جب کبھی میں اپنی بہنوں اور بھائیوں کو پر امن احتجاج کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اور یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ جی یہ ہمارا آئینی حق ہے، جی ہم بھی تو اسی ملک کے باشندے ہیں وغیرہ وغیرہ، تو ذہن میں بہت سے سوالات آتے ہیں۔ جیسے کہ کیا ہم نے خود کو بطور بلوچ پاکستان کا شہری مان لیا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں ہم حقوق کی بات کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں؟ ہماری منزل بطور قوم کیا ہے؟ کیا ہم بطور قوم جدوجہد کر رہے ہیں یا بطور ملک کے شہری؟ قوم اور شہری میں کیا فرق ہے؟ ان 78 سالوں کی غلامی سے شاید ہمیں بہت کچھ سیکھنا تھا؟ تو کیا ہم نے سیکھا؟ شاید چیزیں ابہام کا شکار ہیں۔
پاؤلو فراری مظلوموں کی ترقی میں لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمیں یہ تعین کرنا چاہیے کہ ہم چاہتے کیا ہیں؟ اور چاہنے کا سبب کیا ہے؟ پھر اس کا نتیجہ یا انجام سمجھنا ہوگا۔ مطلب یہ کہ ہم بطور قوم پہلے یہ سمجھ جائیں کہ ہمیں کیا چاہیے، جنگ یا پر امن جدوجہد؟ جنگ کا نتیجہ کیا ہے؟ کون سا راستہ ہماری منزل کی طرف جاتا ہے؟ ہماری منزل کیا ہے؟ کچھ حقوق یا آزادی؟ پھر ہم شاید آگے بڑھ کر کچھ کر سکیں۔
سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پر امن جدوجہد کون کرتا ہے؟ پر امن جدوجہد وہ لوگ کرتے ہیں جو ملک کے آئین کو مانتے ہیں۔ جن کا مقصد اس ملک کی بھلائی کے اندر ہوتا ہے۔ وہ حق و حقوق کا نعرہ اس لیے بلند کرتے ہیں تاکہ انھیں حق مل سکے اور ملک صحیح راستے پر گامزن ہو۔ کیا بلوچ بھی یہی چاہتا ہے؟ اگر نہیں تو کون سا راستہ ہمیں اپنانا ہوگا؟ کیونکہ اگر ہم دیکھیں تو ایک طرف ہم جنگ کی باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف حق و حقوق کا نعرہ الاپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ خود میں ہی تضاد ہے۔ بقول بابا مری “سرد اور گرم بہ یک وقت ایک منہ میں نہیں سما سکتے”۔
اگر بابا مری کی بات کو مان کر چلیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنی منزل کی شناخت کی ضرورت ہے اور پھر ایک راستے کو چننے کی ضرورت ہے۔ ہاں اگر جنگ ہی ہمیں منزل تک پہنچا سکتی ہے تو پھر ہمیں جنگ کی سختی کو برداشت کرنا ہوگا۔ جنگ کو سمجھنا ہوگا۔ جنگ کو اپنانا ہوگا۔ بقول بلوچ شاعر “جنگ اور رونا ایک ساتھ نہیں ہوسکتا”۔ مطلب اگر جنگ کو ہی چننا ہے تو مکمل اسی راستے پر گامزن ہونا ہوگا، پھر ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ اور سمجھنا ہوگا کہ ہم بطور قوم ایک جدوجہد کر رہے ہیں۔ بقول صورت خان مری “ہم کہتے ہیں کہ جی ہم نے جنگ کی شروعات کر دی ہے، تو پھر ہمیں ڈٹے رہنا ہوگا لیکن اگلے لمحے پھر ہم خود ہی نعرہ بازی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ جی جنگ بندی کرو، چھاؤنیاں بند کرو، فوجی چوکیاں بند کرو، فوج کو نکالو”۔ اس طرح قومی جدوجہد نہیں ہوسکتی۔ اگر ہم خود ہی کہہ رہے ہیں کہ جنگ شروع کی ہے تو اسے منزل تک پہنچنا ہوگا، وگرنہ ہم پھر سے اپنی منزل سے دور ہوتے رہیں گے۔ اور منزل سے دور ہونے کا مطلب ہے اپنی شناخت سے دور ہونا۔
ایک اور جگہ صورت خان مری کہتے ہیں کہ 1960 کی دہائی کے بعد میں نے کسی قومی تحریک کو نعرہ بازی کرتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن بدقسمتی سے بلوچ ابھی بھی اسی ابہام میں ہے کہ اسے کیا چاہیے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اتنے سارے احتجاجوں کے بعد بھی ہمیں کچھ نہیں ملا، تو کس چیز کی امید ہے؟ مجھے یاد ہے جب ماہرنگ بلوچ اسلام آباد سے کوئٹہ آئیں تو انھوں نے ایک تقریر کی کہ جی ہمیں بھولنا نہیں ہے کہ انھوں نے ہماری بہنوں کی بے حرمتی کی ہے۔ (تو ایک عام انسان کیا سوچے گا؟ ظاہر ہے یہی سوچے گا کہ اب کوئی راستہ نہیں بچا سوائے جنگ کے) لیکن کچھ ہی ہفتوں بعد وہی لیڈر (مجھے نہیں پتہ کہ واقعی لیڈر کی حد و اصول تک پہنچ چکی ہیں یا نہیں) کو کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہمیں غیر قانونی طور پر جیل میں بند کیا جا رہا ہے؟ کیا واقعی غلام کے لیے بھی قانون ہے؟ کچھ دنوں پہلے ڈاکٹر ماہرنگ کی بہن اسلام آباد میں یہ کہتے ہوئے سنائی دیتی ہیں کہ جی ہم اب مزید شدت لائیں گے؟ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ پر امن احتجاج میں شدت کے کیا معنی ہیں؟ اور پھر اسی دوران ماہزیب بلوچ یہ کہتی ہیں:
