ناکو معیار کا بیٹا اپنا گاؤں چھوڑ شہر میں پڑھائی کرنے گئے اور وہاں سے ایک دن دیگر ہزاروں بلوچوں کی طرح اٹھاکرغائب کئے گئے جو تاحال غائب ہیں۔

بیٹا غائب ہے اسکا پیراں سال باپ “ ناکو معیار “ سڑکوں پر، دھرنوں میں، جلسوں میں اور ریلیوں کے ساتھ اپنے گمشدہ بیٹے کی تصویر اٹھائے چیخ رہے ہیں۔

یہ اکیلا ناکو معیار کا معاملہ یا مسئلہ نہیں ہے بلوچستان کے اندر ہر دوسرا گھر اس گمشدگی کی کرب کو جھیل رہا ہے یا جھیل چکا ہے اور تقریبا سبھی گھروں کے اندر ایک غیرمحسوسانہ خوف کا ماحول موجود ہے۔ کب کوئی آکر بندوق کی نوک پر کسی کو بھی کسی بھی قصور کے بغیر اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائے اور پھر سالوں تک اسکی خیر خبر دینے کا کوئی قانونی پابندی اس پر لاگو ہی نہ ہو اگر کوئی خاندان بہت ہی زیادہ خوش قسمت ہو تو مہینوں بے انتہا کی مصائب سہہ کرعقوبت خانوں میں تشدد سہتے اپنے پیاروں کی منہ دیکھنا انکو نصیب ہو سکتا ہے۔

کسی کی خوش قسمتی تھوڑی کم ہوسکتی ہے انکو اپنے پیارے کی “ زدگ ءُ زامبیل “ انتہا کی حد تک مسخ شدہ لاش مل سکتی ہے، پیاروں کا شہید ہونا انتظار کی گھٹن اور کرب سے کہیں بہتر ہے کم از ماؤں کا اپنی گھر کے چوکھٹ پر کان دھر کر زندگی گزارنے کی جان گداز کرب کچھ کم ہوسکتی ہے۔

ناکو معیار ایک دھرنے میں شدت جذبات سے مغلوب ہوکر کہتے ہیں کہ “ من وتی چک پہ وانگ ءَ راہ داتگ ات بلے منی “ مات “ بند بوت” یہ ایک ایسے بوڑھے باپ کی کھتا ہے جسکا اکلوتا بیٹا پاکستانی ریاستی فورسز کی اٹھا کر غائب کرنے والی پالیسی کا شکار ہوا، ایرانی ریاستی جبر کا کہانی اس سے کہیں زیادہ بھیانک اور ڈراونا ہے، وہاں کئی ناکو معیاروں کے بیٹے غائب ہیں اور انکو اس پر چیخنے چلانے کی سہولت نھی دستیاب نہیں۔

بلوچستان میں بے شمار ناکو معیار ملیں گے جنہوں نے اپنے پیاروں کی ازیت ناک جدائی کی سالوں کو سہا ہے کچھ ابھی سہہ رہے ہیں کچھ کا انتظار ایک مسخ شدہ لاش کی صورت اختتام کو پہنچی۔

ایک انسانی المیہ کی سی صورتحال جنم لے چکی ہے بلوچستان میں اور بہت پہلے ایک پاکستانی صحافی بلوچستان کو غائبستان کا نام بھی دے چکے ہیں۔

تھوڑا سوچئیے کہ بلوچستان کو غائبستان کیوں بننا پڑا؟

پنجابی اور گجر کی قبضے سے واگزاری کے لئے کی جانے والی جد و جہد کی کہانی کس حد تک دردناک ہے، یہ کوئی اس ماں باپ سے پوچھے جنکے کوئی پانچ یا چھ جگر گوشے اس ریاستی جبر کے ہاتھوں یا تو مسخ شدہ لاش بنے، یا پوائینٹ بلینک رینج سے گولیوں کی تھڑتھڑاہٹ میں بھون دئیے گئے یا پھر دہائیوں سے غائب کئیے گئے اور پیچھے رہ گئی ایک درد ایک کہانی ایک کرب اور ایک چیخ جو ناکو معیار کی آنسؤں کی شکل میں ابھی تک ویڈیو کی صورت سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور ناکو شہسوار اپنی پانچ بیٹوں کی لاشیں وصولنے کے بعد مجسم کرب کی تصویر بنے لبوں کو مقفل کیئے ہوئے ہیں۔

اس تحریکی کی سنگینی کیا ہے، اس تحریک کے لئیے انتظار کی کرب یا مسخ شدہ جگر گوشے کی لاش کی صورت ادا کی ہوئی قیمت کا اندازہ کسی مشغلہ باز، چسکہ باز اور سطحی زہنیت کے انسان کو کبھی نہیں ہوسکتا۔

