( افغانستان کے طویل جنگ میں پاکستان نے افغانوں اور امریکہ دونوں کو بُری طرح استعمال کیاامریکہ سمجھ رہا رہاتھا وہ پاکستان کو استعمال کر کے سوویت یونین کے خلاف لڑ رہا اور افغانوں کی ایک تعداد یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ کفر کیخلاف جہاد کرکے اپنے وطن کو آزاد کررہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دونوں پاکستان کی جنگ افغانوں کے خلاف لڑ رہے تھے)

افغانوں کی بے بسی اور بدبختی وہاں سے شروع ہوتی ہےجہاں اُنکے ایک محاورے کے مطابق گھر بنانے کا جگہ منتخب کرنے سے پہلے ہمسایہ کا انتخاب کرو اور وہ یہاں وقت اور برطانیہ کے سازشوں کے سامنے بے بس رہے اور اُنکے ایک طرف ایران اور دوسری طرف پاکستان کی شکل میں اُنھیں ہمسایہ ملا جو ہمیشہ اُسکے وجود کے درپے رہے ہیں تیسری اور سب سے بڑی بدنصیبی اسکی اسٹراٹیجی اہمیت کہ اُسکی سرحدیں پہلے زار روس بعد ازاں سوویت یونین سے ملتی تھیں جس کے اثرات سے برطانیہ اور اسکے اتحادی ہمیشہ خوفزدہ رہے ہیں ۔یہی جغرافیائی اہمیت اُس کے لئے مصیبتوں کا سبب بنی رہی ہے۔پہلے انگریز اس پر حملے کرتے رہے ہیں بعد میں جب انگریز برصغیر ہند سے چلے گئے تو بھی افغانستان اُنکی نظروں سے کبھی بھی اوجھل نہیں رہا یہی وجہ ہے انگریز نے یہاں سے جانے کے بعد پاکستان کو یہاں چوکیدار مقرر کیا تاکہ وہ قریب سے نگرانی جاری رکھے نتیجے میں پاکستان نے انگریزوں کی مدد سے انگریزوں کے خلاف لڑنے والے پشتونوں اور بلوچوں کے زمینوں پر قبضہ کیا جو اب بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کی شکل میں اُس کے صوبے ہیں جبکہ افغانستان کو اندر سے کھوکھلا کرنے کوئی موقع ضائع نہیں کیا کیونکہ افغانستان میں مستقل جنگی کیفیت برقرار رکھنا پاکستان کیلئے [ہم خورما و ہم ثواب ]والی بات ہوگئی یعنی ایسا کام کرنا جس کا ثواب کے ساتھ مٹھائی بھی ملے۔

بظاہر حالیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھگڑے کی بنیاد یہ بتائی جارہی ہے کہ افغانستان سے ٹی ٹی پی اور بلوچ آزادی پسند عسکری قوتیں آکر پاکستان میں حملے کرتی ہیں اور افغانستان اُنھیں روکنے میں ناکام ہے بلکہ اُنکی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے ۔یہ بات کہاں تک درست ہےاور کہاں تک نہیں یہ الگ بحث ہےکیونکہ اس سوال پر موجودہ طالبان حکومت پاکستان کو ٹھیک وہی جواب دے رہا ہے جو پاکستان افغانستان میں اپنی مداخلت بارے گزشتہ چالیس پنتالیس سال سے افغان حکومتوں کودیتا رہا ہے کہ ہمارے پاس افغانستان کے اندر حملہ کرنے والا ( مجاہد ،طالب )کوئی نہیں۔

