ایران کے زیر تسلط مقبوضہ مغربی بلوچستان میں ظلم کی ایک اور دلخراش داستان رقم ہوئی۔ یہ سرزمین، جو پہلے ہی لاشوں، سرعام پھانسیوں، گمشدگیوں اور اجتماعی قبروں کا میدان بنی ہوئی ہے، اب عورتوں کے خون سے مزید رنگین ہو چکی ہے۔ تیس جون 2025 کو مغربی بلوچستان کے تاریخی شہر خاش کے گاؤں گونیچ میں صبح سویرے جب بچے جاگنے کی تیاری کر رہے تھے، جب عورتیں ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں، جب گاؤں کا سکوت محض معمولاتِ زندگی کا عکس تھا۔ تب اچانک ایرانی فورسز اور پولیس کی درجنوں گاڑیاں گاؤں پر ٹوٹ پڑیں۔

یہ کوئی سرحدی دراندازی نہ تھی، نہ ہی کوئی شدت پسند چھپا ہوا تھا۔ بلکہ یہ کارروائی، ان بے گناہ، نہتی، بیٹیوں، ماؤں اور بہنوں پر کی گئی، جن کا جرم فقط یہ تھا کہ وہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت رکھتی تھیں۔

فوجی جتھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ “مسلح مخالفین” کو گرفتار کرنے آئے ہیں، لیکن حقائق اس کے برعکس چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ اس وقت گاؤں میں کوئی “مرد” موجود ہی نہیں تھا۔ گولیوں کا رخ صرف “عورتوں” کی جانب تھا۔

ایرانی ریاستی اہلکاروں کی گولی کا نشانہ بنی 40 سالہ خان بی بی بامری، جنہیں کلیجے پر گولی لگی اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئیں۔ ان کے ساتھ 10 زخمی خواتین میں چار بچیاں بھی شامل تھیں ان کی شناخت محدثہ بامری (16 سال)، صبا بامری (17 سال)، اسرا بامری (18 سال)، اور عسل بامری (20 سال) کے ناموں سے ہوئی۔

سب سے دل دہلا دینے والی خبر یہ تھی کہ ریحانہ بامری جو حاملہ تھیں، انہیں فورسز کی جانب سے لگاتار ٹھوکروں اور چھرے دار گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کا بچہ رحم میں ہی جان کی بازی ہار گیا۔ کیا کوئی اور ظلم اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے؟

یہ حملہ صرف بندوقوں کا نہیں تھا، یہ حملہ بلوچ عورت کے وجود، وقار اور انسانیت پر تھا۔ لالی بامری اور اسرا بامری کی حالت تاحال تشویشناک ہے، وہ خاش کے ہسپتال میں آئی سی یو میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

یہ “آپریشن” صبح پانچ بجے سے دس بجے تک جاری رہا، جس میں گاؤں کے تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے۔ گاؤں کو ایک جنگی قلعہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ عورتوں اور بچوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ جو ریاست اپنے شہریوں کی محافظ ہو، وہ خود ان کی قاتل بن جائے؟

شاید یہ واقعہ بھی دنیا کے ضمیر کو نہ جھنجھوڑ سکے۔ شاید اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور تہران کے ایوانوں میں بیٹھے صاحبانِ اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگے۔ لیکن بلوچ سرزمین پر لکھا جانے والا یہ لہو کا باب، تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ریاستی درندگی کی علامت رہے گا۔

آج گونیچ کی سرزمین سے صرف آنسو نہیں ٹپک رہے، بلکہ سوالات کی ایک تپتی لہر اٹھ رہی ہے کہ کیا بلوچ عورت کا خون اتنا سستا ہے؟۔ کیا بلوچ خطے کو تجربہ گاہ سمجھ لیا گیا ہے؟۔ کیا مظلوم کی آہ، ظالم کے ایوانوں کو کبھی ہلا سکے گی؟۔

جواب شاید خاموشی میں دفن ہو چکا ہے، لیکن بلوچ خواتین کی مزاحمت آج بھی زندہ ہے۔ وہ خان بی بی کی شہادت سے کمزور نہیں ہوئیں، بلکہ وہ اب مزید جری اور پرعزم ہو چکی ہیں۔

