ہلسنکی:( ہمگام نیوز) پاکستان کی جانب سے افغانستان پر بمباری اور معصوم افغان شہریوں کی شہادت کے خلاف ہلسنکی میں فن لینڈ پارلیمنٹ کے سامنے پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ مظاہرے میں فری بلوچستان موومنٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت کی اور پاکستان کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
مظاہرے کے مقررین نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی بمباری کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بمباری کے نتیجے میں بے گناہ اور معصوم افغان شہریوں کی شہادت ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ مقررین کے مطابق شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی حقوق بلکہ بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی فوری اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مظاہرے میں پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے شفیق اللہ یوسفزی، عبدالباری بڑیچ، جاوید جان ملاخیل، غلام صدیق خان، زرغون شاہ امین، ولی جان سیلاب، نفیسہ عزیزی اور استاد بنارس خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی فوجی پالیسیاں خطے میں مسلسل عدم استحکام اور خونریزی کا سبب بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون علاقوں اور افغانستان میں جاری فوجی کارروائیاں دراصل عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور خوف و دہشت کے ذریعے سیاسی مسائل کو دبانے کی کوشش ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔
احتجاجی مظاہرے سے فری بلوچستان موومنٹ کے مرکزی کابینہ کے اراکین ایم بی مری بلوچ اور صادق رئیسانی ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی پالیسیوں نے نہ صرف افغانستان بلکہ مقبوضہ بلوچستان اور مقبوضہ پشتون علاقوں میں بھی طویل عرصے سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت اور جبر کے ذریعے اقوام کو دبانے کی پالیسی نے خطے کو مسلسل بحران اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
مقررین نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں ہونے والی بمباری اور شہریوں کی ہلاکتوں کا فوری نوٹس لیں اور اس پر عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو پاکستان کی فوجی پالیسیوں اور خطے میں جاری جارحیت پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے واضح اور مؤثر موقف اختیار کرنا ہوگا۔
مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے افغان عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خطے میں افغان اور بلوچوں کے قتل عام کو فوری طور پر روکا جائے، پاکستانی فوج کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کی جائے اور خطے میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے حقیقی احترام کو یقینی بنایا جائے۔