 زیرنظرعنوان کے تحت بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے اپنے سامنے ایک سوال رکھتے ہیں کہ کیوں داؤودخان ،نورمحمدترکئی ،ببرک کارمل ڈاکٹر نجیب اللہ ،ربانی ،کرزئی وغیرہ کے وقت میں بھی پاکستان کی طرف سے مداخلت اور افغانستان میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرکے اس ملک کو خاک و خون میں ملانے کی کوششیں کبھی ختم نہیں ہوئیں ؟ آج اگر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے پاکستان پر حملوں کو جواز بناکر کابل پر بمباری کی جارہی ہے تو کل سوویت یونین کو روکنا بہانہ تھا پھر نام نہاد مجاہدین کے درمیان اقتدارکے حصول پر خانہ جنگی بہانہ تھا بعد ازاں امریکہ کے آنے کے بعد ایک طرف امریکہ کا اتحادی بننا اور دوسری طرف آج کے طالبان کی امریکہ کے خلاف جنگ میں ہر طرح کی مدد کرنا ۔اگر اس سارے تسلسل کو دیکھا جائے تو ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ افغانستان کو کسی بھی بہانے آرام سے جینے نہیں دینا ہے ۔ڈاکٹر نجیب اللہ کے بعد جتنے بھی حکومتیں آئی ہیں وہ سب پاکستان کی مدد سے ہی آئے ہیں مگر جونہی وہ اقتدار حاصل کرتے ہیں اُنکے ساتھ پاکستان کی دشمنی شروع ہو جاتی ہے ۔یہ وہ اصل مسلہ ہے جسے افغانوں کو سمجھنے اور اسکے تدارک کیلئے جامع حکمت عملی بنانےکی ضرورت ہے۔جہاں تک ہم اس مسلے کو سمجھ سکے ہیں اُس کے صرف تین حل ہیں پہلہ پاکستان سے بلوچ اور پشتون آزادی حاصل کر لیں اور پاکستان ڈاؤن سائز ہونے کی وجہ سے افغانستان کے اندر ریشہ دوانی کرنے اور وہاں آگ لگانے کے کھیل سے باز رہے دوسرا افغانستان عسکری اور اقتصادی لحاظ سے اتنا مضبوط ہو کہ پاکستان جو کچھ ابھی اس ملک کے ساتھ ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ کررہا ہے سخت جواب کے خوف سے نہ کرسکے تیسرا یہ کہ پاکستان دل سے افغانستان کو ایک ملک سمجھے اور اُس پر ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ قبضہ کرنے کے ارادے کو اپنے دل سے نکال دے۔

نہیں تو افغانستان کے اندر کسی نہ کسی کی حمایت یا کسی نہ کسی نام و نعرے سے جنگ جاری رہے گی اور پاکستان کا اس میں ہمیشہ مرکزی کردار میں ہی رہے گا۔

ڈیورنڈلائن سےایک قدم آگے : ہم اپنے کئی تحریروں اور مباحثوں میں اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کا اصل مسلہ ڈیورنڈ لائن ہے اور آج بھی اس بات پر قائم ہیں مگر یہاں ایک اور بات غورطلب ہے کہ پاکستان داؤوخان کی حکومت تک اس ڈیورنڈ لائن کے مسلے کو حل کرنے کی تگ و دو میں رہا ہے مگر ثور انقلاب کے بعد جو صورتحال افغانستان میں پیدا ہوئی اور پیدا کی گئی اُس کے بعد پاکستان فقط ڈیورنڈ لائن کو رسمی طور پر ماننے پر اکتفا نہیں کرے گا کیونکہ ثور انقلاب کے ناکامی کے بعد جس طرح اس ملک کو اپنے دفاعی سازوسان و فوج سے محروم کیا گیااُس کے بعد تو پاکستان اُسے ایک آزاد ملک کی طرح نہیں بلکہ اپنے ایک شکار کے طور پردیکھتا ہے جس کو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی طرح مکمل قبضہ کیا جائے یا کم از کم اتنا تو ہو کہ وہاں نام افغان گورنمنٹ کی ہو مگر اُس کے سارے فیصلے اسلام آباد میں کئے جائیں۔

افغان امور کے ماہرین اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ واشنگٹن میں ڈاکٹر نجیب اللہ کے آخری دورے کے دؤراں اُنکے سامنے امریکہ کی طرف سے یہی شرط رکھی گئی تھی کہ ہم آپکی حکومت کے خلاف شورش ختم کردیں گے اگر آپ اس چیز پر راضی ہوجائیں کہ آپ کے تمام معاملات اسلام آباد کے زریعے یا اُس کے مشوروں سے طے ہوں گے اور آپ کا رابطہ ہم سے براہ راست نہیں بلکہ اسلام آباد کے زریعے ہو گا۔

 ڈاکٹر نجیب اللہ نےحکومت گنوانے اور جان سے جانے کی قربانی دی مگر یہ شرط قبول نہیں کیا حتٰی کہ بعد میں جب آپ یواین ایچ سی آر کے دفتر میں پناہ لئے ہوئے تھے اور آپ کے جان کو خطرات لائق تھے اس وقت بھی جب پاکستان اور ایران کے سفیروں نے انھیں اپنے ملکوں کی طرف سے پناہ دینے کی پیشکش کی تو آپ نے مرنے کو ترجیع دی لیکن وہاں پناہ لینا گواراہ نہیں کیا جہاں سے اُس کے ملک میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔

چونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف سوشلزم مخالف بلاک کی سربراہی سنھبالی اور برطانیہ کے پہلے جیسے دب دبے نہیں رہے تو برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو وراثت میں آقاؤں کی چوکیداری ملی۔ اسی لئے تو پاکستان کے کہنے پر امریکہ کے زریعے ڈاکٹر نجیب اللہ کو اقتدار میں رہنے کا لالچ دے کر اسلام آباد کا دست نگر رہنے کا کہا گیا بعد میں جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و پاکستان نے اپنے حواریوں اور بے دماغ مجاہدین کے زریعے سب سے پہلے افغانستان کے آرمی کا خاتمہ کیا کہ وہ دفاعی طور پر کمزور ہوجائے اور اُسے زیر کرنا زیادہ مشقت کا کام نہ ہو ۔جن لوگوں نے امریکہ کی مدد سے کابل فتع کیا انہی لوگوں نے کابل کے اُس وقت کے جدید توپ ٹینک میزائل جہاز وغیرہ پاکستان پہنچائے اور کچھ اسکریپ کے بھاؤ بیچ دئیے ۔اس بار بھی طالبان جب دوحہ کے مشکوک معاہدے کے تحت وارد کابل ہوئے تو فوج تحلیل اور اسلحہ پاکستان اور طیارے سینٹرل ایشیا کے ہمسایہ ممالک منتقل کئے گئے نتیجہ ہر بار ایک ہے کہ افغانستان کو دفاعی طور پر کمزور اور معاشی طور بدحال رکھناہے۔

افغانستان کیساتھ پاکستان کی موجودہ کشیدگی کوئی نئی چیز نہیں بس سابقہ کا تسلسل ہےجو افغانوں کی بدقستی سے اس بار بھی افغانستان کو ویران دیکھنے پاکستان اور امریکہ کےمفادات ایک ہیں جیسے کہ اوپر کہا جاچکا پاکستان افغانستان کواپنے آئندہ ممکنہ شکار کے طور پر دیکھتا ہے جس کیلئے اُسکی بے ثباتی لازمی ہے اور امریکہ یہاں سے نکلنے کی اپنی غلطی کا ازالہ چاہتا ہے جس کے یہاں سے عجلت میں نکلنے کی وجہ سے افغانستان فطری طور پر اپنے ہمسایوں روس اور چین سے قریب ہوتا چلا گیا جو نہ صرف امریکہ کیلئے نا قابل قبول ہے بلکہ وہ افغانستان سے انکی قربت کو اس ریجن میں اپنے اثر ورسوخ کو مستقل طور پر کھونے کے خوف کا شکار ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ چین اور روس جس تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ انھیں کسی طرح بھی روکنے کی پوزیشن میں نہیں سینٹرل ایشیا ،وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا اپنی جگہ اب تو یورپ بھی امریکہ کے ہاتھ سے پھسلنے اور چین سے قریب ہونے جارہاہے( اس موضوع پر الگ موقع پر بحث کریں گے )ایسے میں افغانستان واحد راستہ ہے جہاں سے کسی نہ کسی طرح انکے اثرات کو روکا جاسکتا ہے جس طرح پاکستان نے پہلے امریکہ کے پیسوں سے سوویت یونین کے خلاف افغانوں کو کمزور کرنے افغانوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنی جنگ لڑی دوسری دفعہ دوہزار ایک سے امریکہ ہی کے پیسوں سے امریکہ اور افغانوں کے خلاف جنگ لڑی اس بار بھی وہ اپنے ہی مقصد کیلئے امریکہ کے وسائل سےافغانستان میں جنگ کرنے جارہا ہے اس ضمن میں پاکستانی حکمرانوں کا یہ بیان سو فیصد درست ہے کہ افغانوں نے اپنے سرزمین پر پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔

حرف آخر: امریکہ یوکرائن میں شرمناک شکست کے قریب ہے اس لئے وہ فوراً واپس افغانستان لوٹنا چاہتا ہے تاکہ اتنا تاخیر نہ ہو کہ چین اور روس یہاں مکمل جم جائیں اور بعد میں یہاں لوٹنا ناممکن ہو۔فی الحا ل بیانات کے مطابق وہ بگرام ائیربیس کو واپس اپنے تصرف میں لانا چاہتا ہے جسکی کابل حکومت نے مخالفت کی ہے اور ساتھ میں روس ،چین اور پاکستان نے بھی اسکی مخالفت کی ہے ۔طالبان حکومت چین اور روس کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن پاکستان کی مخالفت سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایسا کہہ کر کس کو بے وقوف بنانا چاہتا ہے کیوں کہ اگر امریکہ کی افغانستان میں موجودگی آپ کو منظور نہ ہوتا تو آپ اُسے کیوں اپنے ملک میں ا ڈے دیتے ؟ وہی اڈے جنہیں اُس نے پچھلے بیس سال تک افغانستان میں اُن لوگوں کے خلاف استعمال کئے جن کو آپکی مکمل سرپرستی حاصل تھی اسے آپ کی چالاکی کہا جائے کہ امریکہ کی کور فہمی جو آخر تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ آپ لکیر کے دونوں طرف سے کھیل رہے ہیں۔

کوئی تردد نہیں ہم یہ بات مکمل یقین سے کہتے ہیں کہ آج بھی اگر امریکہ پاکستان سے افغانستان ،ایران یا کسی اور کے خلاف اڈے مانگے پاکستان انکار نہیں کرے گا جہاں تک افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے پاکستان کی ناراضی کا تعلق ہے کہ اگر امریکہ یہاں رہے گا تو پاکستان کے لئے مسلے پیدا کرے گا اور پاکستان اس کا تدارک چاہتا ہے جو کسی طرح بھی درست نہیں بلکہ بات یہ کہ پاکستان امریکہ اور افغان حکومت کی قربت سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اگر افغانوں نے براہ راست امریکہ سے معاملات طے کرنے شروع کئے(جنکی ابتدا ہوچکی ہے اور طالبان نے پاکستان کے بغیر امریکیوں سے کئی ملاقاتیں کیں ہیں جو پاکستان کیلئے نا قابل برداشت ہے ) تو پاکستان کی چوکیداری کی نوکری کو خطرات لائق ہوں گےبحث سمیٹتے ہوئے یہ بات مکمل یقین سے کہتے ہیں کہ افغانستان میں بدامنی پاکستان امریکہ کے کہنے پر کررہا اگر بات صرف ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کا افغان زمین استعمال کرکے پاکستان پر حملے کی ہوتی تو پاکستان سب پہلے ہندوستان پر حملہ کرتا جس کو پاکستان اپنے اندر تمام حملوں کا زمہ دار و ماسٹر مائینڈ سمجھتا ہے کیونکہ پاکستان نے ان تمام قوتوں کیلئے جو پاکستانی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں ایک باقاعدہ نام مقرر کیا ہے [ فتتنہ الہندوستان ] اگر یہ ہندوستان کا فتنہ ہیں تو ہندوستان پر حملہ کیا جائے نہ کہ افغانستان پر۔

چونکہ ہندوستان طاقتور ہے اور اُس سے جنگ پنجاب کے مفاد میں نہیں اور امریکہ بھی اُس سے جنگ کی اجازت نہیں دیتا تو اُس سے جنگ نہیں کی جاتی اور ہندوستان اور اپنے داخلی تمام سیاسی و اقتصادی ناکامیوں کا غصہ افغانستان پر نکالتا ہے کیونکہ اُسے پتہ ہے کہ اُسے ہم نے امریکہ کیساتھ مل کر دفاعی لحاظ سے بہت کمزور کیا ہے۔ مختصراً یہ جنگ وہ کسی بھی صورت مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا اگر براہ راست نا سہی اپنے پروکسیز کے زریعے گوریلا جنگ برقرار رکھے گا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کوئی بھی شکار جب بڑے شکاری سے زیادہ مزاحمت کرکے زخمی زخمی چھوڑا جائے گا تو اُس کا شکار اُتنا ہی آسان ہوگا ۔اصلی صورت حال یہی ہے کہ نحیف اور کمزور افغانستان پر پاکستان کی للچاتی ہو ئی نظریں ٹِکی ہوئی ہیں اب اس کے جواب میں افغان کیا حکمت عملی بنائیں گے وہ افغانوں کے بصیرت کا سخت تریں امتحان ہوگا۔