میں سوچتا ہوں کہ ذاکر مجید کی والدہ کی گزشتہ سولہ سترہ سالہ انتظار کی کرب، ناکو معیار کی آنسوؤں سے ٹپکتے کرب اور زاہد کرد کے جوان سال بیٹے کی فغاں سمیت دیگر کئی ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ و مسخ شدہ بلوچوں کی کہانی کو دیکھا جائے اور چشمِ تصور میں لایا جائے ان تمام بے بسوں کے پاس اگر “ الادین کا چراغ “ آجائے اور اس چراگ سے وہ اتنی طاقت پالیں کہ اپنے جگر گوشوں کو غائب کرنے والے، عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنانے والے اور انہیں مسخ شدہ لاش کی شکل میں پھینکنے والے انکی گرفت میں آسکیں تو وہ انکے ساتھ کیا کریں گے؟ دراصل آنسو بہانے کا ننیادی فلسفہ ہی بے بسی، بے کسی، بے وسی اور نادسرسی کا ہے، اب اس بے کسی کے عالم میں ناکو معیار اپنی قسمت کو کوستے ہوئے بلوچی میں مستعمل کربناک لحمحوں کی سنگینی ” منی مات بند بوت ” کے پیرائے میں درشاتے ہیں، اب ان بے بس و نادار چہروں کی کربناک جذبات کو پراگندہ کرنے والے ایرانی یارباشوں کو لعن طعن کرنے اور انہیں بلوچ سماج کے چہرے کا بدنما داغ کہہ کرپکارنے میں کونسی تکلف کی ضرورت ہے بھلا؟

زمہ داریاں انتہائی زیادہ اور کرب و الم میں مبتلا روز جیتی مرتی بلوچ عوام بھی انتہا کی حد تک جذباتی ہوچکی ہے، ایسے میں تنقیدی افکار و خیالات میں لچک اور نرمی ڈھونڈنے والے لوگوں کی غیر سیاسی رویوں کو دیکھ کر دل اس لئیے بوجھل ہوجاتا ہے کہ اتنی لہو، اتنی سختیاں جھیلنے اور عقوبت خانوں میں غضب کی ازیتناک مراحل سے گزرتے ہزاروں لوگوں کی قربانیوں کا حاصل وصول اتنی سطحی ہرگز نہیں ہونی چاہئیے تھی، جسکا ابھی ہم مظہر دیکھ رہے ہیں۔

دراصل بلوچ آزادی پسند سیاست کا امام مشرقی جانب کے پاکستانی مقبوضہ بلوچستان ہیں اس میں کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتے لیکن ایران بھی مغربی پٹی پر پھیلی ہوئی ایک وسیع و عریض بلوچ مادر سرزمین پر قابض ہے اور شاید پاکستان بن جانے سے بہت پہلے اور بلوچستان پر عملا قابض ہونے سے بھی پہلے پرشین اور بعد میں ایرانی ریاست کے تمام ادوار بلوچ کی لہو سے عبارت ہیں۔

لیکن اللہ نزر محض اپنی ازیتناک قربانیوں کی بنیاد پر بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ ایرانی ریاست سے بلوچ قومی آزادی کے جنگ میں مدد کی اپیل کرتے ہیں اب کوئی عقلِ کل مجھے سمجھا دے کہ ایران جو پاکستان سے بہت پہلے بلوچ قومی نسل کشی میں مصروف اور بلوچ قوم پر ثقافتی قدغنیں لگا کر بلوچ ماؤں اور بہنوں کی عصمت و عزت کو تار تار کرنے ملوث ہے تو محض گروہی مفادات کے لئیے ایران سے یارانے کا بلوچی محاورے کے باوصف “ بگائی “ یا عالمی سیاست میں مستعمل “ مردِ بیمار “ کے علاوہ کونسی بات صادر آتی ہے۔

