یہ دن اس عہد کی تجدید ہے کہ شہدائے بلوچستان نے اس دھرتی کی بقاء، قومی تشخص اور ننگ و ناموس کے تحفظ کیلئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ان کے لہو نے بلوچ مزاحمت کے اس تناور درخت کو سینچا جس کی جڑیں آج بھی اس مٹی میں مضبوط ہیں۔
شہید نواب نوروز خان، ان کے فرزند، شہید نواب اکبر خان بگٹی، شہید کمبر چاکر، شہید غلام محمد، شہید لالہ منیر، شہید رزاق جہانگیر، شہید میر عبدالغفار لانگو، شہید کامریڈ قیوم، اور لمہ وطن بانو کریمہ بلوچ سمیت ہزاروں فرزندِ بلوچستان نے اپنی قومی شناخت کی خاطر قربانیاں دے کر تاریخ میں امر ہو گئے۔
ہم ان بہادر، نڈر اور غیرت مند سپوتوں کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی دھرتی کے وقار کی پاسداری کیلئے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر آخری سانس تک وفاداری نبھائی۔ ان کی جرات و بہادری ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔
بلوچ شہداء جسمانی طور پر ہم سے جدا ضرور ہیں، مگر ان کا نظریہ، فکر اور فلسفہ آج بھی زندہ ہے۔ آج کے بلوچ نوجوان انہی نظریات پر کاربند ہیں عقوبت خانوں، جبری گمشدگیوں اور ٹارچر سیلوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ریاستی طاقت اور جبر بلوچوں کو زیر کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ جنگ ہمیشہ نظریہ جیتتا ہے، طاقت نہیں۔
شہداء کی قربانیاں ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔
سامراجی قوتوں نے بلوچ قوم کو پسماندگی، غربت اور جہالت میں دھکیلنے کیلئے ہر حربہ آزمایا لیکن بلوچ شعور نے ان سب لالچوں اور مراعات کو ٹھکرا دیا۔ بلوچ ماؤں نے اپنے بچوں کو جو گیت سنائے
> لیلُو لیل کنان بچیگءَ،
منی بچیگ وت بلاہیں مردے
وہ گیت آج حقیقت بن چکے ہیں۔
بلوچ دھرتی کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب اتنی قدیم اور مضبوط ہے کہ طاقت، جبر اور بربریت بھی اسے مٹا نہیں سکتی۔
تاریخ گواہ ہے کہ سکندر اعظم جیسا فاتح بھی بلوچوں کو زیر نہ کر سکا — بلوچ قوم نے ہمیشہ شجاعت، وفاداری اور آزادی کے ساتھ زندگی گزاری ہے اور کبھی کسی سامراج کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
آج بھی وہی طاقتیں بلوچوں کو غلام بنانے کا خواب دیکھ رہی ہیں، مگر یہ ان کی بھول ہے۔
زیرِ حراست بلوچ فرزندوں کے مسخ شدہ جسم ان قوتوں کی سفاکیت کا ثبوت ہیں، لیکن وہ سپوت جو مادرِ وطن سے غداری کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، اپنی جان دے کر بھی نظریے سے انحراف نہیں کرتے۔
ہر وہ گولی جو ایک باشعور بلوچ کو نشانہ بناتی ہے، اس کے لہو سے ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے۔
کارواں کبھی رکا نہیں، بلکہ شہداء کے لہو سے اور مضبوط ہوا۔
آج بلوچ شہداء کی قربانیوں نے بلوچ عوام کو اپنے حقوق سے آگاہ، باشعور اور باکردار بنا دیا ہے۔
ان قربانیوں نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ مسئلے کو جھوٹ، بلیک آؤٹ اور پروپیگنڈے سے دبایا نہیں جا سکتا۔
جنرل ایوب سے لے کر موجودہ حکمرانوں تک سب نے بلوچ آواز کو دبانے کی کوشش کی — مگر تاریخ گواہ ہے کہ مصنوعی دیواریں حقیقی پہاڑوں کے سامنے نہیں ٹھہرتیں۔
بلوچ زندہ باد، بلوچستان پائندہ باد
بلوچ قومی مزاحمت زندہ باد















