ہمگام کالم : قومی جدوجہد قوم کی حمایت و کمک اور دنیا کی مدد سے جیتا جاتا ہے ،کوئی بھی قومی جدوجہد قومی حمایت اور دنیا کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا ہے جدوجہد کے لیے عوامی حمایت اورکمک پانی اور مچھلی کے مانند ہے جس طرح مچھلی پانی کے بغیر تڑپ ، تڑپ کر مرتا ہے اسی طرح قومی تحریکیں عوامی سہارے کے بغیر منزل اور مقصد کو حاصل کرنے سے پہلے نیست ونابود اور فنا ہوسکتے ہیں ،قوم کے نام پر بننے والی کچھ پارٹیاں اور تنظیمیں قوم اور لوگوں اور قومی تحریکوں کانعرہ لگاکر پھر جرائم پیشہ تنظیموں کا روپ اختیار کر لیتے ہیں اور وہ قومی پروگرام سے ہٹ کر جرائم پیشہ لوگوں کی طرح گینگ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور قومی تحریکیں پھر ایسے لوگوں کے لیے منافع بخش کاروباری جواز بن جاتا ہے . جوں ہی ایک قومی جہدکار اپنے اصل کام قومی مقصد و عمل کو چھوڑ کر اپنی زاتی و گروہی ضروریات کے پیچھے تگ و دو شروع کرکے جہدکار سے چور ڈاکو بن جائے تو اس جہدکار اور ڈاکو، چور میں کوئی فرق باقی نہیں رہیگا ۔دنیا کے محکوم قوموں کی جدوجہد کی تاریخ اس طرح کےجہدکاروں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں کچھ لوگوں کو کسی طرح سے بھی جتنی طاقت ملی ان لوگوں نے اسکو اپنی ریاست کی بحالی کی خاطر استعمال کرتے ہوئے اپنے ملک حاصل کیے جس طرح کوسوو کے جہدکاروں نے چار ہزار لوگوں کی قربانی سے اپنی ریاست کی تشکیل ممکن بنایا ،مشرقی تیمور کے لوگوں نے کم لوگوں کی قربانی سے اپناملک حاصل کر لیا ،اریٹیریا پیپلز لبریشن فرنٹ جس نے جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف اپنی قوم کی مدد سے جنگ لڑ کر اپنی تحریک کو جرائم پیشہ لوگوں سے پاک کرکے کم لوگوں کی قربانی سے آزادی حاصل کر لی ،لیکن دوسری طرف بہت سے جہد کاروں نے معمولی سے معمولی مالی تنگی اور مشکلات میں اپنا منہ کالا کرکے اپنے لوگوں کو لوٹنا شروع کیا اور قومی جہدکار سے وہ جرائم پیشہ گینگ کی شکل میں نمودار ہوئے اور وہ لوگ ہزاروں لوگوں کی قربانیاں دیکر بھی ناکام ہوئے جس میں اریٹیریا کے اریٹیریا لبریشن فرنٹ ،تامل اورفارک سمیت بہت سی تنظیمیں شامل ہیں کولمبیا کے فارک تنظیم , جسکا قیام 1964میں عمل میں لایا گیا جو کمیونسٹ پارٹی کا مسلح دستہ تھا کیونکہ کولمبیا ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں چند چیدہ افراد اناج کے بالیوں کے ڈھیر کے مالک بنے ہوئے ہیں اور غریبوں کا استحصال ہورہا تھا اسی جَلبِ منفعت اور ناجائز انتفاع اور استفادہ کے خلاف فارک وجود میں لایا گیا تاکہ وہ اسی استحصال اور نابرابری کے خلاف لڑ سکیں اور وہاں برابری کی بنیاد پر ایک انصاف پر مبنی نظام رائج کرسکیں فارک دنیا کی تحریکوں میں سب سے مضبوط اور طاقتور تریں تنظیموں میں سے ایک تھا کہ جس نے Ingrid Betancourtجو کولمبیا کے صدراتی امیدوار تھے اسکو 2002 میں اغوا کیا ،اس نے 2002 میں کولمبیا کا جہاز اغوا کیا اور اس میں ایک سینیٹر کو بھی یرغمال بنایا اورفارک نے 2001میں کولمبیا کے وزیر کلچر کومارا ،. Colombia146s National Center for Historical Memoryنے کہا کہ فارک نے 1970سے لیکر2010تک پچیس ہزار لوگ اغوا کیے ،اس نے چار ہزار عام شہری مارے ، نوے فیصد کوکین کی خرید و فروخت صرف کولمبیا میں ہوتا ہے اور اس کاروبار اور اسکی لوٹ مار اور پھر ان کوکین کی سوداگری میں بھی زیادہ تر فارک کا عمل دخل رہا ہے ،امریکہ نے فارک کو کوکین کا قاچاک قرار دیا ہے کیونکہ وہ اس کاروبار میں شریک رہے ہیں ،
