ہمگام کالم : دنیا میں جتنی بھی قومی تحریکیں رہے ہیں ان میں ایک چیز کا بہت خیال رکھا گیا ہے کہ وہ تحریکیں قوم اور سرزمین کی خاطر ہو، اورکسی بھی قومی تحریک میں تحریکوں کو قومی سے نکال کر جہاں انکو انقلابی ،سماجی اور مذہبی رنگ دیا گیا وہاں و ہ تحریکیں اپنے اصل ہدف سے نکل کر زوال کا شکار ہوئے وہ تحریکیں ہزاروں ،لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دیکر بھی کامیابی سے ہمنکار نہیں ہوئے ہاں روس کی سپر پاور اور سرد جنگ کے دوران کچھ قوم پرست تحریکیں روس کی مدد وکمک سے انقلاب کا سلوگن لیکر آزادی لینے میں کامیاب ہوئے جن میں ویتنام ،انگولا اور بہت تحریکیں کامیاب ہوئے لیکن روس کے تقسیم اور سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد ایک بھی تحریک کامیاب نہیں ہوا بلکہ سرد جنگ کے بعد جدوجہدکا رخ تبدیل ہوا اور زیادہ تر تحریکوں نے بندوق کو سیاست کے تابع کرکے کامیابیاں حاصل کی اور قومی جدوجہد ایک فارمولہ کے تحت چل کرکامیاب ہوئے ،جس طرح کوئی بھی شخص اپنے مریض کے معالجہ اور علاج کے لیے ایک ماہر تجربہ کار ڈاکٹر کا چُناوُ کرتا ہے تاکہ اسکے مریض کے مرض کا صحیع تشخیص ہونے کے ساتھ ساتھ صحیع علاج ہو ،خراب گاڑی اور موٹر سائیکل کی مرمت کے لیے اچھے کاریگر کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ وہ گاڑی اور موٹر سائیکل کا صحیع مرمت کریں ،بچوں کوتعلیم دینے کے لیے ہر ایک اچھے استاد اور ٹیچر کا چناوُ کرتا ہے تاکہ انکے بچوں کو صحیع تعلیم دیں ،کوئی بھی شخص اپنے مریض کو اپنے رشتہ دار ،بھائی اور دوست غیر ماہر ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے نہیں لے جاتا ہے کہ پیسہ انکے دوست ،بھائی اور رشتہ دار کو ملیں بلکہ وہ پیسہ ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹر کودیکر اپنے مریض کی زندگی بچانا چاہتا ہے اور اسکا مقصد اسکے مریض کی جان بچانا ہوتا ہے ،اسی طرح کوئی بھی شخص اپنے گاڑی اور موٹر سائیکل کو مرمت کرنے کے لیے بھی غیرمجاز کاریگر کے پاس نہیں لے جاتا ،کہ وہ پیسہ لیں بلکہ وہ اچھے مستری کے پاس لے جاکر اپنے گاڑی کی مرمت کرتاہے اسی طرح کوئی بھی شخص اپنے بچوں کونااہل استاد کے پاس پڑھنے کے لیے نہیں بھیجتا، کہ پیسہ انکے بھائی یا رشتہ دار کو ملیں بلکہ اسکا مقصد اچھے ٹیچر سے اپنے بیٹے کو پڑھانا ہوتا ہے ۔ایک شخص ایک مریض کی زندگی کی خاطر تجربہ کار و ماہر ڈاکٹر کا چناوُ کرتا ہے ، ناتجربہ کار ڈاکٹر کا رسک نہیں لیتا ،یہاں تک کہ کوئی اپنی گاڑی اور موٹر سائیکل کی مرمت کے لیے خطرہ نہیں اٹھاتا تو پھر کس طرح ا یک قوم ،نسل ،سرزمین اورلاکھوں لوگوں کی زندگی کے لیے ایک ،جاہل ،لالچی ،خود غرض ،مفاد پرست ،دھوکہ باز جھوٹے اور نااہل شخص کو قوم کی لیڈر بنا کر قوم کو تباہ وبرباد کرنے دے دیتا ہے کہ وہ ناموزوں ،اور نااہل لیڈرکسی نہ کسی کابھائی ،رشتہ دار اور دوست ہے پھر کس طرح کوئی صاحب فہم،روشن دماغ،عاقل راست باز،محب وطن اور کل کی حالت یا کیفیت پر نظر رکھنے والا شخص قوم کا لگام اس طرح کے لیڈر کے ہاتھ میں دے سکتا ہے جو لمحات سے متاثر ہوکر ہر گھڑی گرگٹ کی طرح رنگ بدلے۔ یا کوئی عاقل اور صاحب فہم جہدکار اور شخص اس طرح کے نیم ڈاکٹر ومکینک یا ٹیچر کے طرح کی جاہل اور خود غرض لیڈر کو قومی تحریک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹاکر قومی تحریک کا بیڑہ غرق کرنے کا خطرہ و رسک لے سکتا ہے ؟ کیونکہ ایک ناتجربہ کار ڈاکٹر اپنی نااہلی سے ایک شخص کی جان لے سکتا ہے ،ایک نااہل ٹیچر کچھ طلبا کو زیادہ سے زیادہ پڑھا لکھا جاہل بنا سکتا ہے اور ایک غیرمجازی مستری زیادہ سے زیادہ گاڑی کو خراب کرکے اسکو کسی حادثے کا شکار کرسکتا ہے لیکن ایک جاہل ،ناتجربہ کار ،لالچی ،مفاد پرست لیڈر پوری قوم کو عروج سے پہلے زوال کا شکار کرسکتا ہے ۔ ایک اچھے ،ایماندار قومی لیڈر کے لیے سب سے اہم چیز اسکا کردار ہوتا ہے بقول ایک زانتکار کے کردار کی بغیر لیڈر قومی تحریک کے لیے تباہی،آفت،خطرہ ہوسکتا ہے ۔اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ عطر سے پوشاک کو مہکانا بڑی بات نہیں بلکہ مزہ تو تب ہے جب کردار سے خوشبو نکلے ۔کسی ایک دانشور نے کہا کہ کرپٹ ،جوڑ توڑی اور ذاتی مفادات کے سیاست میں رہتے ہوئے کردار کے بغیر لیڈروں کا فطرت اور حیثیت سیاست میں ویسی ہے جیسے کہ خشکی میں گدھ اور پانی میں کچھوے ۔گدھ اور کچھوا مردہ جانوروں کو کھا جاتے ہیں اورکردار کے بغیر لیڈر قوم ، وطن اور تحریک کا جب جہاں بھی سودا کرکے گدھ اور کچھوے کی فطرت کا نمونہ بننے میں دیر نہیں کرتے ہیں کیونکہ کردار کے بغیر گدھ اور کچھوا نمالیڈر قوم اور سرزمین کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں ۔کوئی اپنے بیمار کو علاج ،بیٹے کو پڑھنے اور گاڑی کو مرمت کرنے کے لیےناتجربہ کار ڈاکٹر ،ٹیچ کے پاس نہیں لے جاتے تو کیا قوم کے لوگ اتنے بھی جاہل نادان اور بے وقوف ہوکر اپنی سرزمین اور تحریک کا نگراں اور والی کردار کے بغیر کچھوے اور گدھ نما نامنہاد لیڈر کو بنا کر قوم کو کسی ناگہانی آفت کا شکار کریں یا کہ ایک بہتر لیڈر شپ کا ساتھ دینگے؟ جو ہرمشکل وقت اپنے اصولوں ،پر ثابت قدم رہ کر اپنے سرزمین وطن اور قوم کے لیے ڈٹا رہتا ہے جسکو خریدنا ناممکن ہوتا ہے جسکو سمجھوتہ کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جو اپنے عظیم تر قومی مفادات کی خاطر کوہ چلتن کی طرح ڈٹا رہتا ہے بقول میرین ولیمامسن حقیقی لیڈر اپنے وطن اور قوم کے ساتھ ایک طرح کا اظہار محبت اور عشق سا رشتہ قائم ہوتاہے جیسے کوئی پیسہ سے نہیں خرید سکتا اور یہ ایک پوشیدہ و مخفی توانائی نمودار اور اشکار انجام اور نتیجہ کے ساتھ ہے ۔بلوچ قوم ہزاروں سالوں سے اپنی سرزمین پر آزاد و خود مختار زندگی گزار کر اپنے کلچر ،رسم ورواج ،سماجی اقداراور الگ پہچان کو قائم کیے ہوئے تھے لیکن اب ریاست پاکستان نے بلوچ سرزمین ،قوم ،کلچر،رسم ورواج اور قومی پہچان پرچڑھائی کرکے بلوچ قوم کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے ،اس غلامی سے نکلنے کے لیے 1948میں قومی آزادی کی غیر منظم جہد سے بلوچ نے وطن پر قبضے کی خلاف مزاحمت کی، جسکو بعد میں پاکستانی ریاست اپنے ظلم وبربریت سے کامیابی کی طرف نہیں جانے دیا۔ 