دنیا میں میڈیا کو ’’چوتھا ستون‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو عوام تک حقائق پہنچا کر ان کے شعور کو بیدار کرتی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جسے ریاست، عدلیہ اور مقننہ کے بعد معاشرے کی سب سے بڑی بنیاد مانا جاتا ہے۔ میڈیا کا اصل فرض ہے کہ یہ سچائی کو اجاگر کرے، جھوٹ کو بے نقاب کرے اور مظلوم کو انصاف دلانے کے عمل میں آواز بنے۔ لیکن جب ہم بلوچستان کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ ستون کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں میڈیا اپنی اصل ذمہ داری سے ہٹ کر صرف اور صرف ریاستی بیانیے کا ترجمان بن گیا ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے شدت اختیار کر چکا ہے۔ ہزاروں بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں، جن میں سے بہت سے واپس نہیں آئے کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئیں، کچھ اجتماعی قبروں میں دفن کر دیے گئے مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر دھرنے دیتی رہیں، مگر یہ دردناک مناظر پاکستانی میڈیا کی اسکرین پر جگہ نہ پا سکے اس کے برعکس میڈیا نے ریاستی ظلم کو ’’تحفظ‘‘ اور بلوچ مزاحمت کو ’’دہشت گردی‘‘ کا نام دیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستانی عوام کو حقیقت سے دور رکھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بلوچ مسئلے کو مسخ شدہ انداز میں پیش کرتا ہے. صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ طاقتور کے سامنے سچ بولے اور کمزور کی زبان بنے لیکن بلوچستان میں معاملہ الٹ ہے یہاں سچ بولنے والا صحافی یا تو قتل کر دیا جاتا ہے یا پھر جبری گمشدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے، اور بلوچستان اس خطرے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ کوئٹہ، کراچی اور دیگر شہروں میں کئی ایسے صحافی مارے گئے جنہوں نے بلوچ مسئلے پر قلم اٹھانے کی جسارت کی یہ خوف اور جبر میڈیا کو ریاستی آلہ کار میں بدلنے کا ایک بنیادی سبب ہے تاہم، اس تاریکی میں ایک نئی روشنی بھی ابھری ہے وہ روشنی ہے سوشل میڈیا۔ بلوچ نوجوانوں نے فیس بک، ٹوئٹر (ایکس) اور یوٹیوب کو اپنی مزاحمت کا ہتھیار بنا لیا ہے یہ وہ پلیٹ فارمز ہیں جہاں وہ اپنی کہانیاں، تصاویر اور ویڈیوز پوری دنیا تک پہنچا رہے ہیں وہ سچ، جو مین اسٹریم میڈیا چھپاتا ہے، بلوچ نوجوان اپنی زبان اور لہجے میں دنیا کے سامنے رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچ مسئلہ عالمی مباحثے کا حصہ بنتا جا رہا ہے. اسی تناظر میں فری بلوچستان موومنٹ (FBM) کی سرگرمیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ تنظیم یورپ، برطانیہ، امریکہ اور خلیجی ممالک میں مسلسل احتجاج اور آگاہی مہم چلا رہی ہے۔ برلن، لندن، جنیوا اور نیویارک میں ہونے والے مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچ تحریک اپنی سرزمین سے نکل کر عالمی سطح پر بھی آواز بلند کر رہی ہے۔ FBM دنیا کو یہ بتا رہی ہے کہ بلوچ قوم پر ظلم صرف ایک ریاست نہیں بلکہ دو ریاستیں کر رہی ہیں پاکستان اور ایران: ایران عدالتوں کے پردے میں بلوچ نوجوانوں کو پھانسیاں دیتا ہے، جبکہ پاکستان خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے لاپتہ کر کے ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینکتا ہے ایک طرف ایران پھانسی گھاٹ کھڑا کر کے بلوچوں کی نسل کشی کرتا ہے، تو دوسری طرف پاکستان اجتماعی قبروں کے ذریعے ظلم کو چھپاتا ہے۔ یہ دوہرا جبر عالمی انصاف کے نظام کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے. پاکستانی میڈیا ان مظالم پر خاموش ہے، لیکن FBM اور بلوچ نوجوان اس خاموشی کو توڑ رہے ہیں وہ عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو یاد دلا رہے ہیں کہ بلوچستان صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر یہ مسئلہ شاید آج شامل نہ ہو، مگر ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیمیں بارہا بلوچ جبری گمشدگیوں اور ایران کی پھانسیوں پر تشویش ظاہر کر چکی ہیں.. یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: میڈیا کا اصل کردار کیا ہے؟ کیا میڈیا کو ریاستی بیانیے کا ترجمان بننا چاہیے یا مظلوم کی آواز؟ بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا نے پہلا راستہ اپنایا، مگر بلوچ نوجوانوں اور عالمی پلیٹ فارمز نے دوسرا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب مین اسٹریم میڈیا سچ دبانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ سچ اور بھی بلند آواز کے ساتھ ابھرتا ہے… بلوچ تحریک نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سچ کو جتنا دبایا جائے، وہ اتنا ہی طاقتور ہو کر ابھرتا ہے اگر میڈیا بلوچوں کے زخم دکھانے سے انکار کرتا ہے تو بلوچ قوم اپنی زبان، اپنی شاعری، اپنے گیتوں اور اپنی قربانیوں سے دنیا کو بتاتی ہے کہ وہ حق پر ہیں یہی وجہ ہے کہ آج بلوچ مسئلہ سوشل میڈیا سے نکل کر انسانی حقوق کی عالمی مجالس میں بحث کا موضوع ہے… آخرکار میڈیا کی تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ دبایا گیا سچ زیادہ دیر تک زندہ رہتا ہے اور ایک دن دنیا کو بدلنے پر مجبور کرتا ہے بلوچستان کا سچ بھی اسی اصول پر قائم ہے پاکستانی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے مٹ جائیں گے، مگر بلوچ نوجوانوں کی قربانیاں اور ان کی آواز ہمیشہ باقی رہے گی وہ وقت زیادہ دور نہیں جب یہی سچ مین اسٹریم عالمی میڈیا کو بھی جھکنے پر مجبور کرے گا اور دنیا کو ماننا پڑے گا کہ بلوچستان کا مقدمہ ایک جائز اور انسانی مقدمہ ہے.