ہمگام کالم : اِس بات سے قطع نظر کہ بلوچ قومی تحریک اپنی بیس سالہ مسافت طے کرنے کے باوجود کوئی قابلستائش مقام حاصل کر سکی ہے یا نہیں ، ایک بات باعث_اطمینان ضرور ہے۔ کہ تحریک اپنی انتشاری و ہیجانی کیفیت کے باوجود اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ لیکن اِس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ تحریک کیساتھ بلوچ قوم کا جوش و جزبہ اور وابستگی میں حیران کن حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ دشمن کی بڑھتی ہوئی جبر و بربریت اور اپنوں کی بے پناہ قربانیوں کے بعد حالات اِس کے بلکل برعکس ہونی چاہیے تھی۔
ہزاروں بلوچ شہداء کی لہو اور ہزاروں لاپتہ افراد کی قربانیوں کا نعم البدل ایف سی یا آرمی و نیوی کے چند نفری کی موت ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اِس جنگ میں بلوچ قوم نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ اپنے پیارے جگر گوشوں کی لاشیں اُٹھائی، بچوں کی تعلیم و تربیت، گھر بار کھیتی باڑی اور ہر قسم کی کار و بار جنگ کے شعلوں میں جھونک کر اُف تک نہ کیا۔ کیونکہ ہم نے اُنکو اِس تبائی و بربادی کے بدلے ایک آزاد و خوشحال وطن اور غیروں کی غلامی سے چُھٹکارا دلانے کا وعدہ کیا تھا۔اور جزبہقربانی سے سرشار بلوچ قوم نے بڑھ چھڑ کر اِس جنگ میں حصہ لیا۔ قوم کی طرف سے جانی، مالی و اخلاقی مدد و تعاون دیکھ کر کچھ دوستوں کے دلوں میں فتور پیدا ہوگیا۔ ہوسمال و زر اور نام و شہرت نے اِن کو اندھا بنا دیا۔ تحریک میں گُمنام و مخفی طرزِ سرمچاری کی جگہ نمود و نمائش اور شو بازی و بھڑک بازی کو متعارف کرایا گیا۔ 2002 سے 2009 تک قومی تحریک سے وابستہ ساتھیوں کے سوا ہم جیسوں کو اپنے گاؤں دیہاتوں کے نوجوانوں کی خبر نہ تھی کہ کون کیا کام سرانجام دے رہا یا دے رہی ہے۔ دور و دراز علاقوں کی راز اپنی جگہ۔ مگر یہ وہ سُنہری دور تھی ۔ کہ تمام اہم پالیسیاں عسکری تنظیموں کی مدَر آرگنائزیشن بی ایل اے ترتیب دیا کرتی تھی۔ بی ایل اے کے مری جنگجو کمانڈر مکران میں بی ایل ایف کے نوجوانوں کو جنگی تربیت دینے پر مامور تھے۔ عوامی پزیرائی دیکھ کر گروہی سوچ رکھنے والے عناصر خود کو بہت دیر تک پردے میں نہ رکھ سکے۔ شوق_لیڈری اور نمود و نمائش کی خواہشمندوں نے بھڑک بازی و شو بازی شروع کر دیا۔ چونکہ دو ہزار نو کے بعد بی ایل ایف قیادت نے ڈسپلین و جنگی اصولوں کو بائی پاس کرتے ہوئے خود کو ہر طرح کی قوائد و ضوابط سے مبریٰ کر دیا۔ اِس لیے دیگر تنظیموں سےعددی برتری حاصل کرنے کیلئے بی ایل ایف قیادت نے اندھا دھند بھرتی کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بی ایل ایف بانی رکن شہید ڈاکٹر خالد شہادت پا گئے تھے۔ جبکہ ایک اور اہم بانی رہنما ماسٹر سلیم بی ایل ایف کی بلوچ کُش پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہوئے اپنی راہیں الگ کرچُکے تھے۔ عسکری و سیاسی تنظیموں میں ٹوٹ پھوٹ اور گروہ بندی بھی جاری تھی۔ لیکن بی ایل ایف قیادت سنبھلنے سنبھالنے کے بجائے اپنی نمائش میں مگن تھی۔ اسی دوران کولواہ آواران، کیچ، دشت، مند اور بلیدہ زعمران سے جرائم پیشہ افراد کی ایک کھیپ بی ایل ایف میں منتقل ہوگئی تھی۔ اسی طرح بی آر اے کی ایک اور نمائشی کمانڈر نے پنجگور پروم اور بلیدہ و زعمران کے جرائم پیشہ عناصر کو قومی تحریک میں شامل کر دیا۔ اور پھر یہ جنگ اختلاف در اختلافات کی شکار ہوتے ہوئے جرائم کی طرف بڑھنے لگا۔