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
اگر ہم دونوں کی بات کو سنیں تو حیرت ہوگی کہ دونوں کہنا کیا چاہتی ہیں؟ مطلب پر امن احتجاج میں سرفروشی کی تمنا کہنے کا کیا مطلب ہے؟ شاید ہم اپنے اصطلاحات میں واضح نہیں کہ ہم کہنا یا چاہتے کیا ہیں؟ اگر میں ان جملوں کو پاؤلو فراری کے praxis میں تولوں تو یہ fit نہیں ہوسکتے۔ بات اور عمل اپنی جگہ، یہاں دونوں باتوں میں تضاد ہے۔ ہم نے شاید دنیا سے، یا پھر اتنی بربریت سے زیادہ نہیں سیکھا ہے۔ اور ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پر امن احتجاج، سلوگن و جدوجہد سے آزادی ناممکن ہے۔ ہاں حقوق شاید مل جائیں؟ اور اگر حقوق ہی چاہیے تو کیا بی این پی کافی نہیں تھا؟ کیونکہ بی این پی بھی وہی مانگ ہی رہا ہے۔ اور ہمارے لیڈران تو اختر مینگل کے ساتھ بہت بار احتجاج کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ جیسا کہ کچھ ہی مہینوں پہلے ہوا تھا جہاں ڈاکٹر صبیحہ اور اختر مینگل ایک ہی چیز کی مانگ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
تو سوال اٹھتا ہے کہ اگر واقعی مسئلے کا حل احتجاج میں ہی ہے تو ان کا کیا جو لڑ چکے ہیں یا لڑ رہے ہیں؟ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ پر امن جدوجہد کا کوئی فائدہ نہیں، صرف جنگ ہی واحد حل ہے۔ تو کیا؟ ہم کس راستے پر جائیں یا جانا چاہیے؟ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ پڑھنے والے لوگ نہیں ہیں اس لیے چیزیں ابہام کا شکار ہیں لیکن مجھے لگ رہا ہے پڑھنے والوں نے تو چیزوں کو اور بھی زیادہ کنفیوزنگ بنا دیا ہے۔ جو جانتے ہوئے بھی انجان بنتے ہیں۔ ہاں، بس خود کو بھی مطمئن کر رہے ہیں کہ جی ہم تو چالاکی کر رہے ہیں، دشمن کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ عجیب سی نوعیت ہے۔ لیکن یہ کلیئر ہے کہ دشمن کا پتہ نہیں، خود کو اور قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور دشمن کو کچھ نہ سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔
سورت خان مری، بی ایس او اور بی این ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے نعرے بے معنی اور گمراہ کن ہیں۔ اور واقعی ہی سچ ہے۔ شاید سورت خان مری نے یہ بات بہت پہلے کی تھی، لیکن کیا چیزیں بدل
سورت خان مری، بی ایس او اور بی این ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے نعرے بے معنی اور گمراہ کن ہیں۔ اور واقعی ہی سچ ہے۔ شاید سورت خان مری نے یہ بات بہت پہلے کی تھی، لیکن کیا چیزیں بدل چکی ہیں؟ جی نہیں، وہی بے معنی نعرہ بازی، وہی گمراہ کن بیانات کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہاں، بس تنظیموں کے نام بدل چکے ہیں لیکن کام وہی کا وہی۔ ابھی تک بلوچ کو یہ سمجھا نہیں سکے کہ جدوجہد کس لیے اور کیوں کرنا چاہیے، اور کس نوعیت کی جدوجہد ہونی چاہیے۔ ہمیں سائنٹفک طریقوں سے گزرنا ہوگا۔
مطلب، جب ہم “بلوچستان” استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے اور کیا آنا چاہیے؟ بلوچستان بطور صوبہ یا “بلوچ گلزمین” جو نوری نصیر خان نے دیا تھا؟ اور ہمیں چاہیے کہ ہم کالونیل لینگویج کو چھوڑیں، ان الفاظ کو چھوڑ دیں جو وہ چاہتے ہیں کہ ہم استعمال کریں۔ ہمیں جدوجہد اور اس کی نوعیت کو سمجھنا ہوگا، پھر راستے کا تعین کرنا ہوگا۔ اگر راستہ تعین کر لیا تو قربانی کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ جیسے عطاء اللہ مینگل، اسد اللہ (اسد، عطاء اللہ مینگل کے بیٹے تھے) کی شہادت کی خبر پہنچتے ہوئے کہتے ہیں:
“جہاں ناچ ہوتی ہے، وہاں چھوڑیاں ٹوٹتی ہی ہیں”۔
مطلب اگر ہم عظیم مقصد چاہتے ہیں تو عظیم قربانی سے گزرنا ہوگا۔ جنگ کی حقیقت ہی یہی ہے، جنگ تباہی والی چیز ہے، مکمل تباہی آتی ہے، اور تباہی کے بعد ہی آزادی ممکن ہے۔ ہمیں اس تباہی کے لیے تیار ہونا ہوگا، نہ کہ اس سے منہ پھیرنا ہے۔ بقول مری:
“ہمیں اپنا فوکس ان پتھروں سے ہٹا کر اس ہاتھ پر کرنا ہوگا جو پتھر پھینک رہا ہے۔ تب ہی منزل ملے گی”















