بلوچستان میں شہادتوں کے لمبی کہانیاں ہیں ان ہی کہانیوں سے میں سے ایک جو میرا سرگزشت ہے میں قلمبند کر رہا ہوں۔ شاید اس کہانی کو لکھنے میں لفظ میرے ساتھ نہ دیں لیکن کوشش کرونگا۔ جب میں نے جنگ کیلئے پہاڑوں کا رخ کیا تو مجھے بہت سے ساتھی ملے لیکن دو ایسے ساتھی بھی تھے جن کو اس جنگ میں تین سال ہوگئے تھے اور وہ دونوں ہر جگہ ایک ساتھ تھے جنگ ہو یا اوتاک ہو ہر جگہ ایک ساتھ تھے اگر اوتاک میں مزاق مسکرا ہوتا تھا تو وہ دونوں بہت خوش مزاج اور ہنس مکھ تھے۔ جنگ ان دونوں کیلئے ایک کھیل تھا وہ جنگ میں بہت ماہر تھے مجھے اوتاک میں دو مہینے ہوگئے تھے اور میں نے ان دونوں کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ دونوں دوسرے اوتاک میں تھے جب ہم ساتھیوں نے دژمن کے ایک کیمپ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیاتو ہم لوگوں نے بولان سے دوکی کا سفر کیا اور یہ میرا پہلا جنگ تھا اور اس جنگ میں میں نے ان دونوں کو بھی دیکھا۔ جی ہاں میں بات کررہا ہوں شھید گل محمد بلوچ عرفِ وحید بلوچ اور تاج محمد عرفِ بابُل بلوچ کی۔ شھید گل محمد بلوچ ایک بُہادر چالاک اور ھنُرمند سرمچار تھا اس نے کبھی بھی کسی دوست کو ناراض نہیں کیا اور شهید گل محمد بلوچ جب بھی بات کرتا تھا تو اس کے زبان میں صرف پیار اور محبت کا لفظ نکلتا تھا جب کوئی ساتھی سفر میں تھک جاتا تھا تو شھید اس کا سارا سامان(بڈْ) خود اُٹھا لیتا تھا اور اس ساتھی کے چہرے میں خوشی آتا تھا ۔شهید گل محمد بلوچ عسکری حساب سے بہت ماہر تھااس لئے اوتاک میں سب اسے وحید کماڈو کہا کرتے تھے وہ پڑھا لکھا نہیں تھا کیونکہ شھید کا پچپن پہاڑوں میں گزرا تھا اور پھر جلا وطنی کی زندگی افغانستان میں گزارا تھا لیکن پھر بھی وہ باشعور اور باسما انسان تھا۔ جب رات کو دیوان ہوتا تھا تو آپ سب کو جنگ کے بارے میں بتایا کرتے تھےجنگ میں اپنے زخمی دوستوں کو کیسے نکالنا ہے اپنے سامان کو کیسے استعمال کرنا ہے ایک دوسرے سے مہر و محبت کرنا چائیے۔ لیکن پتہ نہیں تھا کہ اتنی جلدی وہ اپنی گلزمین کی خاک میں سماجا ئیگا۔ شهید تاج محمد بلوچ عرفِ بابّل بلوچ ایک خوش مزاج اور ہنسہ مکھ سپاھی تھا اور شهید کا صبر اور برداشت پورے اوتاک میں مشہور تھا۔جب ساتھی کوئی مشن یا پھر جنگ کا پروگرام بناتے تھے تو شھید تاج محمد بلوچ کو کہا جاتا تھا کہ سب ساتھیوں کو آپ نے تربیت دینا ہے سب دوست شھید کو بابُل نہیں کہتے تھے بلکہ ماسٹر مائنڈ کہتے تھے۔ شھید تاج محمد بلوچ نے اپنا بچپن بولان میں گزارا اس وجہ سے اس نے نہیں پڑھا اور بولان میں آپریشن کی وجہ سے ان کا خاندان افغانستان میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ شھید تاج محمد بلوچ جب اوتاک میں فارغ بیٹھتے تھے تو وہ کبھی بندوق صاف کیا کرتا تھے تو کھبی دوستوں کو ٹرینگ دیا کرتے تھے لیکن کس کو پتہ کہ زندگی ایک دروھاپ ہے اور شهید تاج محمد بلوچ نے اپنے جسم کی ٹکڑوں سے ثابت کیا کہ وہ اپنے گلزمین کا بُہادر بیٹا تھا۔ جب اس گھر میں فدائی درویش بلوچ ، شھید چاکر بولانی اور شھید غلام رسول بلوچ نے جنم لیا تھا تو اس گھر میں وحید بلوچ جیسے بہادر سپوت ضرور جنم لینگے اور جس گھر میں شہید ماما نادر بلوچ ، شہید قادر بلوچ ، اور شہید لعل محمد بلوچ نے جنم لیا تھا تو اس گھر میں بابُل بلوچ ضرور جنم لینگے۔ آپ دونوں نے ہم کو یہ دکھایا کہ قربانی کس چیز کو کہتے ہیں آپ دونوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا آپ دونوں کا منگنی بھی ہوا تھا لیکن اس بے رحم جنگ میں سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے جب شہید تاج محمد بلوچ اور شہید گل محمد بلوچ کو چھٹی ملا تھا اور وہ دونوں اوتاک سے نکل گئے تھے پھر کچھ دنوں بعد وہ واپس اوتاک میں آئے شاید راستے بند تھے کیونکہ بارڈر پر فوج کا آپریشن ہورہا تھا اور ایک دن تنظیم کے مشن کیلئے چلے گئے اور وہ میرا آخری دن تھا کہ میں نے اپنی دوستوں کو دیکھا اور 9/12/2024 کی رات کو دونوں نے جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کیلئے نمیران ہوگئے جمبرو میں آپ دونوں کا خون ہمیشہ مہکتا رہے گا بولان کے پہاڑ آپ دونوں کا مثال ہر سرمچاروں کو دیگا اور کہیگا کہ آپ دونوں نے اپنے جسم کے ٹکڑوں سے یہ ثابت کیا کہ بلوچ قوم اور بلوچستان لاوارث نہیں ہے