52سالوں تک سیاسی گدھ نااہل جاہل نامنہاد قوم پرست لوگوں کی وجہ سے قومی تحریک بندگلی،کیچڑاوردلدل میں جا پہنچا تھا۔ لیکن 1996میں حیربیار مری نےموجودہ جدوجہد کی بنیاد رکھتے ہوئے سنئہ 2000میں قومی تحریک کو پھر سے کیچڑ ،بند گلی اور دلدل ،مبہم اصطلاحات سے نکال کر پھر سے متحرک بنادیا۔انھوں نے بلاشک وشبہ قوم کو آزادی کا پروگرام پیش کردیا اور اس پروگرام کو قوم اور دنیا میں جڑپکڑنے دس سال لگے اوربعد میں آہستہ آہستہ قوم اور دنیا میں کامیاب تحریکوں کی طرح بلوچ قومی تحریک نے بھی اپنے لیئے جگہ بنالیا اور یہ پاکستانی حدود میں رہ کر حقوق ،حق حاکمیت اور حق خودرادیت کے بجائے قومی ریاست کی تشکیل کے پروگرام کے طور پر ظاہر ہونے لگا اوراسی پروگرام نے پاکستان کو بھی پہلی بار سخت ترین آزمائش میں ڈال دیا۔ بلوچ قومی تحریک خطے کی مضبوط تریں تحریکوں کی صف میں پہنچ گیا، کیونکہ پہلی بار قوم پرستی کے بیشترستون مضبوط ہوتے گئے اور قومی یکجہتی کی پروگرام بھی توانا تر ہوتا گیا پہلی بار تحریک مینگل ،مری ،بگٹی مکرانی سراوانی مشرقی مغربی سے نکل کر ایک قومی تحریک کی رخ لے لی۔ نیشنلزم کا ستون قومی یکجہتی مضبوط ہوا اور ساتھ ہی ساتھ پہلی بار بلوچستان کا قومی جھنڈا متعارف ہوا اور سارے شہدا کے قبروں پر قومی جھنڈا لگایا گیا عوام کی اکثریت نے اسکو مشترکہ قومی جھنڈا قبول کیا ،قومی ترانہ مشترکہ طور پراکثریت سے لوگوں نے قبول کیا اسی طرح قومی قبضہ کے دن پر بیشتر لوگ متفق ہوگئے تھے یہ تمام چیزیں قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور قابض کی جڑوں کو کمزور کرنے کی علامات کی طور پر سامنے آئیں اب شہدا کے الگ دن کو بھی منانا قومی یکجہتی اور نیشنلزم کے ستون کو مضبوط کرنے کے لیے اچھی پیش رفت ہے ۔اب نیشنلزم کی ستون کو کون کمزور کررہا ہے اور کون اس کو مضبوط کررہا ہے ؟ کیا بلوچ قوم کا ایک شخص بھی سوال کرسکتا ہے کہ حیربیار مری نے قومی یکجہتی اور نیشنلزم کے ان ستونوں پر کسی ایک پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے یا کہ کسی ایک کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی ہے یا کہ آزادی کے ایک بھی گزرگاہ پر کاری ضرب لگایا ہو ،بلکہ نیشنلزم کے تمام ستونوں کا تحفظ حیربیار مری ہی کررہا ہے وہ قومی آزادی کے پروگرام ،شہداڈے، بلوچ بیرک ،مغربی مقبوضہ بلوچستان اور قومی آزادی کیلئے ریفرنڈم ،حقوق ،حق خودردایت کو شروع ہی میں نعروں سے نکال لیئے، اور اب بھی اپنی پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے کیونکہ قومی تحریک انہی گزرگاہوں سے ہوتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ جائے گا ،حالانکہ بلوچستان کے مدمقابل برطانیہ کے قبضہ سے پہلے نائیجیریامختلف نسلی گروپ پر مشتمل تھا لیکن قبضہ گیر کو نکالنے کے لیے وہاں کی لیڈرشپ نے ان تمام مختلف گروپس کو نیشنلزم کے جھنڈے تلے اکھٹے