یہ بات ہم سب کو کھلے دل سے، پوری ایمانداری اور ذہنی دیانت کے ساتھ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر سیاست ہم بلوچ اور بلوچستان کے نام پر کر رہے ہیں، تو اس سیاست میں اول و آخر بلوچ کا قومی مفاد ٹھہرے گا۔ اور وہ مفاد محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کی اجتماعی غیرت، شناخت اور بقا کا نام ہے۔
جب ہم بلوچ اور بلوچستان کی بات کرتے ہیں، تو مقدم بلوچ کا تشخص ہوگا۔ وہ شناخت جو صدیوں پر محیط جدوجہد، قربانیوں اور مزاحمت سے بنی ہے۔ لہٰذا، ہر وہ قوت جو اس قومی مفاد اور اس شناخت کو نقصان پہنچا رہی ہے وہ دشمن ٹھہرے گی، اور ان کے علاوہ جو بھی اقوام، ممالک یا قوتیں ہیں، ان کو ہمیں اپنی جدوجہد میں ممکنہ دوست کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور ان سے نہ صرف ربط و روابط بڑھانے کی سعی میں رہنا چاہیے بلکہ اپنی قوم کا مقدمہ ان تک پہنچانا چاہیے اور ان کو قائل کرنا چاہیے کہ وہ اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔
دشمن کو اگر کوئی بھی طاقت کمزور کرے تو پھر سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ طاقت کون ہے، سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس کا عمل بلوچ کے حق میں ہے یا نہیں؟ اگر ایران اور پاکستان جیسے قابض ریاستیں بزور شمشیر بلوچ کی زمین، وسائل اور زندگی پر مسلط ہیں، تو جو بھی قوت ان کا ہاتھ مروڑے، چاہے وہ ہندوستان ہو، اسرائیل ہو یا امریکہ، اگر وہ قابض کو زک پہنچاتے ہیں، ان کے ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہیں، ان کے نظام کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں، تو ہم کیوں نہ ان کے اس اقدام کو قومی مفاد میں مثبت سمجھیں؟ اور ان کے سامنے اپنا قومی مقدمہ بھی پیش کریں؟ ہم کیوں بطور ایک جدوجہد کرتی ہوئی قوم، دنیا کی ان طاقتوں سے رشتہ نہیں رکھ سکتے جو ہمارے دشمنوں کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں؟
اور رہی بات حبِ علی اور بغضِ معاویہ کی، تو بابا مری برسوں پہلے ایک پشتون سنگت کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بات واضح الفاظ میں سمجھا چکے ہیں کہ اگر کوئی قوت پاکستان یا ایران کے بغض میں ہم سے دوستی یا معاونت کرتی ہے تو ”اس کو قبول کرنا فرض ہے، یہ خیال رکھتے ہوئے کہ ہم کچھ گروی نہ رکھ رہے ہوں“۔ بابا مری تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ “حبِ علی جیسا کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی، آج کی دنیا میں تعلقات مفادات کی بنیاد پر بنتے ہیں، اور یہی حقیقت ہے۔ ایک زندہ قوم وہی ہے جو اپنے مفادات کی پہچان رکھتی ہو اور اُن کے لیے درست وقت پر درست جگہ کھڑی ہو سکے۔”
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ کچھ لوگ جو قوم پرستی، حب الوطنی، اور وطن دوستی کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے، وہی سوشل میڈیا پر قابضین کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر، ان کی حرکتیں دیکھ کر مجھے “دخترِ بلوچستان” اور “مسٹر پاکستانی” جیسے سوشل میڈیا ٹاؤٹس یاد آتے ہیں جو بلوچ قومی بیانیے کو داغدار کرنے اور توڑ مروڑ کر پاکستانی عوام کو جمعہ خان بنانے کی بھرپور کوشش کرتے رہتے ہیں۔ قوم پرستی اور وطن دوستی کے دعویداروں کی ان باتوں اور حرکتوں کو دیکھ کر مجھے بے اختیار ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ کتنی بے شرمی کی بات ہے کہ جب کوئی قوم اپنے قاتل کے گیت گائے اور شادمانی کرے۔
یاد رکھیں، ایک سچا قوم پرست اپنی غیرت دشمن کے قدموں میں نہیں رکھتا۔ ایک باشعور وطن دوست دو وقت کی روٹی اور چھت کے عوض “مکہ ءُ ماتیں سرڈگار” کو گروی نہیں رکھتا۔ جو خود کو قوم پرست کہتا ہے، وہ دشمن کا ایڈورٹائزنگ بورڈ نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی قوم پرست اپنے قومی مقدمے کو دنیا کے ایوانوں تک پہنچانے میں مصروفِ عمل رہتا ہے۔ وہ دنیا کے میڈیا، انسانی حقوق کے اداروں، اور سفارتی حلقوں میں بلوچ کا مقدمہ لے کر جاتا ہے اور جو بھی اس راہ میں ہمنوا بن سکتا ہے، اُس سے اتحاد کی راہیں تلاش کرتا ہے۔
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم “دخترِ بلوچستان” اور “مسٹر پاکستانی” بن کر مزاحمت کا مذاق بنائیں گے؟ یا پھر قوم پرستی کو اس کی اصل روح، غیرت، اور بصیرت کے ساتھ اپنائیں گے؟ اگر واقعی ہم قوم پرست اور وطن دوست ہیں، تو ہمیں اپنی شناخت کی حفاظت کے لیے دشمن کی صفوں کو پہچاننا ہوگا، اور اپنے مفاد کے مطابق دوست بنانے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہوگا۔ اب وقت ہے کہ ہم صرف نعرے نہ لگائیں، بلکہ اپنی فکر، حکمت عملی، اور تعلقات کو بلوچ قومی مفاد کے تابع بنا کر نئی سفارتی راہیں ہموار کریں۔