بی ایل ایف اور بی آر اے مکران میں فوج اور ڈیتھ اسکواڈ سے لڑنے کے بجائے اپنے ہی قوم سے نبردآزما رہے۔ پھر چوری چھپکے سے منشیات کے کار و بار میں ہاتھ صاف کرنے لگے۔ اور جب اُن سے سوال کیا گیا کہ یہ کام تحریک کیلئے سود مند نہیں تو وہ انکار کرنے لگے۔ لیکن چونکہ وہ منشیات لوٹنے کو بھی اپنا نصب العین بنا چکے تھے۔ اور ہر ہفتہ دو ہفتہ منشیات کی گاڑیوں پر حملہ کرکے منشیات ضبط کر لیتے تھے۔ اِس لیئے بالآخر اُنکو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ منشیات ضرور پکڑتے ہیں مگر وہ پکڑا ہوا مال جلا دیتے ہیں۔ جب یہ راز بھی بہت دیر تک پوشیدہ نہ رہ سکا تو بعد میں منشیات پکڑنے کے بیانات میڈیا میں بھی شائع ہونے لگے جو تادم_تحریر تک جاری ہے۔ اُس زمانے میں بی ایل ایف کی طرف سے مکران میں حکومتی رٹ ختم کرکے فوج کو بیرکوں تک محدود کرنے کی بھڑک بازی روز کی معمول تھی۔ اِس لیئے بی ایل ایف کے نقاب پوش موٹر سائیکل سوار اسکولوں میں اساتذہ کی حاضریاں چیک کرنے، ڈسپنسریوں میں ڈاکٹروں کی او پی ڈی دیکھنے اور گاؤں دیہاتوں عوامی مسائل سُننے کیلئے روز جلوہ گر ہوا کرتے تھے۔ شاید یہ فوج اور خفیہ اداروں کیلئے حکمت عملی بنانے اور اپنے لیئے مہرے تلاش کرنے کے دن تھے۔ مگر قوم کی اپنے سرمچاروں کیساتھ گہری وابستگی اور والہانہ محبت کی سبب فوج کو کہیں بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔۔۔۔۔
شاید یہ تحریک کی بدقسمتی تھی یا سازشی عناصر کی بد نیتی کہ جب بی ایل ایف نے بڑی تیزی اور دلیری کیساتھ اپنے سیاسی مخالفین، ناقدین و زاتی و خاندانی مخالفین کا قتل عام شروع کر دیا۔ جن میں کچھ بی ایل ایف میں شامل بھی تھے۔ تو سب کچھ تیزی کیساتھ بدل گیا مکران بی ایل ایف کی وہ پناہ گاہ تھی۔ جہاں بی ایل ایف نامی گرامی کمانڈروں سے لیکر عام سپائی تک ہفتوں مہینوں پہاڑوں کے بجائے بے خوف و خطر اپنے یا اپنے دوستوں کے گھروں میں راتیں گزارتے تھے۔ سردیوں میں زیادہ تر سرمچار اپنی راتیں گاؤں دیہاتوں میں گزارتے تھے۔
پہلے فوج تربت سے مند و دشت یا مند و دشت و بلیدہ سے تربت جاتی تھی تو کلمہ پڑھ ، پڑھ کر منزل پہنچ جاتی تھی۔ اور سرمچار مکران کے کسی بھی کونے میں ہوتے تھے تو اُنکو فوج کی لمحہ بہ لمحہ کی خبر آ ملتی تھی۔ مگر اب سب کچھ اُسکے برعکس ہیں ۔ ابھی فوج کو کیمپ سے نکلتے سرمچار کی خبر کیمپ سے موصول ہوتی ہے۔ اور جہاں سرمچار کی گُزر ہونی ہے اُس راستے پر دو گھنٹہ پہلے فوج پہنچ جاتی ہے۔ یہ بلوچ قوم کی ہم سے نفرت کی واضع اظہار ہے۔ اور آجکل تو بی ایل ایف کی کیمپ میں مخلص و ایماندار دوستوں کی تعداد اُن لوگوں سے بہت کم ہے جو فوج کے پاس خفیہ سرینڈر کرکے بی ایل ایف کے کیمپ میں موجود ہیں۔ اِس بارے میں بی ایل ایف مخلص ساتھی بہتر بتا سکتے ہیں۔۔۔