کرکے نیشنلزم کے فکر کو توانا کرکے اپنا ملک حاصل کر لیا ،لاطینی امریکہ میں بہت سی ریاستیں مصنوعی قوم پرستی کے تحت ہی آزاد ہوئے انہوں نے خود کو ایک قوم بنانے کے لیے فرضی داستانیں بنائیں اور پھر اسی کے تحت اپنے ترانے ،جھنڈے ،شہیدوں کیلئے ایک الگ دن کا انتخاب کرکے اپنی مصنوعی نیشنلزم کی ستون کو توانا کرکے اپنے لیئے الگ ملک بنائے ،لیکن بلوچ قومی تحریک میں ایک عجیب تماشہ ہے کہ چاکر خان ،گہرام ،حمل جیند،نصیر خان نوری جیسے کرداروں کو متنازع بنایا جاتا ہے کہ چاکر خان نے کئی سوسال پہلے کیونکر آپسی جنگ کیا حالانکہ اس دور میں پانچ سوسال اور دوسوسال پہلے بلوچستان کے ہمسایہ ممالک اور یورپ کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو پیڑدی گریٹ نے بھی اپنے اس وقت کے حالات کے تحت اپنے ملک پر داڑھی پرپابندی لگادی تھی۔ اپنے ملک کو مشرق کے بجائے یورپ کی طرز پرتعمیر کرنا چاہا جہاں مذہبی معاملات میں اسکا بڑا بیٹا اسکی مخالف رہا لیکن اپنے ملکی مفادات کی خاطر اس نے 1718میں اپنے بیٹے کو مار ڈالا اور اس نے قتل عام کرکے بہت سے لوگ مارڈالا، لیکن اس نے اپنا ملک بنایا اور آج سارا روس اسکو اپنا سب سے بڑا ہیرو مانتا ہے اسی ستارویں صدی میں فرانس کے حکمران شارلیمار نے تو مذہبی مخالفت پر لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا لیکن وہ فرانس کا ہیرو ہے چاکر کے ہی لگ بھگ دور میں برطانیہ کے بادشاہ ہنری نے 1533کے دوران مذہب کی خاطر اپنے دو بیویوں،کئی کزنز کے سرکاٹ دیئے اور کئی سالوں تک آپسی جنگوں میں لگے رہے ،اسی چاکر خان کے دور میں مغل حکمرانوں کے بیٹوں نے تخت اور اقتدار کی خاطر باپ کے آنکھیں نکالے لیکن وہ انکے ہیرو بنے لیکن چاکر خان جس نے بلوچ روایات اقدار اور رسم ورواج کو پروان چڑھایا اسکو متنازع بنانے کی کوشش کی جاری ہے حیربیار مری نے جس تحریک کو ٹریک پر لاکر صحیع سمت دیا جسکو بہتر قومی تحریک بنایا لیکن دوسری طرف نومولود مڈل کلاسوں کو توڑسا بھی اختیار دیا گیا بجائے کہ وہ قومی تحریک کے ستونوں کو مضبوط کرتے وہ واپس قومی تحریک کو قومی سے علاقائی اور گروہیت کی جانب موڑنے لگے ،پرانے مڈل کلاس لوگوں کی بدبودار شراب کوزٹو شیشے میں ڈال کر چند سالوں سے کلاس کی چھری سے قومی یکجہتی کو کاٹ رہے ہیں ،اپنی نااہلی ،کم علمی یا کہ بچگانہ حرکتوں سے وہ حق خودرادیت کے پرانے دقیانوسی نعرے کو قومی تحریک میں زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے لیے آزادی پسندوں نے بی این پی جڑواں اور نیشنل پارٹی سے چھ سال تک دلیل اور منطق کے تحت بحث کرکے ثابت کیا کہ حق خودرادیت قابض کو ماننے اور اپنی قومی آزادی کی تحریک کو ابہام اور کنفیوز کرنے کے مترادف عمل ہے کیونکہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں رہا ہے اور جس طرح کویت پر عراق نے قبضہ کیا تو کسی بھی کویتی لیڈر یا باشندے نے حق خودرادیت اور ریفرنڈم کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اسکو کہا کہ وہ قابض ہے انکی سرزمین سے نکل جائے اور