فوج کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی حکومت کو ہٹانے کے لئے دھرنوں کا اہتمام کرواتی ہے اور نئے چہروں کو بٹھانے کے لئے بیلٹ باکس بھرکر دھاندلی کرواتی ہے، انتخابی نتائج روک کر اپنے شرائط منواتی ہے۔ اپنی ریاستی پالیسیوں کو نافذ کروانے کے لئے بٹھاؤ یا ہٹاؤ اور بلاؤ یا بھگاؤ کے اس کھیل کے فیصلے ہمیشہ جی ایچ کیو میں ہوتے ہیں اور پھر کنٹینر، اور دھرنے کے ذریعے لوگوں کو معاوضہ دے کر جمع کرنے کے بعد اس پر عمل درآمد ہوتا ہے۔ طاہر القادری، عمران خان کا نواز شریف حکومت کے خلاف کنٹینر پر دھرنا، لبیک یا رسول کا اجرتی مظاہرین کو جمع کرنا اور آئی ایس آئی چیف کے ہاتھوں لفافوں میں بند پیسے کی تقسیم جیسی حرکتیں ہمارے سامنے مثال کی صورت موجود ہیں۔ پاکستانی سیاست کے اونٹ کو کب اپنے حق اور خواہش کے کروٹ میں بٹھانے پر مجبور کرنا ہو یا عالمی برادری کو بلیک میل کرنا ہو، پنجابی فوج کے لئے یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ فوج مذہب اور اپنے پالے ہوئے مہروں کو ہمیشہ ڈھٹائی کے ساتھ استعمال کرتی رہی ہے ، اس میں افغانستان، ہندوستان اور امریکہ و روس کے خلاف جہاد ہو یا نیٹو رسد کو روکنا یہ سب فوج کے اشاروں پر ہوتے ہیں۔ جب سے ہندوستانی حکومت نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کردیا ہے اس دن سے پنجابی جرنیلوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ سوت یونین کی افغانستان میں مداخلت اور نو گیارہ حملوں کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف مذہبی اثاثوں کے ذریعے ایک بار پھر کشمیر میں بھی نوے کی دہائی کی طرز پر جعلی جہاد لڑے گی لیکن اس بار غیرمتوقع طور پر پشتونوں نے جہاد کا چورن خریدنے سے صاف انکار کردیا۔ پاکستان کو پشتون قوم کے اندر آگاہی کا ادراک ہوا۔ فوج نے شروع میں تو کافی سخت موقف اختیار کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوج اکیلی رہ گئی۔ اس بار پنجاب نے جہاد اور غزوہ ہند میں لڑنے کے لئے کوئی پشتون نہ پاکر اب کشمیر میں بم فروشی کی بجائے ڈپلومیسی کی روش اپنائی۔ فوج کا خیال ہے کہ عمران خان کے ہاتھوں مذہبی جہادی لشکر کشمیر میں لڑنے کے لئے آمادہ نہیں لہذا وہ اب یہ تاثر دے رہا ہے کہ عمران خان کشمیر پر موثر پالیسی دینے میں ناکام رہا ہے۔ پنجابی فوج کے نئے کھیل کا مہرہ فضل الرحمن کی صورت دستیاب ہے جس کے ذریعے جی ایچ کیو مدرسوں میں زیر تعلیم اور فارغ التحصیل جنونی شدت پسندوں کو جمع کرنے کا بندوبست کرسکتا ہے۔ فوج کی صفحوں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ کشمیر میں سفارتی، سیاسی جنگ کے علاوہ مزاحمتی جنگ بھی شروع کرنی ہے۔ مزاحمت میں سب سے بڑی تاخیر پشتون علاقوں سے لوگوں کا لڑنے سے انکار ہے اور اس انکار اور آگاہی کا سہرا پشتون نوجوانوں اور پشتون تحفظ کےسرسجتا ہے جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی عوام کے منجمد دماغوں کے دروازے کھولے کہ پنجابی فوج ان کو دوسروں کی جنگ میں بطور ایندھن استعمال کرتی رہی ہے لہذا اس بار پاکستان کو شدید جھٹکا لگا جب پشتون بیلٹ میں سے کسی نے جہاد میں لڑنے کی ہامی نہیں بھر ی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملا ملٹری کا مشترکہ مارچ اسلام آباد کی دہلیز سے کشمیر فتح کرنے لیئے کتنے جہادیوں کو کمر کسنے کے لئے تیار کرپائیں گے یا پھر فضل الرحمن کشمیر کے تابوت پر بیٹھ کر اقتدار پر براجمان ہوکر فوج کو چونا لگائے گا۔ بلوچ اور پشتون چند حلقے اس مارچ کو دی جانے والی آزادی مارچ کے نام سے متاثر ہونے کی بجائے ملا ملٹری گٹھ جوڑ اور ان کے مشترکہ عزائم کا مطالعہ کرے۔ آزادی کس سے؟ عمران خان کی حماقت سے، آزادی فوج سے ؟ آزادی ہندوستان سے؟ آزادی پاکستان سے؟ مذکورہ بالا تینوں مطالبے سے بلوچ و پشتون کا کوئی سروکار نہیں جبکہ آخری مطالبہ دہرانا ملاوں کے لئے ناممکن ہے۔ لہذا بلوچ و پشتون کو اس بیگانہ شادی میں دیوانہ بننے کی ضرورت نہیں۔ بلوچ ، پشتون اور سندھی اقوام کو اپنی سرزمین کے لئے آزادی مارچ کے اہتمام کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جو حقیقی آزادی مارچ کہا جاسکےگا۔ ملا ملٹری اقتدار کی رسہ کشی ہمارے قومی مطالبہ آزادی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