کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم جس نظریے، جماعت، یا جدوجہد سے وابستہ ہیں، وہ واقعی قومی تحریک کے مفاد میں ہے، یا ہم محض گروہی سیاست کے اسیر ہیں؟
بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ قومی مفاد کے بجائے جماعتی اور گروہی وابستگی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ہمارے نظریاتی ساتھی اکثر “نظریات” کا نعرہ بلند کرتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہماری وابستگی واقعی کسی نظریے پر ہے یا محض یاری دوستی اور روایتی سیاسی کلچر کا نتیجہ ہے؟
اگر کوئی کسی جماعت سے وابستہ ہے، تو وہ زیادہ تر شخصی تعلقات اور گروہی مفادات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پھر انہیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ اپنی جماعت کا ہر حال میں دفاع کرو، چاہے اس سے قومی تحریک کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے، چاہے بلوچ تحریک ختم ہی کیوں نہ ہو جائے، مگر جماعت کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قومی سوچ محدود ہو کر گروہی سوچ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ جماعتیں بنی کس لیے تھیں؟
اگر مقصد واقعی قومی آزادی ہے، تو پھر جماعتی وفاداری قومی مفاد پر غالب کیوں آ جاتی ہے؟ کیوں بعض لوگ اپنی جماعت کو بچانے کے لیے قومی تحریک کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ “حیربیار مری کسی کو نہیں مانتے، اسی لیے سب ان سے اختلاف کرتے ہیں۔” مگر حقیقت یہ نہیں ہے۔
حیربیار مری کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے:
“میرے لیے کسی جماعت کی کوئی اہمیت نہیں، قومی تحریک سب سے مقدم ہے۔”
وہ 2000 سے بلوچ قومی تحریک کا حصہ ہیں، اور جو تحریک 2000 میں شروع ہوئی، وہ کسی حد تک انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ مگر انہوں نے کبھی اپنی جماعت نہیں بنائی، کیونکہ ان کے لیے جماعت سے زیادہ قومی تحریک اہم ہے۔
جب غلام محمد بلوچ کی قیادت میں بی این ایم ایک مضبوط جماعت تھی، تو تمام بلوچ اس کے سائے تلے متحد تھے۔ لیکن غلام محمد بلوچ کی شہادت کے بعد کچھ سیاسی سرداروں نے اس جماعت پر قبضہ کر لیا اور اسے قومی سوچ سے ہٹا کر گروہی سیاست میں تبدیل کر دیا۔
یہ وہ وقت تھا جب حیربیار مری نے محسوس کیا کہ بلوچ نوجوانوں کو گروہی سیاست سے نکال کر ایک وسیع قومی تحریک سے جوڑنا ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایف بی ایم (فری بلوچستان موومنٹ) کی بنیاد رکھی۔
تحریک پر جماعت کو فوقیت کیوں؟
یہ ایک سوال ہے جو ہر باشعور بلوچ کو خود سے پوچھنا چاہیے:
اگر جماعت کا مقصد قومی آزادی ہے، تو پھر جماعت قومی تحریک سے زیادہ اہم کیوں بن جاتی ہے؟
کیوں بعض بلوچ رہنما اپنی جماعت کی بقا کے لیے قومی تحریک کو کمزور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے؟
کیا ہم واقعی ایک آزاد بلوچ ریاست کے لیے کام کر رہے ہیں، یا محض ایک مخصوص گروہ یا شخصیت کے دفاع میں لگے ہوئے ہیں؟
کئی بار حیربیار مری کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ کبھی جھکے نہیں، کیونکہ ان کے لیے جماعت سے زیادہ قومی تحریک اہم ہے۔ جو لوگ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، انہوں نے قومی تحریک کے لیے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور انہیں روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
یہی وہ چیز ہے جو ایک نظریاتی قومی رہنما اور ایک گروہی سیاستدان میں فرق پیدا کرتی ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم بلوچ قومی تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں یا گروہی سیاست کے!
(نوٹ: مصنف کے خیالات کے ساتھ ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)