انہوں نے دنیا کے مداخلت کا اپیل کیا اسی طرح ویتنام پر امریکہ کے قبضہ کے دوران اور ابھی حالیہ عراق پر امریکہ کے قبضہ کے دوران کسی نے بھی ریفرنڈم اور حق خودردایت جیسے ابہام اورجاہلانہ نعرے نہیں لگائے کیونکہ حق خودرادیت کامکمل طور پر ماننا ہے کہ اپ اس ریاست کا حصہ رہے ہو کرسٹینا روپوٹارپ کتاب The Politics of Self-determination: Beyond the Decolonisation Processمیں لکھتا ہے کہ حق خودرادیت دوسری جنگ عظیم کے بعد مکمل طور پر قومی آزادی کی تحریک کو ابہام کرنے کے مترادف عمل کے طور پر لیا جاتا ہے اس میں زیادہ تر قابض ریاست کے حدود میں رہ کر معاملہ طے کرنے پر زوردیا گیا ہے ،کتاب میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کی 1945کی ارٹیکل 1بھی حق خودرادیت کے حوالے دھندلا ،گول مول اورمبہم ہے کیونکہ اقوام متحدہ کا ارٹیکل کہتا ہے کہ وہ قوموں کے درمیاں برابری کے حقوق اور حق خودرادیت کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے،یعنی حق خودرادیت مکمل طور ایک گول مول اور مبہم اصلاح ہے جو واضح اور صاف آزادی کی تحریک کو کنفیوز کرتا ہے جس طرح پاکستان نواز پارلیمانی لوگوں نے 52سالوں تک بلوچ قومی تحریک کو مبہم کیا ہوا تھا جسے بعد میں حیربیار مری نے تحریک کو اس کنفیوژن اور ابہام کے ماحول سے نکال کر صحیع رخ دیا ۔اب وہ تحریک جس نے 19سال کے سفر میں قومی آزادی کا واضح لائن لیتے ہوئے قومی یکجہتی ،قومی پروگرام ،قبضہ کے دن قومی جھنڈے قومی ترانہ شہدا کے مشترکہ دن کو قوم اور دنیا میں متعارف کرواکے مشرق اور مغرب کے فرق کے بغیر دونوں قابض ریاستوں کے خلاف جدوجہد کو صحیع سمت دیا اب تحریک کی پیچیدگیوں سے نابلد لوگ تحریک کا کایاپلٹ کر تحریک کا رخ بدل رہے ہیں واضح اور جامع آزادی کے پروگرام کو حق خودررادیت کے مبہم اور کنفیوز اصطلاح کے طور پر پیش کررہیں ،جھنڈے اور قومی دن کو نذاعی اورمتنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں مغربی بلوچستان کی جدوجہد سے انکاری ہیں حس طرح نیم ڈاکٹر خطرہ جان تو یہ نام نہاد لیڈر خطرہ تحریک بن چکے ہیں اور اپنی نااہلی ناسمجھی اور نازانتی سے قومی تحریک کو بند گلی اور دلدل میں دکھیلنے کی کوشش کررہے ہیں ،ایک لیڈر حیربیار مری ہے جو پارٹی اورتنظیم کے بجائے قومی تحریک کی پروگرام پیش کرچکا ہے اور وہ تحریک کو بچارہا ہے قومی تحریک کی خاطر وقتی مشکلات مصائب ،تنہائی اور لعن تعن برداشت کررہا ہے کیونکہ اس تحریک کی بنیاد اس نے رکھا ہے اور خدا نا کرے کہ اس تحریک کو کوئی نقصان ہوا تو سارے 20ہزار لوگ جو زندانوں میں قید ہیں ہزاروں شہید ہوئے انکا ذمہ دار حیربیارمری ہوگا اور 1948,1958,1962,1974اور 80کی جدوجہد کی طرح اگر اس جدوجہد کو نقصان ہو اتوبھی ذمہ داری حیربیار مری پر ہوگا قوم اور لوگ اس سے حساب مانگیں گے کہ اگر اس میں اتنی صلاحیت نہیں تھا تو کیونکراس جدوجہد کو شروع کیا اس لیے وہ دانائی اور عقلمندی سے تحریک کے مفادات کے تحت پالیسیاں بنارہا ہے تاکہ جدوجہد کو نقصان نہ ہو آج تک اسکی ایک بھی پالیسی غلط نہیں ہوا ہے بلکہ سب پر وقتی طور پر تنقید ضرور ہوا ہے لیکن آخر میں اسکی ساری پالیسیاں صحیع ثابت ہوئے جن لوگوں نے انکی پالیسیوں پرتنقید بھی کیا پھر بعد میں وہی لوگ اسکی پالیسیوں کو اپنانے پر مجبور ہوئے ۔