InSight Crimeجو جرائم پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے اس نے 2015میں رپورٹنگ کی کہ فارک کوکین ،منشیات اور باقی جرائم سے سالانہ500ملین ڈالر کماتا ہے جبکہ کولمبیا کے وزیر دفاع نے کہا کہ فارک جرائم اور کوکین اور باقی منشیات کی کاروبار سے سالانہ3.5بلین ڈالر کماتا ہے ،جبکہ 2010سے لیکر2014تک پیرو نے کوکین اور منشیات کی کاشت میں کولمبیا کو کراس کیا تو فارک نے دیہی علاقوں میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوکین کی کاشت کریں اور اسکا پیداوار بڑھائیں تاکہ وہ پیرو کو مات دے سکیں وہ تحریک جو مظلوم ،کسانوں ،اور غریبوں کے لیے بنا تھا جو نابرابری کے خلاف بناتھا وہاں فارک کی جرائم پیشہ کاروائیوں کی وجہ سے سارے کمانڈر ،زمہدار غریب سے امیر اور دولت مند بن گئے اور قومی پروگرام تباہ و برباد ہوا اور وہاں وہ ایک گینگ کی شکل اختیار کرگئے اور تمام نظریاتی فکری اور پروگرام سے منسلک لوگ ایک ، ایک کرکے ان سے نکل گئے کیونکہ فارک کے جرائم پیشہ کاروائیوں پر جو بھی بولتا یا آواز اٹھاتا ان کو مار دیاجاتا۔ اور وہ ایک گینگ کنگڈم کی شکل اختیار کرگئے وہاں حالانکہ حالات اور کولمبیا کی حکومت سے تنگ آکر اچھے اچھے نظریاتی لوگ ان سے منسلک ہوگئے اور لوگوں کو لگاکہ ڈاکٹر چے اور کاسترو کی طرح کا انقلاب فارک میں رہ کر وہ کولمبیا میں بھی لائیں گے لیکن جرائم پیشہ کاروائیوں کی وجہ سے فارک میں نظریہ کی جگہ جرائم نے لے لیا فکر کی جگہ دولت نے لیا انقلاب کی جگہ کوکین نے لیا اور انکے نظریاتی لوگوں کے خواب ،اُمنگ،بلند نظری،حوصلہ اور اولوالعزمی ختم ہوئے بہت سے لوگ مارے گئے اور بہت سے لوگوں نے اپنے راستہ ان سے الگ کئے ان میں ایک عورت Elda Neyis Mosqueraجسکو کرینہ کے نام سے جانا جاتا تھا کرینہ حالات اورناانصافی سے تنگ اکر فارک کا مخلص ترین انقلابی بن گئی اور وہ اپنے باپ کی مرضی کے بغیر بھی فارک کا حصہ بنے جب کرینہ فارک میں شمولیت کررہی تھی تو اس کے باپ نے کہا کہ If you must go, then be a good warrior.اسکے باپ نے کہا کہ اگر تم بضد ہو تنظیم میں شمولیت کرنے کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر جنگ کرنے کے لیے جارہے ہو تو میری ایک نصیحت یاد رکھنا کہ ایک اچھی جنگی سپاہی بن جاوُ کیونکہ کہ ایک اچھی جنگی سپاہی کے لیے مشکلات مصائب اور مصیبت میں برداشت اور اپنے پروگرام کے ڈٹے رہنے کا عزم ہوتا ہے اور تم اپنا سب کچھ چھوڑ رہے ہو تو ایک اچھا جنگی سپاہی بن جاوُ کہ اپنے مشن کو کامیاب کرسکو ورنہ اس تنظیم میں شمولیت مت کرنا لیکن کرینہ نے اپنے والد کے مشورے پر چل کر اچھے جنگجو بننے کی کوشش کی کرینہ ہر وقت اپنے والد کی باتوں پر عمل کرکے مخلص اور ایماندار جہدکار کی طرح عورت ہوکر بھی کام کرتا رہا اور آخر میں کولمبیا نے اسکی سر کی قیمت 900000ڈالر رکھی اور یہ اچھی جنگجو عورت رہی لیکن بعد میں اسکی تنظیم جب مخلص ساتھی کش ،مافیا اور جرائم پیشہ بن گیا تو کرینہ سمیت سب نے مایوسی میں تنظیم کو چھوڑ دیا اور فارک سے الگ ہوئے کیونکہ انکو ڈر تھا کہ فارک کامقصد انقلاب سے ہٹ کرپیسہ ہوا ہے کوکین ہوا ہے اور فارک میں کوئی بھی کرپٹ بندہ اسکو گرفتار کرکے حکومت کے حوالےکرے گا اور ان کا پروگرام ختم ہوا ہے ،کرینہ سمیت بہت سے مخلص اور تند خُو اور غیرلچکدار ساتھی تنظیم کو چھوڑ کر سرنڈر ہوئے یا مایوس ہوکر الگ تلگ ہوئے ،بہت سے تند خُو جہدکاروں نے کہا کہ جب بھی فارک انقلابی تنظیم سے جرائم پیشہ تنظیم بنا اور جون ہی افیون ،چوری چکاری ،اغوا برائے تاوان ان کی تنظیم کے اندر داخل ہوا تو اس نے انکے تنظیم کے جسم سے نظریہ ،انقلاب اور قومی