ماں، اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی ہیں اب آپ کو میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اب آپ کو راہ تکنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب میں اُس ماں کے پاس جاچکا ہوں جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتی ہے،،

ہاں ماں، مجھے شہید کر دیا گیا میری زندگی مجھ سے چھین لی گئی مجھے بھی حق تھا زندہ رہنے کا لیکن جب مہربان سرزمین کو میرے جسم کے خون کی ضرورت پڑی میں فدا ہو گیا میں ہنستا ہنستا اپنی جان قربان کر آیا،،

ماں،

یاد ہے جب میں دکان سے دیر سے آتا تو آپ کتنی بار فون کرتی تھیں؟

اور جب میں گھر پہنچتا تو آپ دروازے پر کھڑی ہوتیں میری پیشانی چوم کر دعا دیتیں اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آپ کی دلی خواہشیں پوری ہوں،،

ماں،

آپ کی دعا قبول ہو گئی میری دلی خواہش پوری ہو گئی وہی خواہش جو بچپن سے میرے سینے میں چھپی تھی وہ شہادت، جو نصیب والوں کو ملتی ہے جو خوش نصیبوں کی قسمت بنتی ہے،،

لیکن ماں،

مجھے معلوم ہے میرے بعد گھر کی رونق چھن گئی ہے آپ کی آنکھوں کی چمک مدھم ہو گئی ہے ابو کی خاموشی بہن بھائیوں کی سونی مسکراہٹ،سب کچھ مجھے بہت کچھ کہتا ہے۔

سب بتا رہے ہیں کہ میں کتنا یاد آتا ہوں اب وہ پیار بھری باتیں جو ہم ساتھ بیٹھ کر کرتے تھے بس ایک دردناک یاد بن کر رہ گئی ہیں۔

اب میرے کمرے کی دیواریں بھی شاید خاموشی سے روتی ہوں گی میرا بستر مجھے ڈھونڈتا ہو گا،،

لیکن ماں آپ نے مجھے ہمیشہ دعاؤں میں رکھا اسی لیے تو آج میرا سر فخر سے بلند ہے میں گیا ضرور ہوں لیکن ماں آپ کی ہر دعا ہر آنسو میری قربانی کی بنیاد بنا،،

اب ماں، بس اتنا جان لو آپ کا بیٹا شہید ہوا ہے… ہارا نہیں

میں مٹی میں دفن ہو گیا ہوں لیکن دشمن کے آگے جھکا نہیں میں رخصت ہو گیا ہوں لیکن قوم کی پیشانی پر قربانی کی لالی چھوڑ آیا ہوں۔