لندن (ہمگام نیوز) بلوچ رہنما حیربیار مری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر دئیے گئے بیان میں کہا ہے کہ صدیوں سے افغان عوام نے مشکل وقتوں میں بلوچوں کا ساتھ دیا ہے کبھی پناہ دے کر، تو کبھی مدد کے لیے آگے بڑھ کر۔ اسی طرح بلوچوں نے بھی ہمیشہ افغانوں کے شانہ بشانہ جدوجہد کی ہے۔ جب افغانوں نے ایرانی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی، بلوچ ان کے ساتھ تھے، اور برصغیر میں بھی دونوں قومیں ایک دوسرے کی حلیف رہیں۔ بلوچ اور افغان ہمیشہ باہمی احترام اور تعاون کے رشتے میں بندھے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابل پر بلاجواز حملہ اور برطانوی سامراج کی کھینچی ہوئی نام نہاد ’’ڈیورنڈ لائن‘‘ پر کشیدگی صرف پاکستان کے مفاد میں ہے جو دراصل برطانوی نوآبادیاتی نظام کا وارث اور اس کا کٹھ پتلی ہے۔

حیربیار مری نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے، پاکستان افغانوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ٹرانزٹ تجارتی راستے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، حالانکہ یہ تجارتی راہ مکمل طور پر بلوچستان سے گزرتی ہے، پنجاب سے نہیں۔ آزاد بلوچستان اس راہ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں کرے گا بلکہ تمام اختلافات بات چیت اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ اور افغان اقوام نے صدیوں سے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، اور آج بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہم پنجابی جارحیت کے خلاف افغانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