ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے حملوں میں فوجی اہلکاروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی ہے۔
دوسری جانب چابہار کے امام علی اسپتال نے عام شہریوں اور مریضوں کا داخلہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے اور اسپتال کی پوری گنجائش زخمی فوجیوں کے علاج کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے باعث بہت سے شہری اور مریض طبی سہولیات کے حصول کے لیے قریبی شہروں نیکشہر اور ایرانشہر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات اور اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔















