ماجبین بلوچ ایک طالبہ تھیں جنہیں پاکستانی ریاست نے جبراً لاپتہ کر دیا۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی گمشدگی نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کی اجتماعی تذلیل ہے۔ بلوچ معاشرے میں بیٹی کو عزت، وقار اور قوم کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اور جبری گمشدگی کے اس ظالمانہ عمل نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ریاست بلوچ قوم کے ناموس تک کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتی۔ ‎ایک نہتی اور بے گناہ لڑکی کو اغوا کرنا اس بزدلانہ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ طاقتور فوجی قوت کے باوجود ریاست بلوچ عوام کے حقِ خود ارادیت سے خوفزدہ ہے۔ یہ خوف ہی ہے جو اسے طالبات، ماں بہنوں اور نہتے شہریوں کو اندھیروں میں دھکیلنے پر مجبور کرتا ہے۔ ‎آج بلوچ بیٹیاں صرف گھروں کی زینت نہیں رہیں بلکہ مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔ وہ اپنے بھائیوں اور ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں، گلی کوچوں اور چوکوں میں ان کے ہاتھوں میں اٹھے پلے کارڈز پر ایک ہی صدا درج ہوتی ہے: ‎“ہمارے لاپتہ افراد کو بازیاب کرو!” ‎یہ صدا صرف ماجبین بلوچ کے لیے نہیں بلکہ ان تمام بے گناہ بلوچ بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے ہے جنہیں جبراً غائب کیا گیا ہے۔ ‎بلوچ خواتین ہمیشہ سے اپنی غیرت، وقار اور قربانی کے لیے پہچانی جاتی رہی ہیں۔ آج بھی وہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مسلسل جبر کے باوجود خاموش نہیں بلکہ مزید مضبوط اور پرعزم ہو چکی ہیں۔ ان کی جدوجہد صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہی بلکہ فکری، نظریاتی اور تخلیقی میدانوں میں بھی جاری ہے۔ وہ قلم کو ہتھیار اور آواز کو مزاحمت بنا کر دنیا کے سامنے اپنی سچائی بیان کر رہی ہیں۔ ‎ریاست کو سوچنا ہوگا کہ کب تک وہ بیٹیوں کو اغوا کر کے ان کی آواز دبانے کی کوشش کرے گی؟ کب تک گھروں سے نوجوانوں کو لاپتہ کر کے بلوچ عزم کو توڑنے کی سازش کرے گی؟ تاریخ نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے تو وہ اپنے زوال کا آغاز خود کر دیتا ہے۔ ‎ماجبین بلوچ صرف ایک گمشدہ بیٹی کا نام نہیں بلکہ ایک استعارہ ہے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کا، عزت و وقار کے تحفظ کا، اور اس امید کا کہ انصاف کی صبح ضرور طلوع ہوگی۔ بلوچ قوم اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھڑی ہے، اور یہ مزاحمت اُس دن تک جاری رہے گی جب تک غلامی اور جبر کی زنجیریں ٹوٹ نہ جائی