کوئٹہ: (ہمگام نیوز) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6106ویں روز میں داخل ہو گیا ہے، جہاں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے مسلسل احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کیمپ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ متاثرہ خاندان کی عدم بازیابی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس دوران حالیہ دنوں میں لاپتہ ہونے والے نوجوان سیف اللہ کے اہل خانہ بھی احتجاجی کیمپ پہنچے اور ان  کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی۔ لواحقین کے مطابق سیف اللہ کو چند روز قبل کوئٹہ کے علاقے منوجان روڈ سے اس وقت تحویل میں لیا گیا جب وہ کھیل کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سے اب تک انہیں سیف اللہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی متعلقہ تھانے میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی جا رہی ہے، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

لواحقین نے سیف اللہ کے کیس کی تفصیلات وی بی ایم پی کے حوالے کرتے ہوئے تنظیم سے اپیل کی کہ وہ ان کے بیٹے کی بازیابی کیلئے کردار ادا کرے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ سیف اللہ سمیت دیگر لاپتہ افراد کے معاملات متعلقہ فورمز پر اٹھائے جائیں گے اور ان کی بازیابی کیلئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