کرد قوم طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ مسعود برزانی، جو عراق کے کردستان ریجن کے سابق صدر اور کرد نیشنلزم کے ایک اہم رہنما ہیں، نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ایک نہایت اہم اور اصولی مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شامی کردستان پر کسی بھی قوت کی طرف سے حملہ صرف شام کے کردوں پر نہیں بلکہ پوری کرد قوم پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان دراصل اس اجتماعی سوچ کا عکاس ہے جس نے کرد قوم کو اپنی داخلی تقسیم کے باوجود ایک دوسرے کے قریب رکھا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ کرد قوم اپنی بقا کے لیے یکجا ہے۔

بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال کردستان کی تاریخ سے بے حد مشابہ ہے۔ بلوچستان تین حصوں میں منقسم ہے: پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان، ایران کے زیر قبضہ بلوچستان (سیستان و بلوچستان)، اور افغانستان کا سرحدی بلوچ علاقہ۔ قابض ریاستیں اس تقسیم کو بلوچ عوام کی کمزوری میں بدلنے کی کوشش کرتی ہیں، تاکہ ہر حصے میں جدوجہد الگ الگ رہے۔ مگر برزانی کے بیان میں بلوچ قیادت اور عوام کے لیے ایک نہایت اہم سبق پوشیدہ ہے: اگر بلوچ تحریک بھی یہ اعلان کر دے کہ بلوچستان کے کسی ایک حصے پر حملہ پورے بلوچ قوم پر حملہ ہے، تو یہ نہ صرف قومی وحدت کو تقویت دے گا بلکہ عالمی سطح پر بلوچ تحریک کو ایک مضبوط اور مربوط مقدمہ فراہم کرے گا۔

کرد تحریک کی مثال واضح کرتی ہے کہ کس طرح مختلف خطوں میں بٹے ہوئے لوگ بھی عالمی سیاست میں اجتماعی طور پر خود کو ایک ہی قوم کے طور پر منوا سکتے ہیں۔ عراق میں کرد ریجنل گورنمنٹ (KRG) کو 2003 کے بعد امریکہ اور اتحادیوں کی مداخلت کے نتیجے میں ایک خودمختار درجہ ملا۔ شام میں کردوں نے “روژاوا” (Rojava) کے نام سے خودمختار علاقے کا انتظام قائم کیا۔ ترکی اور ایران میں کردوں کو شدید ریاستی جبر کا سامنا ہے، مگر برزانی کا بیان یہ بتاتا ہے کہ شامی کردوں پر حملہ صرف شام کے مسئلے تک محدود نہیں بلکہ ترکی، عراق اور ایران کے کرد بھی اس کو اپنے وجود پر حملہ سمجھتے ہیں۔

بلوچ تحریک اگر اس حکمتِ عملی کو اپنائے تو یہ دنیا کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی صرف کوئٹہ یا زاہدان تک محدود نہیں بلکہ پورے متحدہ بلوچستان کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس وقت عالمی ادارے، خصوصاً اقوامِ متحدہ، 1966 کے “International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR)” اور 2007 کے “UN Declaration on the Rights of Indigenous Peoples (UNDRIP)” کے تحت تسلیم کرتے ہیں کہ ہر قوم کو اپنے وسائل اور مستقبل پر حقِ خود ارادیت اور آزادی کا حق حاصل ہے۔ ان بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بلوچ قیادت دنیا کو بتا سکتی ہے کہ بلوچستان کے کسی بھی حصے پر فوجی آپریشن، معدنیات کی لوٹ مار یا انسانی حقوق کی پامالی پورے بلوچ قوم کے خلاف جرم ہے۔

کرد تحریک کے تاریخی تجربات سے ایک اور سبق یہ ہے کہ عالمی رائے عامہ کو متوجہ کرنے کے لیے سیاسی بیانیہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ جب داعش (ISIS) نے 2014 میں شامی کرد علاقوں پر حملہ کیا تو دنیا نے کردوں کو نہ صرف مظلوم بلکہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کے طور پر تسلیم کیا۔ اسی طرح بلوچ تحریک بھی اگر عالمی سطح پر یہ مؤقف اپنائے کہ بلوچ قوم پر پاکستان اور ایران کے حملے دراصل انسانی حقوق اور عالمی امن کے خلاف ہیں تو اسے بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کے وسائل جیسے سیندک ، ریکوڈک، بندر عباس ، چاہ بہار مائی کولاچی اور گوادر کی بندرگاہیں دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ اگر بلوچ قیادت یہ واضح کرے کہ ان وسائل پر قبضہ صرف ایک ریاستی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قوم کی بقا اور آزادی کا مسئلہ ہے، تو عالمی طاقتیں بھی اس تنازعے کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہوں گی۔

مسعود برزانی کے تازہ بیان نے کرد تحریک کو ایک سیاسی طور پر متحد پیغام دیا ہے۔ بلوچ تحریک کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے کسی ایک حصے پر حملہ پورے بلوچ قوم پر حملہ ہے، اور متحدہ بلوچستان کے عوام کی بقا اسی اجتماعی سوچ میں مضمر ہے۔ یہی حکمتِ عملی وہ بنیاد فراہم کرے گی جس پر متحدہ بلوچستان کا ظہور یقینی ہو گا اور بلوچ قوم عالمی برادری کے سامنے اپنی آزادی کا مقدمہ کامیابی سے لڑ سکے گی۔