ہر قوم کی آزادی کا ایک الگ راستہ ہوتا ہے،کوئی پہاڑوں سے لڑتا ہے،کوئی لفظوں سے وار کرتا ہے،کوئی گوریلا بن کر چھاؤں میں دشمن کا تعاقب کرتا ہے۔ مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی سانسوں کو ہتھیلی پر رکھ کردشمن کے دروازے پر دھماکے کی صورت میں دستک دیتے ہیں۔ یہی ہوتے ہیں:وطن ندریگ ! وطن ندریگ کوئی وقتی جذبہ نہیں یہ کوئی اندھا جنون نہیں یہ سوچ کی آخری سرحد ہے،وہ نظریہ ہے جہاں دلیلیں ختم اور خون بولنے لگتا ہے۔ وطن ندریگ جانتا ہے کہ واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ مگر وہ اس یقین سے جاتا ہے کہ اس کا جاناسو قافلے بیدار کرے گا،سو نعرے بلند کرے گا،اور دشمن کی نیندیں حرام کر دے گا۔اگر گوریلا جنگ دشمن کے جسم کو تھکاتی ہے،تو وطن ندریگ حملہ اس کی روح پر ضرب بن کر گرتا ہے۔ گوریلا اندھیرے میں حملہ کرتاہے وطن ندریگ روشن دن میں، دشمن کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھماکہ کرتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں موت شکست نہیں،قربانی کی معراج ہے،یہاں جیت دشمن کو ہرانے میں نہیں اپنی جان سے پیغام چھوڑنے میں ہے۔ ہم نے وہ وطن ندریگ دیکھےجنھوں نے وردی نہیں پہنی،مگر شہادت کا لباس زیب تن کیا،اور دشمن کی نگاہوں میں آنکھیں ڈال کر امر ہو گئے۔ ہم نے وہ جوان دیکھےجنہوں نے دشمن کے قلعے میں گھس کر اعلان کیا:

<span;>> “ہم تمہارے ٹینکوں سے نہیں ڈرتے…

ہم خود بارود بن چکے ہیں!” وطن ندریگ گولی دشمن کو نہیں خود کو مارتا ہےتاکہ اُس کا نظریہ قید نہ ہو،نہ جسم، نہ خواب ، کچھ بھی دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔ وہ چاہتا ہے کہ دشمن اُس کی زندگی سے نہیں ،اُس کی شہادت سے ڈرے۔ وطن ندریگ صرف دشمن کے جسم پر وار نہیں،قوم کی روح پر ایک بیدار صدا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بات عزت، غیرت اور آزادی کی ہو تو جان دینا سب سے مقدس سودہ بن جاتا ہے۔ ہم گوریلا جنگ کو مانتے ہیں، چھاپہ مار جنگ کے اصول بھی جانتے ہیں…مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کبھی کبھار آزادی کے دروازےدھماکے کی گونج سے ہی کھلتے ہیں۔ یہ تحریر اُن وطن ندریگ کے نام جن کے جسم بارود بنے،اور جن کے خون نے پرچم کو لال رنگ دیا۔جنہوں نے دشمن کے دل میں گھس کر لڑا،اور اپنے جسم کے ٹکڑوں سے بھی انقلاب کو آواز دی۔