ہمارا المیہ یونانی المیہ کی طرح نہیں ہے ،جہاں الم و دکھ جمالیاتی حسن کے طور پہ نکھرتا ہے، بلکہ ہمارا الم جدید المیہ سے بھی آگے بڑھ کر اذیت کی شکل اختیار کرلیتاہے۔ داستان لمبی ہے ۔۔۔۔۔۔
“جیسا کہ ہیگل نے کہا تھا: المیہ صحیح اور غلط کے تصادم کا نہیں بلکہ صحیح اور صحیح کے تصادم کا نام ہے،” ہم میں سے کوئی بھی، جو تاریخ میں حصہ لینا چاہتا ہے، اس مخمصے شائد ہی بچ پاۓ۔
کیا کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ قومی آزادی کی جنگ میں، جنہیں مل کر قربانیاں دینی تھیں، وہ ایک ساتھ مل کر بیٹھنا بھی گوارا نہ کریں گے؟ یقینا، کسی نے ایسا نہ سوچا ہوگا۔ مگر ایک قلم کار مہر افلاک کے نام سے یہ ضرور لکھا جب بی ایل اے کے ہوتے ہوۓ ایک اور قومی مسلح تنظیم کی بنیاد رکھی جارہی تھی کہ “تاریخ میں تقسیم کے اس جرم میں ہم شریک نہیں ”۔ وقت گزرتا گیا اور ایک اور جہدکاراسلم بلوچ کو لکھنا پڑا: “مجھے حیرت ہوئی کہ پہلی بار جب بولان کے پہاڑوں میں ہمیں کہا گیا کہ “یہ کارروائیاں بی ایل اے نے نہیں ہماری تنظیم نے کی ہیں۔”
داستاں لمبی ہے۔۔۔ سدو مری جب شال سے مکران بڑے جوش و جذبے اور ولولے سے نکلا تو اسے کیا خبر تھی کہ داستان اتنی طویل ہوگی اور اس پر ایسی خاموشی چھائ ہو گی کہ کوئی پوچھنے والا بھی نہ ملے گا۔ نہ کوئی یہ سوال کرے گا کہ جن سروں کو اتنی قربانیوں کے بعد اپنے لوگوں کے لیے عجز و انکساری کا مثال ہونا تھا، ان گردنوں میں لوہے کی سریا کہاں سے آگئی ؟ کہ اب کوئی ایک ساتھ بیٹھنے پر بھی آمادہ نہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک سنگت دوسرے سنگت کے کیمپ میں کئی ماہ گزارتا رہا، صرف اس لیے کہ مل بیٹھ سکے ، بات چیت کا کوئ دروازہ کھل سکے ، لیکن پھر بھی بات نہ بنی ، شومئی قسمت کہ تاریخ نے اپنے آپ کو کسی اور انداز سے دُہرایا کہ آج وہی سنگت، جو کبھی دوسروں کو بات کروانے مہینوں دوسرے کیمپوں میں گذارتا تھا خود اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں جا بیٹھا ہے اور ایک ساتھ مل بیٹھنے کو تیار نہیں۔
داستاں لمبی ہے۔۔۔۔۔ عام بلوچ کو خبر ہی نہیں کہ جذبہ ایک ہے ، خواب ایک ہے ، خون ایک ہے ، فکر ایک ہے مگر سب کچھ تقسیم ہے، اوپر سے لے کر نیچے تک سیاسی مورچوں سے لے عسکری محازوں تک سب ایک ایک کرکے بٹ چکے ہیں ، پرچار کرنے والے تقسیم ہیں ، یکجتی کے نام پہ زندہ لوگوں میں سے کس کے لیے موثر آواز اٹھانی ہے کس کے لیے نہیں ، یہ بھی تقسیم ہے ، ایک ہی صف میں رکھی ہوئ خاموش لاشیں تقسیم ہیں ، سول ہسپتال میں پڑی ہوئ “چھ لاشوں” کے لیے “پانچ تابوت” یعنی ان لاشوں کو کندھا دینے والے بھی تقسیم ہیں ، یہاں تک زمین پہ جان نچھاور کرنے والے شہدا کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے، کن پر ناز کر کے گیت لکھنا ہے کن کو فراموش کرنا ہے ، کن کے لیے گیت گانا ہے کن کے لئے لب سی لینی ہے، یعنی شعراء تقسیم ہیں ،گلوگار تقسیم ہیں ، خون ایک ہے ، جذبہ ایک ہے ، قربانی ایک ہے ، خواب ایک ہے ، خواب گر ایک ہے ،مگر قافلے جدا جدا ہیں راستے الگ الگ ہیں۔ داستان لمبی ہے ۔۔۔۔۔ یہ نہیں کہ بیٹھا نہیں جا سکتا ، یہ نہیں کہ اذہان جوڑے نہیں جا سکتے ، یہ نہیں کہ قافلے و راستے ایک نہیں ہو سکتے ، یہ نہیں کہ ریاست بلوچ کہہ کر زندہ لوگوں کو اٹھا ۓ اور ہم ان سب کے لیے بلا تفریق موثر آواز نہ اُٹھاسکیں ، یہ نہیں کہ جان دینے والوں کی لاشیں گر ایک ہی صف میں رکھی ہو تو سب کے لیے بلاتفریق تابوت کا انتظام نہیں ہوسکیں ، یہ نہیں کہ شہدا کے لیے شعراء و گلوگار بلاتفریق لکھ اور گا نہ سکیں ، جب سرکار کے بندوں کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے ،ان سے وصولی کی جاسکتی ہے ،جب ڈیتھ اسکواڈز کے درندوں سے بات چیت کا دروازہ کھل سکتا ہے ، تو پھر اپنوں سے کیوں نہیں؟ یہاں کون سی دیوار حائل ہے ، یہاں کون سا دروازہ بند ہے جو کھولا نہیں جاسکتا؟ کہئں یہاں مزاج کی دیوار تو حائل نہیں کہ اُس پار کوئ مقابلہ نہیں اس لیے سرکاری کارندے سے لے کر سرکاری سردار تک سے بات ہوسکتی ہے، قاتل درندوں کو چھوٹ دی جاسکتی ہے ، اور اِس پار مقابلہ ہے بقول نواب ھیر بگش مری “کہیں بگٹی مجھ پر حاوی نہ ہوجائے، انگریز آۓ یا پنجاب مجھے غلام بنا لے، میری برابری تو بگٹی سے ہے، ابھی تک یہی خامیاں ہیں.”