تو آہیے اپنے آج کی موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔
بی ایل اے اور بی آر اے نے جتنی نقصان دشمن کو پہنچائی ہیں ۔ وہ ہم سے زیادہ کسی اور دشمن کو بہتر معلوم ہے۔ گیس پائپ لائن ، سخت سیکیورٹی میں موجود فوجی چوکیاں، ٹرین اور دیگر سرکاری تنصیبات بی ایل اے اور بی آر اے کے مشترکہ اہداف رہے ہیں۔ بی ایل اے پچھلے بیس سال سے آزاد کے نام سے تمام حملے قبول کرتے آ رہے ہیں۔ جبکہ بی آر اے کے حملوں کی زمے داری سرباز بلوچ لیتی آرہی ہے۔ مگر پاکستانی فوج، خفیہ ادارے اور منافق میڈیا ہر حملے کے بعد حیربیار مری اور براہمدغ بگٹی کو حملوں کے زمے دار ٹہراتے ہیں۔ حالانکہ مزکورہ دونوں بلوچ آزادی پسند رہنما دو سیاسی پارٹیوں کے لیڈر ہیں، حیربیار مری ایف بی ایم ( فری بلوچستان موومنٹ) لیڈ کرتے ہیں جبکہ براہمدغ بگٹی بی آر پی کے سربراہ ہیں۔ لیکن چونکہ دونوں رہنماؤں کو بین الاقوامی پہچان مل گئی ہیں، اِس لیئے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ دونوں رہنماؤں کو بین الاقوامی سطح پر بدنام یا ناکام کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ اور پاکستان کی خواہش ہے کہ عالمی برادری ایف بی ایم اور بی آر پی سمیت بی ایل اے اور بی آر اے کو دہشت گرد تنظیمیں تسلیم کریں۔۔
بی ایل اے پر دو دفعہ اپنوں نے کاری ضرب لگائی ہے، ایک بار سازشی عناصر کے بہکاوے میں آکر نوابزادہ مہران مری نے بی ایل اے کو تقسیم کرکے یو بی اے بنا ڈالی۔ جس سے بی ایل اے کی افرادی قوت کے ساتھ ساتھ عسکری قوت بھی کمزور پڑ گئی۔ عسکری وسائل تقسیم ہوگئے۔ دوسری بار ایک اور سازشی کمانڈر کی جھال میں پھنس کر مخلص و ایماندار اور معروف جنگجو کمانڈر شہید استاد اسلم بلوچ کی وجہ سے بی ایل اے پھر ٹوٹ گئی۔
شہید اسلم بلوچ کی بی ایل اے سے معطلی اور اُس کے پس منظر پر کار فرما پوشیدہ رازوں اور تمام محرکات و مضمرات پر ایک تفصیلی تحریر انشاالللہ عنقریب لکھنے کی کوشش کرونگا۔ لیکن سرِدست عرض کرتا چلوں کہ شہید استاد اسلم بلوچ کی مرتّب کردہ حکمت عملی کے تحت کراچی میں جب چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا، تو میرے نزدیک یہ کوئی کامیاب حملہ نہیں تھا۔ کیونکہ ہمارے فدائین شہدا اپنے ہدف عبور نہ کرسکے۔ لیکن ہم نے اِس دلیرانہ حملے کی اِس لیئے بہت زیادہ چرچا کی تاکہ دشمن کو پتہ چلے کہ بلوچ عسکری تنظیموں میں فدائی حملہ کرنے والے لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ مگر دنیا میں اِس کامیاب حملے کی غلط تشریح کی گئی۔ بلکہ حملے کو چینیوں کے لیئے انتباہ کے بجائے طالبانی طرز کی دہشت گرد حملہ ڈکلیئر کیا گیا۔ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ نے بھی اس حملے کی مزمت کرتے ہوئے پاکستانی بیانیے کو درست قرار دیا ، جبکہ بلوچ قومی تحریک کی واحد سپورٹر ملک انڈیا نے بھی حملے کی شدید مزمت کرتے ہوئے اپنی حمایت پاکستان کے پلے میں ڈال دیا ۔ پاکستان جو اِس واقعے کو اقوام متحدہ لیجانے کی ارادہ رکھتی ہے۔ اپنے کیس میں مدعی کے طور پر جناب حیربیار مری کو سر فہرست رکھنا چاہتے ہیں۔
