام کا سرچشمہ بھی اس کے وجود سے جڑ سی گئی ہیں ، جو 3 لاکھ بنگالی عورتوں کو ایک انسان تک تصور نہ کرسکا اور بیانیاں بناتا رہا کہ یہ جانور سے بدتر ہے ان کو مارو اور ان کی عورتوں کی عصمتداری کرو اور ان پہ اور ظلم کرو، ان پنجابی saddists کو جب مظلوم کی طرف سے لات پڑھتی ہے تو اسلام کے لبادے کو اوڑھنے میں چند منٹ بھی نہیں لگاتے۔ ایک شخص جو سادیسٹک رویہ اختیار کرتا ہے (دوسروں کو تکلیف یا اذیت دینے سے لطف اندوز ہوتا ہے) لیکن جب وہ خود اسی صورتحال کا سامنا کرتا ہے تو معافی مانگتا ہے یا روتا ہے، اسے منافقت (Hypocrisy) یا خود پسند (Narcissism) کہا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ عموماً ہمدردی کی کمی (Lack of Empathy) اور دوہری معیار (Double Standard) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس شخص کے اندر کگنیٹو ڈسونیسیس (Cognitive Dissonance) (ذہنی تضاد) بھی ہو سکتا ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ متضاد خیالات رکھتا ہے، جیسے دوسروں سے تکلیف برداشت کرنے کی توقع رکھنا جبکہ خود اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اگر یہ رویہ انتہائی ہو تو یہ جذباتی پختگی کی کمی (Lack of Emotional Maturity) یا خود شناسی کی کمی (Lack of Self-Awareness) کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ یہ طرز عمل پنجابیوں میں اجتماعی طور پہ کثرت میں پائی جاتی ہیں،  جو کبھی ناہئ، موچی، مزدور، یا کسی اور شکل میں بلوچستان میں بے شمار پاہے جاتے ہیں اور لات پڑنے پر *sarcastic injury* کا شکار ہوجاتے ہیں۔