ہمگام کالم : آپ نے ریسرچ کی ہوگی کہ پاکستان کی دنیا میں کتنے سفارتخانہ موجود ہیں اور ان میں کام کرنے والے بلوچستان بابت بین الاقوامی سطح پرکس طرح زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہونگے۔ کچھ سال قبل جرمنی میں بلوچ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا اس مظاہرے کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی فوجی جرنیلوں اور آئی ایس آئی کے انتہائی قریبی افیسران عام شخص کی بھیس میں وہاں موجود ہیں۔ اس بلوچ مظاہرے میں ایک پنجابی آفیسر نے مداخلت کرتے ہوئے پاکستان کے حق میں اور بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف نعرے بازی کی کوشش کی لیکن بی آر پی کے دوستوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے پاکستان کی اس سازش اور بدمعاشی کو ناکام بنایا۔ انہوں نے اپنے کیمرہ سے ویڈیو لیتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں انڈین ‘ را ‘ کا ایجنٹ کہہ کر اپنے ناظرین کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں باہر بیٹھے مظاہرہ کرنے والے بلوچ نہیں بلکہ ہندوستان، افغانستان اور دیگر اقوام کے لوگ ہیں جو بلوچوں کے نام پر دنیا کو ورغلا رہے ہیں۔ بلوچ رہنماوں اور پارٹیوں نے پاکستان کی اس زیریلی اور گمراہ کن ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے تحریک آزادی کو بلوچستان سے باہر پھیلایا تاکہ عالمی سطح پر بلوچ قومی تحریک ، بلوچ قومی شناخت کو غلط رنگ میں پیش کرنے جیسے پاکستانی ناپاک عزائم کا تدارک کیا جاسکے۔ سربراہ فری بلوچستان موومنٹ بلوچ قوم دوست رہنما سنگت حیربیار مری کی قیادت نے عالمی سطح پر بلوچ قومی کاز کو اجاگر کرنے کی ضرورت کو ہمیشہ شدت سے محسوس کیا ہے، اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے آپ نے نوجوانوں کو ملک اور بیرون ممالک متحرک کیا ہے، امریکی ایوان نمائندگان کانگریس کی جانب سے آزاد بلوچستان پر بحث اور بلوچستان کی آزاد حیثیت کو تسلیم کرنے کی قرار داد کا پیش ہونا یا لندن عدالت میں آزاد بلوچستان کے مطالبہ کو واشگاف الفاظ سے اظہار اور حمایت ، بلوچستان لبریشن چارٹر کا اجرا ہو یا اب رواں سال جنوری سے شروع کی جانے والی فری بلوچستان موومنٹ کی جانب سے جرمنی میں عالمی دستخطی آگاہی مہم ہو، سنگت حیربیار مری نے ہر وقت بلوچ قومی مسئلے کو پارٹی، گروہی سیاست کا شکار بنانے کی بجائے اسے قومی مسئلہ سمجھا اور قومی امنگوں کے مطابق دنیا کے سامنے رکھ کر اسی مطابق اپنے فکری دوستوں کی رہنمائی کی ۔ گذشتہ اٹھارا سالوں سے مختلف بلوچ آزادی پسند پارٹیوں کے نوجوان اپنے تہیں ہر سطح و ہروقت اس کوشش میں لگے رہے کہ بلوچستان بابت مثبت اور درست معلومات مہیا کرسکیں۔ پاکستانی میڈیا جنگ میں بلوچ سے آگے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ باطل ہے اوربلوچ قوم برحق ہیں۔ باطل جتنی بھی چالاک اور مالدار ہو وہ سچ کے آگے ٹک نہیں پائے گا۔ آج بلوچ قومی آزادی کی اخلاقی حمایت میں زبردست اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہمارے برادرانہ پڑوسی ممالک افغانستان، ہندوستان کے عام عوام سوشل میڈیا میں بلوچ قومی تحریک آزادی کی بھر پور حمایت کے لئے میدان میں اتر چکے ہیں۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ٹوئٹر اور فیس بک پر جب بھی سیاستدان اور سماجی ارکان بلوچستان کی حمایت میں کوئی بھی ٹوئیٹ یا پوسٹ کرتے ہیں تو وہ لمحوں کے اندر ہزاروں لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جب پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پشتونخواہ میں طاقت کے استعمال پر افغانستان کی جانب سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا تھا تو ان کے اس ٹوئیٹ کوگھنٹوں کے اندر اندر ہزاروں لوگوں نے پسند کیا تھا اسی طرح ہندوستان سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر پر سرگرم سیاستدان اور سابقہ فوجی اہلکار بلوچستان کی حمایت میں مسلسل لکھ رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں افغانستان این ڈی ایس کے سابقہ چیف اور نئے صدارتی امید وار رحمت اللہ نبیل نے اپنی سماجی رابطے کی ٹوئٹر اکاونٹ پر عمران خان کے اس تقریر پر سخت رد عمل ظاہر کی تھی جس میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آنے والے وقتوں میں افغانستان میں اچھی حکومت آنے والی ہے۔ عمران خان کی اچھے حکومت سے مراد کابل پر طالبان کا ایک بار پھر غلبہ ہونا ہے ۔ اس کے جواب میں رحمت اللہ نبیل نے کہا تھا کہ افغانستان اب بدل گیا ہے اب جی ایچ کیوں اپنی خواہش کی حکومت ہم پر مسلط نہیں کرسکتا انہوں نے افغانستان کے عوام اور لوگوں کو متحد ہونے کا کہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بلوچ بھائیوں کی حمایت کرنی چاہیے اور آزاد و خود مختار بلوچستان کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ بلوچستان کے پڑوسی ممالک افغانستان اور ہندوستان کی جانب سے بلوچوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت ہیں۔ بلوچ قیادت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان بابت دنیا کے تمام ممالک سے اپنے روابط تیز کریں تاکہ پاکستان کی پھیلائی گئی ریاستی زہر افشانی کا موثر اور قومی طاقت سے مقابلہ کیا جاسکے۔ سوشل میڈیا اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر جب بھی حصہ لیا جاتا ہے تو ہماری مقدص قومی ذمہ داریوں میں سرفہرست یہ ہونی چاہیے کہ ہم بلوچ قومی کاز کو صحیح معنوں میں پیش کریں، ہزاروں لاکھوں بلوچ ماوں بہنوں نے اپنی قیمتی لہو اور زندگیاں جس راہ پر قربان کی ہیں اس مقصد (آزاد بلوچستان) کو کسی این جی اوز کی اعتراض کا بھینٹ نہ چھڑائیں، اپنے ذاتی اور پارٹی مجبوریوں کو کبھی بھی اپنی مقصد منزل کی راہ پر رکاوٹ نہ بننے دیں۔ پڑھنے اور سننے والوں کے لئے کوئی بھی تذبذب کا موقع نہ دیں، جس میں وہ سوچتے ہو کہ انسانی حقوق کی پائمالی کیوں ہورہی ہے، ہزاروں لوگ ریاستی عقوبت خانوں میں کیوں مقید ہیں، ہزاروں سیاسی اسیران مسخ شدہ لاشوں میں تبدیل کیے گئے کچھ زندہ لاش کی صورت میں بازیاب کیوں ہورہے ہیں، لاکھوں لوگ کیوں بے گھر ہوئے ہیں، ہزاروں کیوں نان شبینہ کا محتاج بنا دیے گئے؟ ان سب کی وجوہات کیا ہیں؟ کوئی بھی باہنر، با صلاحیت، مخلص اور قومی امنگوں کے امین رہنما دنیا کے کسی بھی فورم پر سینہ تھان کر ان سوالوں کا جواب بلا لگی لپٹی اور بنا کسی ڈر و خوف کے دے سکتی ہے ۔ ان سب ریاستی مظالم، دہشت گردی، بلوچوں کے گھروں کاجلائے جانا، مال مویشیوں کو لوٹنا ، فصلوں کو جلانا، لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کرنا اور آئے روز بمباری، ریاستی جبر اس لئے ہورہے ہیں کیونکہ پاکستان نے بلوچ گلزمین پر قبضہ کیا ہے، اور اس قبضہ کے خلاف بلوچ قوم اپنی آواز بلند کررہی ہے، جو بھی اس قبضہ کے خلاف بولے گا لکھے گا وہ ریاست کے نشانہ پر رہے گا ۔ ہماری تمام تر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم دنیا کو اپنا اصل مدعا سمجھائیں ، بلوچ اور قابض ایران و پاکستان کے مابین اصل جھگڑا بلوچستان کی جبری قبضہ پر نہ کہ جبری گمشدگیوں پر کیونکہ اگر ہمارا سرزمین پر جبری قبضہ نہ ہوتا تو شائد کوئی گمشدہ بھی نہ ہوتا، کوئی گھر نہ جلایا جاتا، کسی کی مسخ لاش نہ ملتی اور کوئی بلوچ معاشی مجبوریوں کا شکار نہ ہوتا ۔ بلوچستان میں بلوچ عوام ہماری قیادت پر آس لگائے بیھٹی ہے، ہزاروں ماوں بہنوں کے ورثہ ایران اور پاکستان بابت کسی بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلوچستان کی خاموش اور سہمی ہوئی عوام کی ارمانوں کا خلاصہ یہ ہے کہ بلوچ آزادی پسند پارٹیاں بیرون ممالک جہاں بھی جب بھی مظاہرے یا مہم چلائیں وہ ان ریاستی مظالم کو ضرور اجاگر کریں لیکن ان ریاستی مظالم اور بربریت کی وجوہات بھی بیان کریں ، اس جبر، قتل و غارت گری اور ریاستی دہشت گردی کی بنیادی وجہ بلوچ قومی غلامی ہے اور جب تک ہماری قیادت اور پارٹیاں دنیا کو بلوچ قومی غلامی کا دیرینہ اور اہم مسئلے بابت قائل نہیں کرپاتے اس وقت تک بلوچ قومی مسئلے اپنی صحیح روح سے اجاگر نہیں ہوپائیں گی۔ بلوچستان کا پاکستان و ایران کے ساتھ جھگڑا کسی گھریلو اور آپسی چپقلش کی وجہ سے نہیں ہے نہ ہی یہ پاکستان و ایران کا اندرونی مسئلہ ہے، نہ ہزاروں بلوچ کسی سماجی برائی کے الزام میں اٹھاکر غائب کردیئے گئے نہ ان کو کسی گھر پر نقب زنی کے الزام میں گولی ماری جارہی ہے، جس آئین کو پاکستانی فوج اور ایران کے پاسداران خود نہیں مانتے وہ آئین بلوچ قوم پر لاگو کیسے ہوگی؟ جس پر کسی بلوچ قومی نمائندے نے کبھی دستخط ہی نہیں کیے۔ لالچ ، خوف اور دہشت کا شکار بنا کر بلوچوں کو جس قومی دھارے میں شامل کرنے کا ڈھونگ رچایا جارہا ہےپنجابی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بلوچ کو بلوچیت کے دھارے سے نکال کر کونسی قومی دھارے میں شامل کیا جارہا ہے؟ پنجابی اور بلوچ قوم کی زبان، رہن سہن، ثقافت ، تاریخ اور جغرافیہ جب ایک نہیں تو قوم کیسے ایک ہوگئے۔ بلوچ اگر ہندوستان سے مدد مانگتےہیں تو غدار لیکن ہندوستان سے جدا ہوئے پنجابی سے نذدیکی کیسے محب وطنی ٹھہرا؟ ہم جہاں بھی جائیں، جس کسی سے بھی ملیں ہماری قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم بلوچستان اور پاکستان و ایران کے مابین بنیادی، دیرینہ تضادات کو اجاگر کریں یہ تضادات زبان، جغرافیہ اور تاریخ پر محیط ہیں۔ ہمارے بیچ جو بھی رشتے ہیٰں وہ غلام اور آقا کے ہیں، اور آقا سے انصاف کی مانگ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان سے یہ توقع کررہے ہیں کہ وہ ہماری پاوں کی بیڑیاں اور گلے کی زنجیروں کو تھوڑاڈھیلا کرے ، زنجیریں ڈھیلا کرنے اور پنجرے کو کشادہ کرنے کی سوچ قومی آزادی کی مطالبے کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ آج بھی کچھ پارٹیاں بیرون ممالک میں انسانی حقوق کی پائمالی کا رٹا لگاتے ہیں لیکن ان انسانی حقوق کی بنیادی وجہ اور مسئلے کا جڑ کیا ہے، یہ مسئلہ وہ کس حد تک اٹھا پارہے ہیں اس کا فیصلہ ان کے بیانات، ان کے پارٹی پالیسیوں کا مشاہدہ کرکے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ چند ایک پارٹیاں ایران بابت نرم گوشہ رکھتے ہیں حتیٰ کہ ایران سے مدد بھی مانگنے کا کہہ رہے ہیں ان کو سمجھ لینا چاہے کہ عالمی سطح پر ایران پاکستان کی طرح بلوچوں کا مدعی ہے ، بلوچوں کے فریق دشمن سے مدد مانگنا بلوچ قومی کاز کو عالمی سطح پر قدغن لگانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ بلوچ باشعور نوجوان ایسے کرداروں کے تضاد بیانی سے قوم کو بچاتے ہوئے اپنا قومی فرض نبھانے سے غافل نہ رہں۔ ایسے لوگوں کے خطابات اور موقف کی پوسٹ مارٹم کرنا چاہیے جو بیرون ممالک انسانی حقوق کو اجاگر کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے وہ انہی عالمی پلیٹ فارمز پر ایران میں آئے روز بلوچ قوم کے خلاف ریاستی بربریت، بلوچوں کی آئے دن پھانسیاں جو انسانی حقوق کی پائمالی کے ذمرے میں آتے ہیں وہ اس پر لب کشائی سے کیوں قاصر ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے مسئلوں کو اجاگر کرتے ہیں تو انہیں ایران کے زیر قبضہ بلوچستان اور پاکستان کے زیر تسلط بلوچستان میں ریاستی جبر و استبداد کو یکساں اجاگر کرنے میں کونسی طاقتیں یا گروہی مفادات روک رہی ہیں؟ پاکستان کی گولی بلوچ کے سینے پر لگے وہ دہشت گردی جبکہ ایران کی پھانسی کا پھندے سے بلوچ مرے تو کیوں دہشت گردے کے زمرے میں نہیں آتا، اور ہم گجر کے ہاتھ اپنے بھائی کی موت پر کیونکر تماشائی بن رہے ہیں؟ اس پوسٹ مارٹم کے دوران ہمیں غیر جانبدار ہوکر سوچنا اور تجزیہ کرنا چاہیے کہ ایسے افراد اور پارٹیوں کا رویہ اور پالیسیاں واقعی بلوچ قومی امنگوں کے عین مطابق ہیں یا ایسا تو نہیں کہ وہ بلوچ قومی تحریک کے نام پر اپنی سیاسی دکانداری اور ذاتی و گروہی مفادات میں جھکڑے تو نہیں ہیں؟