بلوچ آزادی پسند سیاسی تاریخ جتنی بھی ہے وہ مصائب و تکالیف اور لہو سے عبارت ہے اس میں بلوچی “ رُو و ریا “ والی گنجائش پیدا کرنے والے ” چسکہ باز” یا تو سیاسی پیداگیر و جنگی منافع خوری میں حصہ دار ہیں اور تنقیدی عمل کے لئیے نرم گوشے کا مطالبہ کرتے ہیں یا پھر ایسے لوگ بلوچستان کے سیاسی میدان کی تلخی و سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر علمی و شعوری پستی کی انتہا پر ہیں وگرنہ دنیا کہ تاریخ میں متحارب گروہوں کے مابین سیاسی اختلافات کی شدت زبانی و قلمی شدت سے بڑھکر خانہ جنگی شکل بھی اختیار کرچکے ہیں ہم بحیثیت سیاسی کارکن شروعاتی دنوں سے اب تک اپنی اس عزم و حوصلے سے پیچھے ہٹے ہی نہیں ہیں کہ بلوچستان کوئی منقسم سرزمین ہے، بلوچستان زاھدان سے کراچی اور ہلمند تک ایک ہی اکائی ہے برٹش کے تقسیمی پالیسیوں اور ازاں بعد ایرانی و پاکستانی جبر کے سائے تلے اس متحدہ اکائی کو منقسم سرزمین مانے تو مانے مگر ہم تو علی العلان کہہ گئے ہیں ہم اسکو نہیں مانتے تو پھر اس تقسیم کو جواز بخشنے والے اور تحریک کی اجتماعیت سمیت بلوچ قومی سوال برائے آزادی کو متنازع اور پراگندے کرنے والے مردِ بیمار کا بے شرمانہ ڈھٹائی والی یہ عمل کیونکر بلوچی محاورے “ بگائی “ یعنی “ پُشت جنوک “ کے زمرے میں نہ آئے؟

دشمن کے خلاف کام نہ کرنے کے طعنے دینے والی بھونڈی و بدنما ذہنیت اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دشمن سے کہیں زیادہ نقصان تو دوستی کا چغہ پہنے ہوئے وہ لوگ دیتے ہیں جو بھیڑ کے کھال میں دراصل بھیڑیئے ہیں، کیونکہ دشمن جتنا بھی جبر و استبداد کے ہتکھنڈے استعمال کرے اور ان میں شدت لائے تو اسکی اس عمل سے بلوچ قومی سوال برائے آزادی اور زیادہ تقویت پکڑے گی بلوچ سیاسی کارکنان کے زہنوں میں وہ سوال مزید بہتر انداز میں واضح ہوگا اور انکو اپنے دشمن کو پہچاننے میں کم سے کم وقت لگے گا۔

لیکن دوسری طرف دشمن کا بیانیہ دہرا کر اسے آزادی پسندی کے لبادے میں لپیٹ کر اپنی ایران دوستی کے انحرافی سراب کو “ سنگر “ بدلنے کا نام دینا بلوچ تحریک آزادی کی اس جد و جہد کے ساتھ بدترین دشمنی اور سب سے بڑی نقصان ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے زہن نہ صرف کنفیوز ہونگے بلکہ زہنی پراگندگی کا عمل مزید وسعت پاکر بلوچ قومی سوال کی بنیادی ڈھانچے ہی کو ختم کردے گی۔

مولابخش دشتی کو کس نے مارا یا نسیم جنگیان کن گناہوں کے بھینٹ چڑھے یہ سوال شاید اہم نہ ہو لیکن مالک و حاصل کی پاکستان کے ساتھ وابستگی سے لیکر اختر مینگل کی پارلیمنٹری سراب و انکے مرحوم والد عطااللہ مینگل کا پونم و ڈھائی جماعتی اتحاد کے گرد گھومتی سیاست کی کنفیوژن تک وہ کیوں آزادی پسند سیاست کے لئیے زیرِ عتاب ٹہرے، مالک و مولابخش سے لے کر اختر مینگل و عطااللہ تک سب بلوچیت کے کوڈ آف کنڈکٹ کے حساب سے مہمانداری و میارجلی کے حساب سے شاید ہم کئیوں سے اچھے بلوچ ہوتے ہونگے اور کس کے پاس کوئی ڈیتھ اسکواڈز کا جتھہ اور بندوق برداروں کی فوج تھی یا ہے جو بلوچ قومی جہد کاروں کو جنگی سطح پر نقصان دے سکیں؟ غالبا دوہزار دس کے اوائل کی بات ہے میں اور دیگر دو دوست شہید بانک کریمہ کے کہنے پر نواب خیربخش مری سے ملنے انکی رہائشگاہ واقع ڈیفنس چلے گئے۔

