گیارہ اگست انیس سو اڑتالیس کو برٹش سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد, بلوچ ایک بار پھر خطے میں ایک آزاد اور نومولود ریاست کی صورت میں ابھرا۔۔پندرہ اگست کو خان آف قلات میر احمد یار خان نے پرجوش انداز میں عوامی اجتماع میں آزادی کا اعلان کیا۔۔ خان صاحب تقریب سے بلوچی زبان میں مخاطب ہوئے اور ساتھ ، ساتھ یہ عہد بھی کیا کہ بلوچ ریاست کو کسی بھی اندرونی اور بیرونی طاقت کے سامنے جھکنے نہیں دیا جائیگا۔۔ خان صاحب کے خطاب کے بعد ولولہ انگیز نعروں کے ساتھ بلوچ قومی بیرک (جھنڈا) لہرایا گیا۔ اگست کے ہی مہینے میں خان صاحب ہی کی قیادت میں وزراء کا کونسل بنایا گیا جو وزیر اعظم اور اسکے کابینہ ارکان پر مشتمل تھا۔ وزیر اعظم اور باقی ارکان کی تعیناتی خان کے ذریعے ہوتی تھی۔ اور اس کونسل کا بنیادی مقصد ریاستی امور پر خان کو باقاعدگی سے مشورہ دینا تھا۔ کونسل میں غیر ملکی ارکان اور عہدیدار بھی شامل کیے جا سکتے تھے۔ کونسل کا وزیراعظم محمد اسلم (پاکستان) اور وزیر خارجہ ڈی وائی فیل (برطانیہ) دونوں غیر ملکی تھے۔ (خان کی سب سے بڑی غلطی انکو ان عہدوں پر تعینات کرنا) اور پھر منصوبہ بندی کے ذریعے کونسل میں داخل کیا گیا تھا۔ جبکہ اسکا احساس آخر کار خود خان صاحب کو بھی ہو گیا تھا۔ ریاست قلات کا آئین دو قانون ساز اداروں پر مشتمل تھا۔ الف* ایوان بالا جو چھیالیس قبائلی سرداروں پر مشتمل تھا اور دو نشستیں اقلیتوں کیلئے مخصوص تھی۔ اور بیشتر ارکان کی تقرری خان کے اختیار میں تھا۔ ب * ایوان زیریں۔ جو کہ 55 اراکین پر مشتمل تھا جنکا چناؤ بذریعہ الیکشن ہوتا تھا۔ برٹش سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بلوچستان کی آزاد حیثیت کو قبول کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان سب سے آگے تھا۔ چونکہ سیاسی داؤ پیچ سے کم واقفیت کی بناء پر جناح کی پس پردہ نیت کا اندازا لگانے میں خان بری طرح ناکام رہا جس کی وجہ سے بلوچ ایک بار پھر غلامی کی دلدل میں پھنس گئے۔ بعدازاں جناح کی جانب سے خان کیلئے تواتر سے دعوت نامے بھیجے گئے اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ جناح کی دعوت پر خان قلات کراچی میں ان سے ملاقات کیلئے چلے گئے جہاں جناح نے خان پر غیر مشروط الحاق کے بارے میں گفت و شنید کی جس پر خان صاحب نے ایوان بالا اور ایوان زیریں کی مشاورت کا نقطہ نظر پیش کیا اور واپس قلات آگئے اور ایوان زیریں کا میٹنگ بلوایا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کا نقطہ زیر بحث کیا ۔جسکی سخت مخالفت کی گئی اور ایوان بالا نے بھی اسکی بھر پور مخالفت کی۔ قلات میں الحاق کی مخالفت کی خبر شیطان صفت جناح تک ان کی حواریوں کے ذریعے جا پہنچی تو جناح نے قلات اسٹیٹ پر بزور طاقت غیر قانونی قبضہ کرنے کا ارادہ کیا جس کو برطانیہ حکومت کی مکمل حمایت تھی۔ حالات کی سنگینی کو دیکھ کر خان قلات نے فوجی طاقت کو منظم کرنے اور جدید جنگی سازو سامان کیلئے حکومت انگلستان سے رابطہ کیا جس پر خان کو مکمل مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اکثر ممالک کے مفادات پاکستانی ریاست سے بندھے ہوئے تھے اور کوئی بھی مدد کرنے کو تیار نہ تھا۔ اسی اثناء میں نواب خاران اور نواب لسبیلہ کے خفیہ رابطے پاکستانی اقتدار اعلی کے ساتھ چل رہے تھے جنکی معاشی مسائل پر خان سے اختلافات تھے اور وہ اپنی موجودہ حیثیتوں سے بھی ناخوش تھے۔ جناح نے موقع غنیمت جان کر جام لسبیلہ اور نواب خاران کو کراچی آنے کی دعوت دے دی وہ فوری طور پر کراچی پہنچ گئے۔ اور خان کے کردار پر بیشمار سوالات اٹھائے۔ اور نواب مکران میر بھائی خان کو بھی اپنے مفاداتی گروہ میں شامل کر لیا۔ اور جناح کی گٹھ جوڑ سے خان کے خلاف مختلف مفروضات گڑے گئے ۔ اور آخرکار سترہ مارچ کو پاکستانی پارلیمنٹ کی مشاورت سے خاران,لسبیلہ, اور مکران کو غیر آئینی طور پر پاکستان کے ساتھ شامل کیا گیا جس کی بلوچ حلقوں میں بھر پور مخالفت کی گئی۔ اور پاکستانی مکروہ چہرہ لوگوں کے سامنے عیاں ہو گیا۔ اب خان پر پاکستانی دباؤ بڑھتا گیا اور تواتر سے الحاق کیلئے انہیں کہا گیا ۔ خان اب مکمل بے بس ہو چکا تھا دو راستے ہی بچ گئے تھے یا پہاڑوں کا رخ کرکے سرزمین کا دفاع کریں یا پاکستانی الحاقی دعوت نامے کو قبول کریں اکثر دوست پہاڑوں میں جاکر گوریلہ جنگ کے حق میں نہ تھے۔ تو آخر کار خان نے مجبور ہوکر الحاقی کاغذات پر بغیر پارلیمانی مشاورت کے دستخط کر دیے اور اپنے اختیارات سے سبکدوش ہو گئے۔ الحاق کے فوری بعد سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اور جلاوطنی کا دور شروع ہو گیا۔ خان عبدالصمد اور محمد امین کھوسہ کو جیل کیا گیا اور ان پر بے بنیاد مقدمات چلائے گئے۔ ستائیس مارچ کو باقاعدہ قلات اسٹیٹ پر جناح کی سربراہی میں قبضہ کیا گیا اور خان کے اختیارات کو ختم کرکے انکی ساری جائیدادوں کو ضبط کیا گیا۔ جبری قبضے کے خلاف خان کے چھوٹے بھائی اور مکران کے سابق گورنر پرنس آغا عبدالکریم نے اپنے فکری ساتھیوں سمیت علم بغاوت کرکے افغانستان کا رخ کیا اور خان کو بذریعہ خط جلاوطنی کے اسباب بیان کیے۔۔ پرنس کریم آغا نے گوریلا کیمپ کیلئے موضوع ترین مقام باڈری علاقہ سرلٹھ کو پایا اور دوستوں سمیت اپنے صفحوں کو منظم کیا۔ پاکستانی ریاست نے باڈری علاقوں میں اپنے سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا کیونکہ انہیں اندیشہ ہو گیا تھا کہ کسی بھی وقت ان پر گھمسان کا حملہ ہو سکتا ہے۔ گوریلوں کی رسد کیلئے تمام راستے بند کر دیے گئے اور مالی مشکلات بھی بڑھ گئے تھے تو پرنس نے اپنے دو نماہندے کابل روانہ کر دیے تاکہ افغان حکومت سے مدد حاصل کر سکیں مگر وہاں سے بھی کوئی خاص امداد نہ مل کر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔افغان حکومت نے محاجر کی حیثیت سے رہنے کی اجازت دے دی مگر مالی سپورٹ سے اجتناب برتا۔ خان قلات کو مسلسل پاکستانی حکومت کی طرف سے دباؤ کا سامنا تھا انکا مطالبہ تھا کہ عبدالکریم کو کسی بھی طریقے سے واپس بلاو اور ریاستی رٹ کو قبول کرلو مگر آغا کریم مسلسل پیغام بھیجنے کے باوجود واپسی پر آمدہ نہ تھا۔ آخر کار مالی اور سیاسی مشکلات اتنے بڑھ گئے کہ پرنس کو مجبورًا بلوچستان کے پہاڑی سلسلے “ہربوئی” کا رخ کرنا پڑا۔۔ پرنس کریم آغا کو یقین دہانی کرایا گیا کہ انکے مطالبات کو منظور کیا جائیگا مگر پرنس ان کی باتوں پر یقین کرنے والوں میں نہیں تھا لہذا اعلی فوجی اہلکاروں نے قرآن کا واسطہ دے کر پرنس کو 142ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے کیلئے مجبور کر دیا۔ اور وعدے سے مکر کر پرنس کریم کو ساتھیوں سمیت پس زندان کر دیئے۔ اور بلوچ سرزمین پر اپنے شیطانی پنجے گھاڑ دیئے۔بلوچ سرزمین کی دفاع کیلئے بلوچ قوم نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اب تک چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور پانچواں جنگ ہنوز جاری ہے.پاکستانی غیر فطری حکمرانی گزشتہ ستر سالوں سے جاری ہے۔ اور اس قبضے کو دوام دینے کیلئے مختلف حربے استعمال میں لائے جا چکے ہیں۔ مگر بلوچ غیور قوم روز اول سے جبری قبضے کے خلاف جہد مسلسل کر رہے ہیں۔ گزشتہ دور میں جنگی تسلسل ٹوٹنے کی وجہ سے بلوچ منزل مقصود تک پہنچ نہیں سکا مگر موجودہ جنگ اپنی پوری قوت کے ساتھ منزل کی جانب کامیابی کے ساتھ رواں دواں ہے ۔یقینا فتح اس میں بلوچ قوم کی ہی ہو گی۔