تحریر: سیف اللہ بلوچ
ہمگام آرٹیکل
کفار کی ظلم و ستم سے تنگ مسلمانوں نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنے شروع کی ہجرت کا مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللّٰہ کے حکم کی پاسداری کی ظلم و ستم کے خلاف تمام مسلمانوں کا جمع ہونا تھا اکھٹا ہونا تھا اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب بھی دنیا میں وہ لوگ جو ناحق کسی قوم کے اوپر مسلط ہوئے کسی ریاست کے اوپر مسلط ہوئے صرف اور صرف اپنی دنیاوی مقاصد کہ خاطر ان پر ظلم کرے یا انکو قبضہ کرے یا انکے اوپر اپنا قانون لاگوں کرے تو وہاں کہ لوگوں کا حق شرعی حیثیت سے یہ بنتا ہے کہ وہ اپنے قبضہ گیری کہ خلاف اپنےاوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اپنےریاست کی خاطر اپنے لوگوں کہ نا انصافیوں کہ خلاف اپنےقابض فریق کے خلاف علی اعلانِ جہاد کرسکتے ہیں.
چاہیے وہ فریق کافر ہو یا مسلم اگر وہ دوسروں پر بِلا جواز بِلا دلیل قابض ہو اپنے مقاصد کی خاطر وہ لوگ جن کے اوپر ظلم اور جبر ہو انکے گھر بار غیروں کہ قبضہ ہو انکے کاروبار غلامی سے ہو انکے رہن سہن غلامی سے ہو اگر وہ نا انصافیوں کو دیکھ کر کوئی راہ اختیار نہیں کرتے وہ ظلم و ستم کو اپنے آنکھوں سے دیکھ کر پاؤں کہ نیچھے دباتے ہیں اور ظالم کے آگے جھکتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہے کہ یہ لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں جو اپنے اوپر ظلم کو دیکھ کر خاموش ہیں۔
ہمارے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب ظلم کرنے والے ظالم کہ خلاف ذات خود منصوبہ بناتے ہیں تکالیف برداشت کرتے ہیں طرح طرح کہ مظالم برداشت کرتے ہیں
(کیا ہم نے کبھی حقیقی ظالم پر آواز پلند کرنے کی کوشش کی ہے)
میرا مراد بلوچ عالم ۔۔۔!
جن کہ بارے میں حدیث میں آتا ہے العلماء ورثت النبیاء نبی کہ وارث انہی کو بتایا گیا فضلیت کہ حامل یہی ہیں تو اب گلہ انہی سے ہوگا ۔
کیا بلوچستان کہ اوپر عظیم ظلم انکو نظر نہیں آتا بلوچ کی منہ کی چینی ہوئی روٹی انکو نظر نہیں آتا۔۔؟؟
کیا انہوں نے اسلام اور شرعیت کو قریب سے نہیں دیکھا ہے شرعیت تو کہتا ہے اگر آپکا مخالف مسلماں ہو پھر بھی وہ آپ پر ناحق حملہ کرے اور آپ مارے جاؤں تو آپ شہید ہو اور آپکا دشمن ہلاک۔
جس مٹھی سے کھیل کود کر بڑھے ہوے ہو اسکے اوپر ظلم کو دیکھ کر خاموش ہونا غداری تو نہیں کہ سکتے لیکن اسلام کے نظام کیخلاف ہے خاموش ہو کر نظارہ دیکھنا جاہلوں کا روپ اختیار کرنا قوانین خداوندی پر بغاوت کرنا ہے سب سے پہلے اللہ کہ ہاں پوچھ ظلم کہ خلاف خاموش نظارہ دیکھنے والوں پرہی ہوگا کیونکہ وراثت انبیاء ان علماء کو حاصل ہے اس صفت کے حصول کا حق صرف مسجد میں نماز پڑھانے درس اور تدریس سے نہیں ہوگا۔
بلکہ ظلم کے خلاف اپنے لوگوں کو جمع کرنے سے ہوگا دین کی خاطر تکالیف برداشت کرنے سے ہوگا اپنے اور اپنے قوم راج بھائی چاری اپنے اہل عیال کے خلاف نا انصافیوں کے بارے میں آواز اٹھانے سے ہوگا اللہ تعالیٰ سے ڈر اور غیروں کے اوپر اسلام اور شرعیت کو غالب کرنے سے ہوگا۔
“حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ سب سے بڑا غدار وہ جو اپنے وطن کہ ساتھ غداری کرے”