یہ صرف حملہ نہیں تھا، یہ عورت کی آزادی اور وجود کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ مگر یاد رکھو، بلوچ عورت کی آنکھوں کا آنسو، جب بغاوت میں ڈھلتا ہے، تو تاریخ میں انقلاب رقم کرتا ہے۔

خاش بلوچ مزاحمت کار خاتون “گل بی بی بلوچ” کا شہر ہے۔ مغربی بلوچستان کی گل بی بی کی “کہانی” بلوچ تاریخ کے ان درخشاں ابواب میں شامل ہے، جنہیں آج بھی وہ پذیرائی نہیں ملی جو انہیں ملنی چاہیے۔ وہ صرف ایک جنگجو نہیں بلکہ “بلوچ خواتین” کی بہادری، قیادت اور مزاحمت کی علامت تھیں۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران، جب “برطانوی سامراج” اپنے عروج پر تھا اور دنیا بھر میں “نوآبادیاتی حکمرانی” قائم کر رہا تھا، بلوچستان میں ایک بہادر خاتون نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ میں قیادت سنبھالی۔ گل بی بی مغربی بلوچستان کے شہر “خاش” سے تعلق رکھتی تھیں، جو آج بھی مغربی بلوچستان کا ایک اہم خطہ ہے۔

برطانوی جنرل ڈاہر نے گل بی بی کی “شخصیت” کے بارے میں کچھ یوں کہاتھا کہ “میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے گل بی بی کو دیکھا۔ وہ نہ صرف ایک “دلیر کمانڈر” تھی بلکہ” قدرت” نے اسے ایک غیر معمولی حسن سے بھی نوازا تھا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں، یونانی خدوخال اور کشیدہ کاری سے مزین سفید لباس اس کے رعب کو مزید بڑھا رہے تھے۔”

یہ بیان ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ گل بی بی صرف “تلوار” یا “بندوق” سے نہیں بلکہ اپنی شخصیت، ذہانت اور قیادت سے بھی جنگ لڑ رہی تھیں۔

گل بی بی نے بلوچ سرزمین کے دفاع میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جنگ میں وہ صرف ایک جنگجو نہیں، بلکہ ایک کمانڈر کے طور پر سامنے آئیں، جو دشمن پر “حکمتِ عملی” سے حملے کرتی تھیں۔

گل بی بی ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ “بلوچ خواتین” ہمیشہ سے ہی صرف “سماجی” یا “خاندانی کرداروں” تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ “مزاحمت” اور “قیادت” کا بھی حصہ رہی ہیں۔ آج کے دور میں جب دنیا بھر میں خواتین کی بہادری اور قیادت پر بات ہو رہی ہے، تو گل بی بی کی “کہانی” کو زیادہ نمایاں کرنا ضروری ہے تاکہ آنے “والی نسلیں” ان سے سبق لے سکیں۔

گل بی بی کی “داستان” صرف بلوچ تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ وہ ایک “عالمی مثال” ہیں کہ کس طرح ایک عورت، چاہے وہ کسی بھی خطے سے ہو، آزادی اور خودمختاری کی جنگ میں قیادت کر سکتی ہے۔ ان کی شخصیت حسن اور بہادری کا ایسا امتزاج تھی کہ “دشمن” بھی ان کے رعب اور عظمت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔

تیس جون 2025 کی وہ صبح تاریخ کے لہو رنگ صفحات میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو گئی، جب مغربی بلوچستان کے خاش شہر میں ایرانی فورسز کی گولی سے 40 سالہ خان بی بی بامری شہید ہو گئیں۔ یہ واقعہ محض ایک خونچکاں لمحہ نہیں بلکہ بلوچ خواتین کی صدیوں پر محیط مزاحمتی تاریخ کی گونج تھی۔ خان بی بی کی شہادت ہمیں ایک اور تاریخ ساز بلوچ خاتون، “گل بی بی بلوچ” کی جدوجہد اور “مائی چاہ گلی” کی داستان کی یاد دلاتی ہے۔