داستان لمبی ہے ۔۔۔۔۔ عام بلوچ کو خبر نہیں لیکن انٹرنیشنل بلاگس کو پتہ ہے ، ان کو بھی قابض ریاست کی طرح عام بلوچ سے غرض نہیں بلوچستان سے غرض ہے، وہ سرد و گرم جنگ سے گذر چکے ہیں ، وہ سوچتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں ،وہ انسانی حقوق جیسے مفروضوں و نعروں پہ یقین نہیں رکھتے ، یہ جذباتی نعرے و مفروضےمحکوم کے لیے بناۓ گئے اسپیڈ بریکرز ہیں ، وہ تو گرتے بھی وہاں ہیں جہاں انہیں کوئ چیز دکھائ دے ، سوچنا ہمیں بھی ہے ، سمجھنا ہمیں بھی ہے ، کہ ہماری بات تقسیم میں موثر ہو سکتی ہے یا اتحاد میں ؟ اتحاد اتفاق ایک ہی راؤنڈ میں نہیں ہوتے ، اس کے لیے بار بار بیٹھنا پڑتا ہے ، بار بار سوچنا پڑتا ہے، اصول وضوابط طے ہوتے ہیں، حقیقت کے انکشافات ہمیشہ تکرار پذیر ہوتے ہیں ، پلٹ پلٹ کر دیکھنا ہوتا ہے ،انٹرنیشنل بلاگس نظریات و مفادات کی تقسیم میں بُری طرح سے بٹ کر بھی ایک میز پہ سر جوڑ کر بیٹھ سکتے ہیں تو ہم ایک جذبہ ، ایک خون ، اور ایک خواب لیے کیوں نہیں بیٹھ سکتے ؟ مختلف بلاکس کی تقسیم اپنی جگہ لیکن قربانی کا جزبہ ہمیں بٹھا سکتا ہے، گر ہم اپنی گردنوں سے لوہے کی سریا نکال کر احساس کی موم بھردے ، وگرنہ اس طرح مزید سو سال بھی لڑتے رہے ، صرف لڑتے اور مرتے رہینگے۔
“ جیسا کہ ہیگل نے کہا تھا: المیہ صحیح اور غلط کے تصادم کا نہیں بلکہ صحیح اور صحیح کے تصادم کا نام ہے”۔ ہم میں سے کوئی بھی، جو تاریخ میں حصہ لینا چاہتا ہے، اس مخمصے سے شاید ہی بچ پاۓ ناول نگار Viet Thanh Nguyen اپنے ناول The Sympotizer ہیگل کے اسی تصور کی بنیاد پہ نہ صرف دو مختلف نظریات بلکہ دو مخلف بلاکس کے تصادم کو المیہ کہا جسے عام دنیا خیر و شر اور صحیح و غلط کا تصادم سمجھتی ہے مگر ہم ایک ہو کر بھی اگر ایک نہیں اسے المیہ سے بڑھ کر اور کیا کہا جاسکتا ہے ؟
داستان لمبی ہے۔۔۔۔۔ مگر مختصرا یہ کہ مصنف کے گمان کے برخلاف “ کیا ہم اپنے آنے والی نسلوں کے لیے ایک لمحہ نکال کر سوچ سکتے ہیں کہ آنے والی نسلیں جب آذادی کی راہ کا انتخاب کریں اور تاریخ میں حصہ لینا چاہے تو اس مخمصے ،تذبذب اور کشمکش (صحیح اور صحیح کا تصادم ) و اذیت سے بچ سکیں ؟” کیونکہ المیہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں “انتخاب” اور” ناگزیر انجام” آپس میں ٹکراتے ہیں۔
ہم تو جی بھی نہیں سکے اک ساتھ ہم کو تو اک ساتھ مرنا تھا















