کیسے خود کو ہیکنگ سے بچائیں اور موبائل/ٹیلی
کمیونیکیشن ڈیوائسز کو محفوظ طریقے سے استعمال کریں
جدید دور میں موبائل فون اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈیوائسز ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ چاہے عام شہری ہوں، صحافی ہوں یا گوریلا جنگجو، سب کے لیے ان آلات کا استعمال ناگزیر ہے۔ لیکن ان کے ساتھ سب سے بڑا خطرہ ہیکنگ، جاسوسی اور ٹریسنگ کا ہے۔ ایک چھوٹی سی لاپرواہی قیمتی جانوں اور گوریلا جنگجوؤں دونوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس لیے ان ڈیوائسز کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔
گوریلا جنگجو چونکہ روایتی فوجی طاقت کا مقابلہ براہِ راست نہیں کر سکتے، اس لیے وہ چھاپہ مار حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔ لیکن جدید دور میں ان کی سب سے بڑی کمزوری ڈیجیٹل ٹریسنگ ہے۔ دشمن ان کے فون سگنلز، کالز یا انٹرنیٹ سرگرمیوں کو استعمال کر کے ان کی پوزیشن معلوم کر سکتا ہے۔ اسی لیے گوریلا جنگجوؤں کے لیے سب سے اہم ہتھیار ان کی سیکریسی اور محفوظ کمیونیکیشن ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ فون کا کم سے کم استعمال سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ غیر ضروری کالز اور پیغامات ہمیشہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔ اگر رابطہ کرنا ہی ہو تو انکرپٹڈ ایپس جیسے Signal یا WhatsApp استعمال کریں، کیونکہ عام SMS اور کالز آسانی سے ٹریس کیے جا سکتے ہیں۔ گوریلا جنگجوؤں کے لیے لازم ہے کہ ذاتی اور جنگی نمبروں کو الگ رکھیں۔ دونوں کے لیے مختلف ڈیوائسز اور سم کارڈز استعمال کرنا حفاظت کے لیے بنیادی شرط ہے۔
فون کی لوکیشن ہمیشہ بند رکھنی چاہیے۔ اکثر لوگ تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں جگہ کا ڈیٹا (metadata) موجود ہوتا ہے جو فورسز کو سیدھا مقام تک پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوریلا جنگجوؤں کو کسی بھی حساس مواد کو اپلوڈ کرنے سے پہلے اس کا ڈیٹا صاف کرنا چاہیے۔ اسی طرح پبلک WiFi استعمال کرنا بھی خطرناک ہے، کیونکہ یہ نیٹ ورک سب سے آسانی سے ہیک کیے جا سکتے ہیں۔ اگر انٹرنیٹ کی مجبوری ہو تو صرف VPN کے ذریعے استعمال کرنا بہتر ہے تاکہ شناخت چھپی رہے۔
موبائل فون پر کبھی بھی حساس ڈاکیومنٹس، فہرستیں یا اہم نمبرز محفوظ نہیں رکھنے چاہئیں۔ اگر رکھنا ضروری ہو تو انہیں انکرپٹڈ فولڈر یا محفوظ ایپ میں رکھا جائے۔ فون ہمیشہ پاس ورڈ یا بایومیٹرک لاک سے محفوظ ہو اور وقتاً فوقتاً ڈیوائس اور سم بدلتے رہیں تاکہ مسلسل نگرانی نہ ہو سکے۔
کمیونیکیشن کے دوران کوشش کرنی چاہیے کہ پیغامات مختصر ہوں اور زیادہ تفصیل نہ دی جائے۔ گوریلا گروپ میں ایک فرد کی غلطی سب کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے گروپ چیٹس ہمیشہ انکرپٹڈ پلیٹ فارمز پر ہونی چاہئیں۔ تصاویر یا ویڈیوز بھیجتے وقت بھی یہی اصول لاگو ہوتے ہیں۔
ریاستی ادارے یا ہیکرز زیادہ تر لوگوں کو ان کی اپنی غلطیوں سے پکڑتے ہیں۔ آسان پاس ورڈ رکھنا، لوکیشن آن چھوڑ دینا یا ایک ہی نمبر پر ہر کام کرنا وہ کمزوریاں ہیں جو سب سے پہلے ہدف بنتی ہیں۔ گوریلا جنگجو اگر ان اصولوں پر سختی سے عمل کریں تو وہ نہ صرف اپنی جانیں محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی جنگ کو بھی زیادہ دیر تک جاری رکھ سکتے ہیں۔
آخر میں یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل جنگ میدانِ جنگ جتنی ہی اہم ہے۔ گوریلا جنگجوؤں کی اصل طاقت ان کی چالاکی، چھاپہ مار حکمتِ عملی اور راز داری ہے۔ اگر وہ اپنی کمیونیکیشن کو محفوظ رکھیں تو دشمن کے لیے ان تک پہنچنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔















