پنجگور( ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ضلع پنجگور میں بلوچ نوجوانوں کے قتل کی حالیہ وارداتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بی وائی سی کے مطابق 10 مارچ 2026 کو شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے پنجگور کے علاقے مواچ چوک میں 27 سالہ عبداللہ بلوچ ولد کریم جان کو ریاستی پشت پناہی یافتہ ڈیتھ اسکواڈز نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسی طرح سنگ آباد کے رہائشی 18 سالہ آصف بلوچ ولد نظیر، جو پیشے کے اعتبار سے ایک ڈرائیور تھے، کو بھی فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ آصف بلوچ ایک عام شہری تھے جو اپنے خاندان کی کفالت کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے۔ مزید برآں، 4 مارچ 2026 کو ضلع کیچ کے علاقے شاپک سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ دکاندار حاتم بلوچ ولد خدا بخش کو بھی ڈیتھ اسکواڈز نے ٹارگٹ کر کے قتل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد ایک سفید رنگ کی گاڑی میں آئے اور انہیں دکان سے باہر بلایا۔ جب حاتم بلوچ نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حاتم بلوچ ایک غریب بلوچ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی دکان کے ذریعے اپنے اہل خانہ کی کفالت کر رہے تھے۔ بی وائی سی نے کہا کہ بلوچستان بھر میں بلوچ نوجوانوں کو نشانہ بنانے، جبری طور پر لاپتہ کرنے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ معمول بن چکا ہے۔ صرف گزشتہ دو ماہ کے دوران پنجگور کے مختلف علاقوں سے بلوچ افراد، جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، کی بیس سے زائد لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ واقعات محض اتفاقی نہیں بلکہ بلوچ عوام کو خوفزدہ کرنے، انہیں اپنی سرزمین سے محروم کرنے اور بلوچستان میں آزادی کے ساتھ جینے کی خواہش کو کچلنے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہیں۔ بیان کے مطابق تمام تر ریاستی جبر، گولیوں اور خوف کے ماحول کے باوجود بلوچ عوام انصاف کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔. پنجگور، کیچ: ریاستی پشت پناہی یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کی فائرنگ سے 3 بلوچ نوجوان قتل، دو ماہ میں بیس سے زائد لاشیں برآمد ۔ بی وائی سی.