خان بی بی کا تعلق بامری قبیلے سے تھا، جو بلوچوں کے جدگال شاخ سے جُڑا ہے۔ علاوہ ازیں جاموٹ، گنگو، برفت، صابرو، مطاہر، واڈیلہ، ہملانی، رونجو، انگاریہ، بھوتانی، پالاری، گدور، ساسولی، سراج زئی، جعفرانی، منگیاڑی، جام، لاسی اور دیگرقبائل کا تعلق جدگال نسل سے بھی ہیں۔

“جدگال بلوچ” صرف ایک قبیلہ نہیں، بلکہ ایک ثقافتی، لسانی اور سیاسی وحدت ہے جو ماضی میں دشتیار (ایران) سے لے کر کوٹری (موجودہ سندھ) تک پھیلی ہوئی ریاست رکھتا تھا۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں مائی چاہ گلی جیسی خاتون نے حکومت کی، عدل قائم کیا، فوج بنائی، اور قبائلی نظام میں خواتین کو مساوی مقام دیا۔

جدگال زبان خود بلوچی، فارسی اور سندھی کا حسین امتزاج ہے، جو آج بھی لسبیلہ، حب، کراچی، ایران اور خلیج کے ممالک میں بولی جاتی ہے۔

جدگال بلوچ صرف زبان و نسل نہیں بلکہ ایک جنگجو اور منظم قبیلہ بھی ہے، جس نے وقت کے جبر کے آگے سر نہیں جھکایا۔

جب جدگال ریاست کو قیادت کی ضرورت تھی، تو موروثی سیاست کے بجائے قبائل نے ایک عورت، مائی چاہ گلی کو متفقہ طور پر ریاست کا سربراہ مقرر کیا۔ اُس نے بیلہ سے دارالحکومت کوٹری (موجودہ سندھ) منتقل کیا تاکہ ریاست کو خارجی حملہ آوروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مائی چاہ گلی نہ صرف عسکری قیادت میں ممتاز تھیں بلکہ وہ ایک اصلاح پسند بھی تھیں۔ انہوں نے بلوچ معاشرے سے فرسودہ رسم و رواج کا خاتمہ کیا اور خواتین کو وہ عزت و اختیار دیا جو اُس وقت خطے میں ناپید تھی۔ ان کے دور میں ریاست ایک فوج، عدالت، پارلیمنٹ اور منظم انتظامی ڈھانچے پر قائم تھی ایک ایسا ماڈل جو آج کی “ریاستیں” بھی پورا نہیں کر پاتیں۔

گل بی بی بلوچ، خان بی بی بامری، اور مائی چاہ گلی یہ تینوں بلوچ خواتین کی وہ علامتیں ہیں جنہوں نے وقت کے ہر ظلم، جبر اور سامراج کے سامنے قلم، تلوار اور قیادت کے ساتھ مزاحمت کی۔ یہ تسلسل ہمیں بتاتا ہے کہ بلوچ عورت کبھی کمزور نہیں تھی۔ وہ کبھی بھی صرف گھریلو کردار تک محدود نہیں رہی، بلکہ محاذ کی اگلی صف میں کھڑی رہی۔

مائی چاہ گلی کی وفات کے بعد جدگال ریاست آہستہ آہستہ زوال پذیر ہوئی اور سکڑ کر لسبیلہ تک محدود ہو گئی۔ بعدازاں یہ علاقہ 1742 سے 1955 تک ریاست لسبیلہ کہلایا، جس کا اختتام پاکستان سے جبری الحاق پر ہوا۔

ریاست کے آخری والی جام غلام قادر تھے۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے دادا تھے۔ یوں جام علی خان سے لے کر جام غلام قادر تک یہ سیاسی تسلسل گیارہ پشتوں پر محیط رہا، جو بلوچ قبائلی اور ریاستی سیاست کا ایک الگ باب ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ان کرداروں کو نصاب، میڈیا، ادب اور قومی شعور کا حصہ بنایا جائے۔ تاکہ ہماری نسلیں جان سکیں کہ ان کی تاریخ غلامی، کمزوری اور جبر سے نہیں، بلکہ غیرت، قیادت اور قربانی سے لکھی گئی ہے۔