دراصل اس دوران تربت کے پارک ہوٹل میں ایک سیمنار منعقد ہورہی تھی جس میں “ بلوچ سنگل پارٹی “ کے حوالے سے امکانات کا جائزہ لینا مقصود تھا، یادش بخیر اس میں مرحوم مولانا عبدالحق بلوچ، شہید پروفیسر صبا دشتیاری اور سنگت شبیر بلوچ سمیت بی ایس او آزاد کی طرف سے شہید بانک کریمہ شرکت کررہی تھیں اور بانک کریمہ چاہتی تھیں کہ سنگل پارٹی کے حوالے نواب خیربکش مری کی موقف حاصل کرکے اسے بطور سند ادھر سیمینار میں پیش کرسکیں خیر ہم وقت لے کر نواب مری کے پاس گئے تو وہ معمول کے مطابق گھر کے باہر کرسی لگاکر بیٹھے ہوئے تھے، خیر حال احوال کے بعد ہم نے اپنے ملاقات کی مقصد انکے سامنے رکھ دی تو وہ اس بات پر بالکل راضی نہ ہوئے کہ وہ سنگل پارٹی کے امکانات پر اپنی طرف سے کوئی رائے یا موقف پیش کرسکیں لیکن دبے لفظوں اور اپنی گفتگو کی بین السطور میں وہ واضح کرگئے کہ بلوچ سنگل پارٹی کا قیام ممکن نہیں ہے بلکہ یہ وقت اور محنت کو برباد کرنے کے مترادف ہے، خیر وہ اپنے مخصوص انداز میں بلوچ سیاسی کارکنان کی بچگانہ رویوں کے بدولت ہم سے کہنے لگے کہ “ اسکے علاوہ کوئی بات کرنی ہو تو ٹھیک وگر نہ لوگ روز آتے ہیں تصویریں کھینچ کر کچھ دیر بیٹھ کر چلے جاتے ہیں” ہلکی بلکہ تھیکی مسکراہٹ کے ساتھ، خیر ہم نے دیکھا بلوچ سنگل پارٹی کی مدعا کے علاوہ بھی ہمیں نواب مری سے بہت کچھ جاننا اور پوچھنا ہے سو ہم نے بحث چھیڑ دی۔

میں نے اپنے باری پر نواب مری سے پوچھا کہ “ ہمارے لیڈر جتنے بھی گزرے انہوں اپنی یادداشت کیوں رقمطراز نہیں کیں، اس سے آنے والی نسلیں بہت کچھ استفادہ کرتے” ؟

انہوں نے سوال کا جواب دینے کے بجائے الٹا مجھ سے پوچھا “ تم لیڈر کس کو کہتے ہو لیڈر سے مراد کیا ہے؟ “

میں نے جواب دیا کہ “ لیڈر یا رہبر سے میری مراد آپ ہیں، شہید غلام محمد تھے نواب اکبر بگٹی تھے بالاچ کا نام میں نے بوجوہ نہیں لی، یاکہ سردار عطااللہ مینگل ہیں “ وہ بات مکمل ہونے سے پہلے اپنی مخصوص انداز میں ہنستے ہوئے کہنے لگے “ تو کہ عطااللہ ءَ لیڈر سرپد بئے گڈا بس انت “ پھر بات کو آگے گول مول کرکے کہنے لگے کہ “ میں سمجھتا ہوں لیڈر تم لوگ ہو بی ایس او آزاد کا کیڈر لیڈر ہے وہ لکھیں وہ چیزوں کو تنقیدی انداز سے سامنے لائیں اور ہماری رہنمائی کریں۔

اب سوچتا ہوں اپنی آزادی پسند سیاست کے باوصف نواب مری سردار عطااللہ مینگل کو بھی بلوچ قوم کا رہبر تصور کرنے کے روادار نہیں تھے اور اب عطااللہ نے ایسا کونسا گناہ کیا ہے اسکا فیصلہ پڑھنے والے خود کریں گے، لیکن دوسری طرف ڈاکٹر اللہ نزر کی ایرانی یارباشیت کا سلسلہ نظریاتی انحراف سے تجاوز کرچکی ہے اور لوگ کہتے ہیں تنقیدی زبان میں نرمی لائی جائے، ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ناکو معیار اور ذاکر مجید کی والدہ جیسے کئی الم زدہ و رنجیدہ خاطر بلوچ ماں باپ رہتے ہیں، جو اپنی بے بسی کی بنیاد پر محض اپنی کرب کو دل میں لیئے مجسم خاموش ہیں، ایسے میں کوئی آکر ایران کو بلوچ قوم کا ہمسایہ اور مددگار کا نام دے کر پکارنے لگے تو خود سوچئیے اُن والدین کا نفرت اور بے بسی کا اظہاریہ کس نوعیت کا ہوگا؟

ڈاکٹر مالک بھی ڈاکٹر ہیں اور ماضی کا بلوچ انقلابی کاروان کا سرخیل رہنما بھی وقت وقت کی بات ہے مگر وقت سے پہلے اس بیماری کو پہچانیئے اور اس پر بات کیجئیے۔