انگریزوں کےجانے بعد وہ تمام معاہدات خودبخود ختم ہوگئیں جو تاج برطانیہ نے حاکم بلوچستان سے کئے تھے ۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ 4 اگست 1947 کی میٹنگ میں جو خان قلات کے وزیراعظم اس کے وکیل{ جناح}،لیاقت علی خان اور انگریز وائس رائے کے درمیان ہوا تھا اور اس میٹنگ کی روشنی میں جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اُس کی روشنی میں انگریزوں کے یہاں سے جانے کے بعد بلوچ حاکم کے ساتھ انگریزوں کے تمام معاہدات ختم ہوتے ہیں۔ اور بلوچ خان کے وہ تمام علاقے واپس بلوچستان کا حصہ ہوں گے جو میک مین،سنڈیمن اور ڈیورنڈ معاہدات کے تحت اُس سے الگ کئے گئے ہیں ۔ برٹش بلوچستان جوانگریزوں نے خان قلات سے لیز پر لیا تھا اور اس میں کچھ افغان علاقے بھی شامل کئے ہیں اُن کی لیز ختم ہوگی اور پشتون افغانستان کا حصہ رہے ہیں وہ افغانستان کے ساتھ جائیں تاہم یہ مرحلہ گفت وشنید سے حل کیا جائے۔ اسی طرح  بلوچ علاقے سندھ اور پنجاب میں شامل کئے جاچکے ہیں وہ سب واپس خان کے تصرف میں آئیں گے لیکن ان معاملات پر پاکستانی قیادت بلوچوں کے ساتھ ملکر پُرامن حل نکالے ۔ مختصراً اس اعلامیہ کے بعد برٹش بلوچستان کو الگ ریاست تسلیم کرنا اور اُس میں نام نہاد ووٹنگ یا خاران، لسبیلہ و مکران کو ایک سازش کے تحت چند دن پہلے اپنے آزادی کا اعلان اور پھر اُن کو پاکستان میں شامل کرنا کوئی خوشی کا الحاق نہیں کہہ سکتا۔ کیا کوئی یہ توقع رکھتا ہے کراچی اور حیدر آباد آج اپنی آزادی کا اعلان کریں اور ہندودستان فوراً اُنکی آزادی کو تسلیم کرے اور اگلے چند گھنٹوں میں یہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کریں۔ یقیناً یہ دیوانے کا خواب اور ایک غیر حقیقی سناریو لگتا ہے کیونکہ پاکستان ایک قوت ہے اور ایسا کرنے نہیں دے گا جبکہ بلوچ کے ساتھ ایسا بھونڈا مذاق اس لئے ممکن ہوا کیونکہ بلوچ کمزور تھا اور ہمسایے بھی اُس کی آزادی کے حق میں تھے ۔ ہمارے دوست اس چیز کا خیال رکھیں کہ 11اگست 1947 کے بعد برٹش بلوچستان اور پرنسلی اسٹیٹ خاران ، لسبیلہ،مکران {مکران میں ویسے بھی قلات کا گورنر بیٹھتاتھا} خود بخود قلات کے طابع ہوچکے تھے اور اُن کے کسی بھی ادارے کے پاس الحاق یاکسی بیرونی قوت سے معاہدات کے کوئی اختیارات نہیں تھے ۔ لہذا اس پاکستانی سازش کو بلوچوں کی مرضی کا الحاق کہنا کسی طرح بھی درست نہیں.