گوادر پورٹ کی تعمیراتی کمپنی میں خدا بخش کو بلا اخر کمپوٹر آپریٹر کی جاب مل ہی گئی۔ اپنے محلے میں سب کے سامنے روبپ جھاڑتے ہوئے کہتا تم لوگ آزادی آزادی پر فاقہ مرو مجھے نوکری مل گئی ہے۔ روز صبح اٹھ کر سیدھا آفس جانا پھر خوشی خوشی گھر آکر ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتا تھا۔ ایک دن کیا دیکھا کہ خدا بخش ابھی تک آفس کے لئے اٹھے نہیں اس کی امئی نے کوشش کی نہیں اٹھے تو اس کی چھوٹی بہن گلناز نے پانی چھڑکا تو خدابخش چلاکار اٹھے کیا ہے سونے نہیں دیتے! شور سنکر خدا بخش کا بڑا بھائی رسول بخش بھی کمرے میں داخل ہوئے اور نوکر ی پر ناجانے کی وجہ پوچھا۔ خدا بخش نے کہا کل مجھے ڈایریکٹر نے نوکری سے فارغ کردیا اور ایک مہنے کی تنخوا دے کر کہا اب آپ کا نوکری ختم ۔ جب میں نے سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہم آپ کے کام سے خوش نہیں تو گوادر پورٹ کے بورڈ نے فیصلہ کیا چونکہ گوادر ، مکران بلکے پورے بلوچستان میں ہمیں کوئی محنتی اور ایماندار ، محب وطن کمپیو ٹر آپریٹرنہیں ملا اس نے بورڈ نے فیصلہ کیا ٹوبہ ٹیک سنگھ پنجاب سے راجہ اکرام الحق کو آپ کی جگہ بھرتی کیا ہے اورو وہ کل سے کام پر آجائے گا۔ خدا بخش کی باتیں سن کر ان کے بڑے بھائی رسول بخش جو کسی زمانے میں ڈاکٹر مالک کے ساتھ بی ایس او کا سرگرم کارکن رے چکا تھا انہوں نے گوادر پورٹ اتھارٹی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو گیٹ پر موجود سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روکا۔ رسول بخش نے بتایا کہ مجھے ڈائریکٹر سے ملنا ہے ۔ سیکورٹی اہلکار نے انہیں ڈائریکٹر کے کمرے تک پہنچایا۔سیکورٹی اہلکار لالہ موسی، گجرات ، لاہور اور پشاور سے معلوم ہورئے تھے ان میں سے کوئی بھی بلوچ نہیں تھا۔بہر حال رسول بخش نے ڈائریکٹر سے اپنا تعارف کرایا اور خدا بخش کو نوکری سے نکالنے پر احتجاج کیا، ڈائریکٹر نے کہا بھئی ناراض کیوں ہوتے ہو ہمیں ملک کے مستقبل کو اولین ترجیج دینی ہے نہ کہ زاتی مفاد کو، سب سے پہلے پاکستان ، بہتر مستقبل اور مضبوط پاکستان کے لئے ہم سب کو قربانی دینی ہوگی کیا خیال ہے آپ کا؟ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے گوادر پورٹ کے دفاتروں اور گوادر شہر میں بننے والی ملٹی نینشنل اداروں کے کارخانوں اور دفاتر ِ شاپنگ سینٹروںِ حتی کے ماہی گیر ی کی صنعت کے لئے بھی غیرمقامیوں اور بلوچستان کے باہرکے لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا۔ یہ ملک اور قوم کے لئے ضروری ہے۔خدابخش جیسے نااہلوں کو نوکریسے نکالنا ملک و قوم کے لئے ضروری تھا۔ اب آپ جائیں۔ خدا بخش نے غصہ میں آکر کہا میرے بھائی کے پاس کمپوٹر سائنس کی ڈگری ہے ڈائریکٹر نے چپڑاسی کو بلا کر رسول بخش کو باہر نکالنے کو کہا ، چپٹراسی رزاق گوادری واحدمقامی ملازم تھا اور کسی زمانے میں رسول بخش کے ساتھ طلبہ تحریک کا سرگرم رکن رہ چکا تھا اور گوادر بچاو تحریک میں پیش پیش تھے۔ رزاق گوادری نے کہا سنگت رسول بخش میں مجبور ہوںآپ یہاں سے چلے جائیں۔ رسول بخش مایوس ہوکر گھرپہنچ کر کہا خدا بخش کچھ بھی نہیں بنا اور یہ پنجابی ہمیں کسی بھی طرح برداشت ہی نہیں کرتے۔ خدا بخش کے ساتھ بھرتی ہونیولا شیر محمد کو بھی کام سے نکالنے کا سنگل مل گیا ۔ شیر محمد جیونی کا رہنے والا ہے اور نہایت کہ خاموش طبیت کا مالک، اب اس کی جگہ چوہدری برادران کے سکندر چوہدری کو گجرات سے بلایا گیا ہے۔