تحریر: ثناء بلوچ
ہنگام کالم:
قریب 15 16 سال قبل جب ہم چھوٹے بچے تھے اور سارہ دن اسی انتظار میں بیٹھے رہتے کہ کب سورج ڈوبے اور ماموں جان آکر ہمیں کہانیاں سنائیں۔ یاد ہے مجھے ان دنوں ماموں اکثر ایک لومڑی کی کہانی سنایا کرتے تھے جہاں ایک لومڑی بات کیا کرتی تھی، اس کے پاس بھیڑوں کا ایک ریوڑ تھا اور روز انہیں چرانے جاتا تھا۔ میں ہر بار ماموں سے معصومانہ انداز میں یہ سوال پوچھتا کہ ماموں لومڑی تو بات نہیں کرسکتی اور نہ ہی بھیڑ چرا سکتی ہے تو یہ کہانی سچ کیسے ہوسکتی ہے اور ماموں یہ کہہ کر بات ٹال دیتے کہ پرانے زمانے میں جانور باتیں کرسکتے تھے۔
گزشتہ روز برز کوہی کی ایک تحریر سامنے سے گزری تو پتہ چلا کہ ہماری تحریک میں صرف چیف، میجر و ماسٹر مائنڈ نہیں بلکہ ماموں بھی بھرے پڑے ہیں۔ ماموں جان نے کیا کہانی لکھی تھی، اس کہانی کے بدلے میری طرف سے ماموں جان کو 21 توپوں کی سلامی۔ مگر ماموں کہانی لکھتے ہوئے ایک بات بھول گئے کہ بچے اب بڑے ہوگئے ہیں اب صرف جھوٹی کہانیوں سے انہیں نہیں بہکایا جاسکتا۔ اب وہ کہانیوں پر نہیں بلکہ حقیقت پر یقین رکھتے ہیں وہ سچ و دلیل چاہتے ہیں۔ماموں جان اپنے کیے ہوے غلط اعمال کا منفی نتیجہ اور زیرو آوٹ پٹ دیکھ کر اس قدر بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہی پیر پر ہی کھلاڑی دے ماری، وہ کہتے ہیں نا “Excess of everything is bad” بس یہی بات ماموں جان سمجھنے سے قاصر رہے اور دھماً دھن پھینکتے چلے گئے۔
تو چلیں ماموں سے انہی کی لکھی تحریر کے حوالے سے کچھ سوال پوچھتے ہیں اور گزرے وقت کے کچھ پننے بھی پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ گلاٹی ماسٹر نے کہاں کونسی گلاٹی ماری۔ملاحظہ فرمائیے گا، ماموں جان لکھتے ہیں کہ ” آپسی و نام نہاد احتسابی جنگ کے نام پر مری بلوچوں کے گھروں، گدانوں پر حملہ کیا گیا”
یہاں پر کچھ سوال پوچھنے کی گستاخی کروں گا، ایک تو یہ کہ بقول آپ کے نام نہاد احتسابی جنگ، یہ جنگ 2014 کو ہوئی تھی اور آج 2020 ہے تو ابھی سے 6 سال پہلے کیا آپ جھک مار رہے تھے؟ آیا ان باتوں کی ضرورت ابھی کیوں پیش آئی؟ اب جو بات سامنے آگئی ہے تو چلو ذرا کھل کے بات کی جائے۔ ماموں جان آپ کو یاد تو ہوگا کہ آپ، اسلم اور کچھ ساتھی BLA کی لیڈرشپ پر اس بات کا ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں کہ یو بی اے کے ساتھی ہم پر حملے کررہے ہیں۔ ہمارے راستوں پر لینڈ مائن بچھا رہے ہیں، ہمیں ان پر حملہ کرنا چاہیے اور وہیں پر اس جنگ کی شروعات ہوتی ہے، مگر خیر مجھے یقین ہے کہ آپ اس کو بھی جھوٹ کہیں گے لیکن میرا سوال ہے آپ سے کہ آپ کا کیا کردار تھا اس جنگ کے دوران؟ آج 6 سال بعد آپ روتے ہوئے آرہے ہیں کہ جناب میرا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا سب کچھ BLA کی لیڈرشپ نے کیا ہے۔ اگر آپ اور کچھ نہیں کرسکتے تھے تو بقول آپ کے ” یو بی اے جنگ کے دوران کچھ مری کمانڈروں نے جنگ سے انکار کردیا” تو ان مری کمانڈروں کی طرح آپ بھی اس بات سے انکاری ہوجاتے کہ میں اپنے لوگوں پر حملہ نہیں کروں گا۔ آپ نے تو الٹا اس بات پر زور دیا کہ جنگ کی جائے یو بی اے کے ساتھیوں پر حملہ کیا جائے، وہ مڈی چور ہیں، ہمارے دوستوں کے قاتل ہیں۔ جہاں مریوں نے جنگ سے انکار کردیا وہیں آپ کے استاد لانک باندھ کر جنگ کیلئے روانہ ہوئے اور بہت سی جگہ وہ اس جنگ کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کی واضح مثال ان کے خود کی لکھی ہوی تحریر “زامران مری کا موقف حقائق کے تناظر میں” لکھتے ہیں کہ یو بی اے ہم پر حملہ آور ہوا ہمارے ساتھیوں پر حملہ کیا، آج اپنی کہی ہوئی بات کے مطابق ایک پرائمری سکول بچے کی طرح کہہ رہے ہو کہ جی میں نہیں وہ پلان شخص تھا پلان نے ایسا کیا۔ اس کے علاوہ آپ کے اپنے استاد اپنی تحریر ” زامران مری کا موقف حقائق کے تناظر میں” میں لکھتے ہیں کہ ہمارے ساتھیوں پر جان لیوا حملے کیے گئے، کیا انہوں نے واقعی حملے کیے تھے؟ اگر حملے ہوئے تھے تو کیونکر ان کو چھوڑا جائے؟ وہ قومی مجرم ہیں اگر حملے نہیں کیے تو آپ کے استاد نے کیوں جھوٹ بولا؟ لیڈرشپ سمیت پوری بلوچ قوم کو دھوکے میں رکھا۔
اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یو بی اے اور بی ایل اے کے جنگ کی بنیادی وجہ آپ اور آپ کے استاد ہیں۔ آپ کے بقول سنگت حیربیار اس کی وجہ ہیں چلیں بحث کو آگے بڑھانے کے لئے آپ کی باتیں لیکر آگے چلتے ہیں۔ حیربیار نے حکم دیا اور جنگ شروع ہوئی، مگر دوسری طرف ہی آپ حیربیار کو شروع سے لیکر آخر تک کوئی کردار دینے کو تیار ہی نہیں ہیں اور ایک سانس میں ہی کہتے ہیں کہ بی ایل اے کی تمام ساخت استاد اسلم کی مرہون منت ہے۔ جب بی ایل اے استاد اسلم اور استاد اسلم بی ایل اے تو حیربیار اتنا طاقت ور کیسے ہوگیا کہ جنگ کروادی؟ دوسری بات آپ اس وقت کیوں خاموش تھے جب یہ سب کچھ ہوا؟ کیا اس وقت کی آپ کی خاموشی قومی جُرم نہیں کہ اتنا بڑا گناہ ہورہا تھا اور آپ اس گناہ کے ساتھی تھے؟ آپ کے بقول قبائلی، جاہل اور ناسمجھ مریوں نے جنگ سے انکار کیا مگر آپ جیسے پڑھے لکھے، تجربہ کار سیاست دان اس مسئلے کے نزاکت کو ہی سمجھنے سے قاصر رہے اور “بے دھڑک کود پڑے آتشِ نمرود میں عشق” کے مصداق شروع ہوگئے۔ معذرت نہ صرف شروع ہوئے بلکہ پانچ پانچ کلومیٹر لمبی تحریریں بھی لکھ ڈالیں۔
جو باتیں “چیپ صاحب” استاد اسلم اور آپ سب نے میڈیا میں آکر بلوچ قوم کے سامنے رکھیں، ان کے مطابق اگر وہ سچ ہیں تو آپ کے پاس کونسی ایسی ایک دلیل ہے کہ ایسے مجرموں کو احتساب کے سخت دائرے میں نہیں لایا جانا چاہئیے؟ اب جو باتیں آپ پبلک اور قوم کے سامنے رکھ رہے تھے تو یقیناً اندرونی اداروں میں تو اس سے بھی کئی گُنا زیادہ بھیانک باتیں رکھی ہونگی جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ اب جنگ کے بغیر کوئی دوسرا چارہ نہیں رہا بلکہ اب احتساب ہی واحد حل ہے۔ سنگت گہرام سمیت جتنے بھی ساتھی شہید ہوئے ان سب کی ذمہ داری کسی اور سے زیادہ آپ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ جس تقسیم کو آپ بغاوت کا نام دے رہے ہیں اور ادارے کی مضبوطی قرار دے رہے ہیں اگر یہی کام آپ اس وقت کرتے تو ہم مجبور ہوتے کہ آپ کی باتوں پر لبیک کریں مگر اس وقت آپ دلائل دیتے تھے کہ یہ جنگ نہیں مجرموں کے خلاف قومی احتساب ہے لیکن جیسے ہی اپنے آپ کو الگ کیا تو ماضی اپنا شروع کیا گیا احتسابی مرحلہ برادر کُشی اور خانہ جنگی بن گیا۔ ماموں جان ہمارے حافظے اتنے بھی کمزور نہیں ہوئے کہ آپ کے کل اور آج کی پہچان بھی نہ کرپائیں۔
ماموں جان آپ نے اپنے قصے میں شہید درویش کے حملے کی بات بھی کی تھی، چلیں اس پر بھی کچھ بات کرلیتے ہیں۔ چلیں شہید درویش اور باقی فدائیں حملوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ کر دیکھتے ہیں اور فرق تلاش کرتے ہیں۔ شہید ریحان جس جگہ فدائی حملہ کرتے ہیں کیا یہ بہتر نا ہوتا کہ جہاں سے سنگت ویڈیو بنا رہے ہیں وہیں سے ریمورٹ کنٹرول بم استعمال کرتے؟ کیا یہاں واقعی فدائی حملے کی ضرورت تھی یا تو صرف قوم کو جذباتی کرنے کیلئے یہ عمل کیا گیا۔ کیا اس حملے سے سنگت کو ضائع نہیں کیا گیا؟ اور رزلٹ کیا آیا 0، بس کچھ افراد زخمی ہوئے اور بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد آتے ہیں کراچی قونصل خانے کی طرف۔ ایک تو قونصلیٹ کی اہمیت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ کس قدر اس کی سکیورٹی پر عالمی قوانین کے مطابق زور دیا گیا ہے کہ جب دو ملک آپس میں لڑتے بھی ہیں تو وہ سب سے پہلے ایک دوسرے کے قونصلیٹ خانوں کو سکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔ دوسرا آپ کہتے ہیں کہ آپ اپنی دفاع کررہے ہیں تو ماموں جان دوسرے کی زمین پر جا کر وار کرنا دفاع نہیں حملہ ہوتا ہے۔ آپ یہاں پر دفاع نہیں حملہ کررہے ہیں دوئم اگر آپ کا حافظہ درست ہے تو اس میں پشتون باپ بیٹے بھی مرے تھے جو عام لوگ تھے جو آپ ے دعوے کی نفی ہے کہ ہمارا مقصد قتل و غارت نہیں ہے تو ذرا بتائیں یہ دونوں باپ بیٹے کیسے قتل ہوئے۔ اس کے علاوہ گوادر پی سی ہوٹل ہو یا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج آپ کے تمام فدائی حملوں کے اہداف میں ایک چیز عام ہے کہ آپ کے منتخب کردہ تمام اہداف  پبلک پلیس تھے اور دیکھا جائے تو آپ ان ہی جگہوں پر حملہ کررہے ہیں جہاں عالمی قانون کی سخت خلاف ورزی ہے۔ آپ کی اس منفی کار کردگی کو دیکھ کر انسان سوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ بھئی قومی بندوق اور قومی اثاثہ (بلوچ جہد کار) جو اس جنگ میں ایندھن بن رہے ہیں تو عمل وسیع تر قومی مفاد کا امین ہونا چاہئیے مگر نتیجتاً قوم اور قومی جہد کو کئی زاوئیوں سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف قوم، قومی تحریک اور یہ جنگ عالمی سطح پر بدنام ہورہے ہیں اور دوسری طرف قوم کا وہ اثاثہ ضائع ہورہا ہے جو محاذ میں رہ کر زیادہ دیر کام کرسکتا ہے، سیاسی حوالے سے اور مزید پختہ ہوسکتا ہے لیکن آپ اس کو یوں بے دردی سے ضائع کررہے ہیں یوں اگر یہ اعمال فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہے ہیں تو پھر فائدہ کس کا ہورہا ہے؟ یہ سوچ سوچ کر انسان یہ نتیجہ اخز کرلیتا ہے کہ پھر اس کے پیچھے کوئی اور طاقتیں ہیں جو بلوچ تحریک کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور اس پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگوانا چاہتے ہیں۔ اب آتے ہیں رزلٹ کی طرف چاہے وہ قونصل خانہ ہو، ہوٹل ہو یا کہ اسٹاک ایکسچینج رزلٹ کیا آیا ان حملوں کا 3- (منفی تین) پہلا یہ کہ ساتھی شہید ہوئے، دوسرا امریکہ کی طرف سے دہشتگردی کا الزام لگا اور تیسرا اقوام متحدہ سمیت ان تمام ملکوں نے آپ کے حملوں کے خلاف بیان جاری کیے جن میں آپ کا سب سے اچھا دوست ہندوستان بھی شامل تھا۔
دنیا میں سفارت کاری کرکے کیا نتائج حاصل کئے جاتے ہیں یا کیا نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے؟ میری ناقص رائے میں کوئی بھی تحریک خاص کر آزادی کی تحریک دنیا کے سامنے مرحلہ وار آگے بڑھتی ہے اور اس مرحلہ وار ارتقاء کے بعد ہی کامیابی اور ناکامی کے پیمانے بنتے یا بگڑتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی جدوجہد کے لئے ہمدرد پیدا کئے جاتے ہیں، دوسرے مرحلے میں ان ہمدردوں کے ساتھ مل کر متعلقہ طاقتوں تک اپنی بات پہنچاتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا اور آگے بڑھتا رہتا ہے لیکن جہاں آپ کے ہمدرد پیدا کرنے کا مرحلہ ہے وہاں آپ Deadliest کے خودساختہ لقب سے اتراتے ہیں، خود ہی “چیپ” بن کر خود ہی “غُبارے”  کی طرح پھول جاتے ہیں تو ذرا دنیا آپ کو کیوں گھاس ڈالے گی۔
چلیں آپ نے شہید درویش پر اتنی بات کی تو اسی حوالے سے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ شہید درویش نے جس جگہ حملہ کیا وہ شفیق مینگل یعنی ڈیتھ اسکواڈ کا اڈہ تھا، جس وقت ان پر حملہ کیا گیا ان کی میٹنگ چل رہی تھی، شہید درویش کا فدائی حملے کے دوران BLA کی طرف سے چنا ہوا ہدف پبلک پلیس نہیں بلکہ قابض پاکستان کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کا اڈہ تھا اور نہ کہ یہ حملہ اپنے ملک بلوچستان سے باہر کیا گیا جس سے یہ بات واضح ہے کہ یہاں ہم اپنا دفاع کررہے تھے اور ان سب کے علاوہ اس حملے کا جو نتیجہ نکلا ہم سب کے سامنے ہے اور اگر آپ کہتے ہیں کہ شفیق مینگل کا اڈہ پبلک پلیس تھا اور شفیق مینگل ایک سول بندہ ہے تو مجھے آپ پر حیرت ہوگی۔ یہاں سوچنے والی ایک بات یہ بھی ہے کہ آخر کیوں شہید درویش کے حملے کے حوالے سے آج تک پاکستانی اداروں کو چھوڑ کر ایک بھی دوست ملک یا عالمی اداروں کی طرف سے ایک بھی منفی بیان سامنے نہیں آیا؟ مگر آپ کا ہر حملہ دشمن کو تو نہیں مگر قومی تحریک کو جھٹکے پہ جھٹکے دے رہا ہے اور ہر حملے کے بعد ایک اور ادارہ و ملک آپ کے حملوں کے خلاف بیان جاری کرتے ہیں۔
ماموں جان یہاں آپ بہت ریکارڑ ریکارڑ کا کھیل رہے ہیں تو چلیں آئیں شوق سے، مناظرہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے اگر ہمت ہے تو آؤ تم اپنے ریکارڑ لیکر ہم بھی ثبوت کے ساتھ آتے ہیں پر قوم خود دیکھے کون کتنے پانی میں ہے۔