مطلب یہ ہوا کہ حملہ بی ایل اے کے طرف سے ہو یا معطل شدہ کمانڈر جیہند و بلوچ خان کے طرف سے ہو۔ پاکستان اور بیرون دنیا حیربیار مری کو ہی زمے دار ٹہراہینگے۔
تازہ ترین حملہ جو پی سی ہوٹل گوادر پر ہوا۔ یقیناً سو فیصد کامیاب ہوا۔ دوست دشمن مخالفین اِس کامیاب حملے کی معترف ہیں۔ کیونکہ شہداء فدائین نے سیکیورٹی کے لحاظ سے آئی الرٹ ذون میں تمام محاصرے کو توڑ کر اپنے ہدف تک جا پہنچا۔ اور چھبیس گھنٹے تک دشمن کے اعصاب کو دبوچ رکھا، چالیس سے زیادہ اہلکار کو مارنا بہادروں کا کارنامہ ہی ہو سکتا ہیں ۔ لیکن بات پھر وہیں آکر رُکتی ہے۔ کہ یہ حملہ کسی تنظیم ، گروہ، یا شخصیت کو شہرت دلانے کیلئے کی گئی تھی یا اپنے دشمن اور اُسکے ہم پّلہ و ہمنوا چین کو پیغام دینا تھا؟ پیغام کیلئے حملے کی شدت ہی کافی تھا۔ اب ایسے بھڑک بازی کی کیا ضرورت کہ ” ہم چین کو بحفاظت بلوچستان سے نکل جانے کی اجازت دیتے ہیں” جیسے گوادر سمیت پورا بلوچستان جناب کے قبضے میں ہے۔ جس کو چاہے بند کردے اور جس کو چاہے چھوڑ دیں ۔
خیر ہم تو کسی کے خصلت و عادتوں کو بدل نہیں سکتے۔ مگر دوستوں کو چاہیے کہ وہ اِس طرح کے بچکانہ و طفلانہ بھڑک بازیاں بند کردیں تو اس میں قوم کی بلائی ہیں ۔ کیونکہ چین ہمارے دھمکیوں یا احمقانہ و طفلانہ بیانات سے اپنے اربوں ڈالر کی پروجیکٹ کو چھوڑ کر ہر گز بھاگنے والا نہیں۔ اور نا ہی ہم اِس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ کوئی ہماری بات کو سنجیدگی سے لے۔۔
جب تک ہم ایک مضبوط و منظم طاقت بن کر سامنے نہیں آہینگے۔ تب تک نہ ہم اندرون خانہ کچھ کر دکھانے کی قابل رہینگے اور نا ہی عالمی توجہ حاصل کر سکیں گے۔
بلوچ راجی آجوئی سنگر ( براس ) فلحال ایک متنازعہ و پُر تضاد اتحاد کی نام ہیں، جسے براس والوں کے سوا پوری قوم شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بی ایل ایف کے سوا اِس اتحاد میں کوئی تنظیم شامل نہیں۔ اور بی ایل ایف اپنی جرائم اور رد انقلابی اقدامات کی وجہ سے سخت بدنام ہوا ہیں۔ اور اوپر سے دو تنظیموں کے نکالے گئے یا معطل کیئے گئے کمانڈروں کے ساتھ اتحاد بنا کر تحریک کو شدید نقصان سے دوچار کیے ہوئے ہیں اور دونوں نے غیر قانونی طور پر تنظیموں کی نام خود سے منسوب کیئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جیہند بلوچ اور بیبگر بلوچ کو اچھی طرح سے یہ علم ہے کہ بی ایل اے اور بی آر اے کے بغیر اُنکی کوئی شناخت و پہچان نہیں ورنہ وہ بہت پہلے اپنے گروپوں کو کوئی اور ناموں کیساتھ متعارف کراتے۔۔۔۔۔
اطلاع عام * ہمگام نیوز میں پیش کیئے گئے خیالات اور سیاسی نقطہ نظر کالم نگار کے اپنی ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے بلوچ میڈیا Humgaam news متفق ہے یا نہیں یا یہ خیالات ادارے کی پالیسیوں کا مظہر ہو !