خد ا بخش کافی پریشان رہنے لگا کہ اب کیا ہوگا، انہوں نے اپنی جگہ بھرتی ہونے والے راجہ اکرام لحق سے ملنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک دن گواددر پورٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے ان کا انتظا ر کیا ۔ راجہ اکرام چھٹی کے بعد باہر نکلے تو خدا بخش نے سلام علیک کرکے کہا بھائی آپ کافی پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو تو کمپوٹر کے پوسٹ پر کیا کررئے ہو ، انھوں نے ٹپکل پنجابی لہجے میں کہا بھئی میں تو میٹرک پاس ہوں اور پنجاب حکومت کی دو ویک کے مفت آئی ٹی کا کورس کیا پھر ادھر بھرئی ہوگیا ، خدا بخش نے ان سے اجازت لی اور سیدھا اپنے گھر پہنچے اور اس پوسٹ کا اشتہار لیا اور صبح ڈاہریکٹر سے ملنے ان کے آفس گئے اور اشتہار دکھا یا کہ جس میں بی سی ایس کی ڈگری کے لئے اس پوسٹ کو ایڈرور ٹائز کا تھا خدا بخش نے کہا میرے جگہ جو کام کررہا ہے وہ تو میٹرک پاس ہے تو اس کے لئے یہ پوسٹ کیوں؟؟ ڈائریکٹر نے ہنستے ہوا کہا آپ کو معلوم نہیں پنجاب کی میڑک کی سند بلوچستان کے بیچلر ڈگر ی سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور اسی غیر معیاری تعلیم کی بنا پر ہم نے افراد قوت بلوچستان سے باہر سے لانے کا فیصلہ کیا ہیں۔ خدا بخش مایوس ہوکر گھر لوٹے اور کراچی جانے کا فیصلہ کیا ۔ وہاں جاکر کوئی چھوٹا موٹا نوکری کرلوں گا۔ خدا بخش کراچی آکر سٹی کورٹ کے سامنے ایک ٹائپ مشین لیکر کام شروع کیا وقت گزارنا ہے اسی مقام پر ایک سینر بلوچ ٹائپ رایٹر گل حسن گزشستہ ۵۲ سال سے موجود ہے۔ شروع شروع میں خدا بخش کسی کے ساتھ زیادہ تعلق نہیں بنایا لیکن وقت گزرتا گیا سب ایک دوسرے سے قریب ہوتے گئے سلام دعا ایک دوسرے سے تعلقات میں تیزی پیدا ہوتا گیا۔ایک دن گل حسن نے خدا بخش کے پاس جاکر ان سے معلومات لی کہ آپ اس عمر میں یہ کام کیوں کررہے ہو اور پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو۔ خدا بخش نے کہا میرے پاس کمپوٹر سائنس کی ڈگری ہے اور میرا والد ایک ماہی گیر تھے۔ کتنے مشکلوں سے مجھے پڑھایا تھا۔ جب تعلیم مکمل کیا تو گوادر پورٹ میں عارضی نوکری ملی پھر نکال دیا ۔ ایک سال دو سال پانچ سال دس سال وقت گزرتا گیا خدا بخش اپنی کراچی میں ہی رہے۔اسی دوران الیکشن قریب آئے اور گوادر کو علحیدہ حلقہ بنایا گیا۔ الیکشن کے لئے ووٹ ڈالے گئے ، نتایج کا آنا شروع ہوا خدا بخش معمول کی طرح اخبار پڑھنے کے لئے گل حسن کے پاس جاتے۔ خدا بخش نے اپنے شہر گوادر کے انتخابی نتائج کا معلوم کاکیا۔ گوادر کے حوالے سے بڑی سی سرخی کچھ یوں تھا۔گوادر کے حلقہ 420 سے چوہدری ہداہت علی سب سے زیادہ ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جب کہ نود بندگ کلمتی تو دوسرے نمبر پر آئیں۔خد ابخش کو یہ اس خبر سے فافی غصے آیا ۔ غصے کیوں نہ آیا ان کے گھر میں ایک پنجابی نے الیکشن جیت لئے اور گوادر کے اصل باشندے اقلیت بن گئے۔ انھوں نے غصہ میں آکر گل حسن کا ٹائپ راہٹر کو اٹھاکر گل حسن کے سر پر دے مارا اور وہاں سے گھر اٹھ کر اپنے سامان جس میں ڈگری، لولکل سڑٹیفکٹ وغیرہ اٹھا کر سیدھا بند روڑ کا راستہ لیا اور نیٹی جیتی کے پل پر کھڑے ہوکر چلا کراپنے تمام سامنے جس میں کمپوٹر سائنس کی ڈگری بھی شامل تھی سمندر میں چلانگ لگاکر خود کشی کرلی اور یوں گوادر کی ترقی ایسے ہزاروں خدابخشوں کی موت سے مکمل ہوگئی۔