ویسے دیکھا جائے تو آپ کی بنیاد ہی جھوٹ پر مبنی ہے تو یہ توقع آپ سے لگانا کوئی غلط بات نہیں ہوگی کہ آپ کے ہاں کہی ہوئی ہر بات جھوٹی ہے۔  آج سے تین سال پہلے جب BLA ہائی کمان کی طرف سے بیان جاری کیا جاتا ہے کہ اسلم بلوچ نے تنظیمی اصول تھوڑ کے ہندوستان گئے تھے اور وہاں آپ نے جوابی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلم ہندوستان نہیں گئے تھے مگر کچھ وقت پیش آپ خود اس بات کا اعتراف اپنے ایک بیان میں کرتے ہیں کہ “سنگت نے اسلم بلوچ کے ہندوستان جانے کی خبر پبلک میں شایع کیا تھا جس سے دشمن کو فائدہ ملا”۔ پہلے آپ بیان جاری کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلم ہندوستان نہیں گئے پھر واپس کہتے ہیں کہ سنگت نے اسلم کے ہندوستان جانے کی خبر پبلک میں شیئر کی اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر آپ کے تنظیم کی طرف سے دیا ہوا بیان ہی جھوٹ پر مبنی ہے تو آگے قوم خود فیصلہ کرے کہ آپ کی لکھی تحریر میں کتنا جھوٹ ہوسکتا ہے؟ اب یہاں ہم آپ کا بھروسہ کریں تو کریں کیسے؟
وہ کہتے ہیں نا کہ بیوقوف کو بولنے دو رو کو مت وہ باتوں ہی باتوں میں اپنی اصلیت خود لوگوں کے سامنے لارکھے گا۔ جب اسلم اور بشیر کو BLA سے معطل کیا گیا تو انہوں نے یہی بہانہ بناکر اپنا راستہ سنگت سے الگ کردیا کہ BLA میں جمہوریت نہیں ہے اور BLA ایک ادارتی شکل اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے جو مجھے کنفیوز کررہی ہے کہ آخر ایک فوجی تنظیم جمہوری کیسے ہوسکتی ہے؟ آپ تو اتنے بیوقوف ہو کہ آپ کو ابھی تک پتہ نہیں کہ ایک فوجی تنظیم جمہوری ہو ہی نہیں سکتی۔ دنیا میں آپ مجھے کسی ایک ایسے ملک کا نام بتائیں جس کا فوج جمہوری ہو، جہاں فیصلے تمام سپاہیوں کو اکھٹا بٹھا کر پوچھنے کے بعد لیے جاتے ہوں۔ جہاں میجر، کرنل اور جرنل سپاہیوں کی رضا سے بنائے جاتے ہوں جہاں قابلیت کو چھوڑ کر ووٹ کے ذریعے بھرتیاں ہوتی ہیں تو ہم آپ کی آواز میں اپنی کمزور آواز ملا کر فوج میں جمہوریت نافظ کرنے کے آپ کی تحریک میں سرہتھیلی پر رکھ کر آپ کے ساتھ شامل ہونگے۔
آپ نے جو ٹولہ بنایا ہے اس میں کون سی جمہوریت ہے ذرا واضح کرکے بتائیں۔ آپ جو سربراہ و چیف بنے بیٹے ہیں کس کس نے آپ کو ووٹ دیا؟ سیاسی پارٹیاں جمہوری ہوتی ہیں مگر فوجی جمہوری تنظیموں کے بارے میں ابھی تک ہم نے نہ سنا ہے اور نہ ہی دیکھا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ آپ حضرات کی طرف سے بنایا گیا ایک نیا ادارہ ہے “فوجی جمہوری ادارہ”۔ برطانیہ و انڈیا جو دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ممالک میں شامل ہیں ان کی بھی فوج جمہوری نہیں ہے جب ان کی فوج میں سے کوئی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو انہیں سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔ اب یہاں پوچھنا چاہوں گا کہ جو ٹولہ آپ نے بنایا ہے کیا وہ جمہوری ہے؟ اور جو ادارہ ادارہ رٹے جارہے تھے آپ کا ادارہ کہاں گیا؟