جبکہ دوسری طرف تحریک کی پیچیدگیوں اور مشکلات کو سمجھنے سے قاصر لوگوں نے تحریک کو ایک طرح سے اپنے غلط پالیسیوں کی وجہ سے تجربہ گاہ اور اپنے مسلح اور سیاسی پارٹیوں کو قیمہ مشین بنایا ہے ،جہاں ہر دو یا تین سال بعد وہ لوگ قومی تحریک کے نام پر ایک نیا تجربہ کرتے ہیں اور بعد کے تجربہ کی ناکامی میں رنج وغم کرکے کہتے ہیں کہ ہم نے جک مارا ہے اور پھر نئی بچگانہ اور جاہلانہ پالیسی کے ساتھ ایک اور تجربہ کرنے نکلتے ہیں انکے بڑے بڑے نامی گرامی بہ ظاہر دانشوروں کی ایک سال کے ارٹیکل کو نکال کر دیکھیں کہ کتنے وہ اپنی پرانی باتوں کی نفی کررہے ہوتے ہیں اور کتنی بار وہ معاملہ برعکس کرتے نظر اتے ہیں ان لوگوں نے مقدس قومی تحریک کو پارلیمانی جوڑ توڑی سیاست کی طرح بنایا ہوا ہے اور تقسیم درتقسیم اور پارٹی بازی گروہ پرستی علاقہ پرستی ،طبقہ پرستی سمیت تمام کام جو قابض کو کرکے تحریک کونقصان دینا چاہئے تھے یہ لوگ بغیر معاوضہ اور صرف اپنے ذہن کی تسکین اور شوشا کی خاطر کرہے ہیں تاکہ وہ لوگوں میں کمانڈر لیڈر اور رتبہ کے حوالے سے مشہور ہو، حالانکہ ایسے نااہل اور جاہل لیڈر نااہل ڈاکٹر ،استاد اور مکینک سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ مکینک ،ڈاکٹر اور ٹیچر کا تجربہ زیادہ سے زیادہ ایک انسان ،طالبعلم کی زندگی اور ایک گاڑی کو ضرر و نقصان پہنچاسکتا ہے جبکہ اسے جاہل اور نااہل لیڈر اپنے بار بار کے غلط تجربوں سے پوری قوم کا بیڑہ غرق کرکے انکو عروج سے زوال کا شکار کرسکتے ہیں اسی لیے تمام پارٹیوں میں موجود شعور یافتہ ،نظریاتی ،فکری لوگوں کے ساتھ عام لوگ بھی فیصلہ کریں کہ انھیں تحریک کو کامیاب کرکے بلوچ ریاست کی تشکیل کرنا ہے یا کہ تشکیل ریاست سے پہلے قابض پاکستان کی پارلیمانی جوڑ توڑ سازش،تقسیم درتقسیم اور درجن بھر پارٹیاں بناکر ہر ایک کو وزیر ،وزیر اعلی نائب وغیرہ بناناہے اگر وزیر گزیر ،نائب اور کونسلر بننا ہے تو جوڑ توڑی سازشی اور فریب اور دھوکہ دہی کی سیاست کی حمایت کرنا ہے اگر ریاست کی تشکیل کرنا ہے تو سوچ کو جوڑ توڑی سازشی اور پارلیمانی طرز سیاست سے نکال کر قومی بناکر قومی سوچ اپنانا چاہئے اور غور فکر کرکے فیصلہ کرنا چاہئے کہ کونسا لیڈر محکومی کا صحیع تشخیص کرکے اسکا علاج کرکے بلوچ ریاست کی بحالی کو ممکن بناسکتا ہے اگر ہم اپنے بیٹے بھائی بہن اور رشتہ دار کی زندگی کو داو پر لگاکر غلط ڈاکٹر سے اسکا علاج نہیں کرواسکتے ہیں تو یہاں ایک بیٹے ،بھائی ،بہن اور رشتہ دار کا دارومدار نہیں بلکہ ایک نسل ،تاریخ اور پوری قومی وجود کا مسئلہ ہے تو اس تحریک کو ہم کس طرح جوکھم اور خطروں میں ڈال کر جاہل نااہل،نادیدہ اور تلون مزاج کے حامل لوگوں کو لیڈرشپ کابھاگ دوڑحوالے کرکے قوم کو تباہ وبرباد کرنے دینگے۔