پروگرام کی روح نکال دیا،پھر فارک نے آہستہ آہستہ کولمبیا کی حکومت سے زیادہ کرپٹ اور مزدور کش اور مافیا کا روپ لیا ، اسی طرح سارے انکے حقیقی اور فکری لوگ ایک ایک کرکے ان سے الگ ہوتے گئے کیونکہ وہاں ایک ماحول بن گیا جو لوگ غربت سے تنگ ہو کر سماج میں انکا کوئی عزت و احترام نہیں تھا اور وہ چوری کرکےہوتے تھے تو بدنام بن کر سماج کے کمزور ،غریب،اور لاچار لوگوں کے لیے فارک کا نظریہ ایک شیلڈ کاکام کرتا تھایہاں آکر وہ غریب سے دولت مند بنتے گئے اور نام بھی کمائے اور ان لوگوں نے نظریہ کا بقول ایک دانشور کے ناجائز زنا کرکے ایک ایک جائز نظریاتی تنظیم سے ناجائز نام ،شہرت اور دولت کما کر فارک تنظیم کوجرائم پیشہ تقصیر وار تنظیم بناکر لوگوں کے جزبات اور احساسات کو گزند پہنچایا اور اب فارک ایک نظریاتی تحریک کے بجائے ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔فارک کے انقلابی نظریہ کا رُخ پیسہ،بنگلہ،گاڑی میں پھیر دیا گیا اور اسکا معاشرتی نظام میں برابری کا فکر کوکین کی زیادہ سے زیادہ کاشت میں لگ گیا اسی طرح کے جرائم پیشہ کام کرکے ایک مضبوط اور منظم انقلابی تنظیم ایک داغی ،روح سیاہ اور قابل نفرت جرائم پیشہ تنظیم میں تبدیل ہوا اگر بلوچ قومی تحریک کو دیکھا جائے بلوچ قومی تحریک فارک سے مختلف الگ نظریہ سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ فارک کا نظریہ انقلاب کا ہے اور بلوچ کا نظریہ قومی ریاست کی تشکیل کا ہے ،فارک تنظیم ،انقلاب روس،انقلاب ،چین،انقلاب،کیوبا،کے قابل تقلید ہیں کیونکہ فارک کا بھی دیکھاؤ کا نظریہ روس ،چین،کیوبا،کی طرح نظام میں تبدیلی اور برابری کا ہے اور انکے راستہ کا چناوُ کیا لیکن انکا عمل انکے عمل کے برخلاف اور الٹ ہیں جبکہ بلوچ قومی تحریک جس کا بنیاد بلوچ قومی لیڈر حیربیار مری نے 1996 رکھا جس نے عملی شکل 2000میں لیا اور قومی تنظیم بی ایل اے وجود میں آیا جس نے عملاََ قومی ریاست کی تشکیل کا پروگرام دیا اور 70سال بعد بی ایل اے اور حیربیار مری نے کھلم کھلا اور صاف قومی آزادی کا پروگرام دیا اور کہا کہ یہ تحریک بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کا ہے یہ ایک انقلابی نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے ہاں بعد میں قومی تحریک کو گڈ مڈ کرنے کے لیے فارک جیسے جرائم پیشہ تنظیموں سے روحانی تاثیر لینے والے مڈل کلاس جرائم پیشہ تنظیموں نے اپنے جرائم پیشہ کاروبار کی خاطر قومی جہد میں انقلاب کا نعرہ لگایا ہے کیونکہ یہ بلوچ قومی تحریک کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے کہ ہر بیس سال بعد مڈل کلاسوں کو قومی تحریک کو نقصان سے دوچار کرنے کے لیے کلاس یاد آتا ہے اور قومی تحریک کو کلاس کی نظر کرنے کی کوشش کرتے آرے ہیں لیکن اصل چیز قومی ریاست کی تشکیل کا ہے اور اس میں بھی بلوچ قومی تحریک میں بہت سے لوگوں نے شمولیت کرکے گمنام اور خالص قومی جزبہ کے تحت قربانیاں دی ہیں اور اس میں سردار ،نواب ،میر ٹکری ،مزدور،غریب ،سب نے یکساں قربانیاں دیکر اس قومی تحریک کو توانا اور مضبوط کیا اور یہ بلوچ قومی تحریک 2008تک مثالی،پیروی کے لائق اور قابل نظیر قومی تحریک رہا ہے جس نے باقی ماندہ قوموں کو متاثر کیا جس میں سندھی ،مہاجر،پشتون شامل ہیں لیکن اسکے بعد اس تحریک کوجرائم پیشہ لوگوں نے مکمل فارک کی طرح کرکے مثالی،پیروی کے لائق اور قابل نظیر کے بجائے اسے شان سے بعید،بے جوہر،زلت آمیز اور بدنامی کے قابل تحریک بنانے کی کوشش کی اور اب ان تنظیموں نے اصلاح اور بہتری کے بجائے قومی تحریک میں ایک جرائم پیشہ لوگوں کا کلب بھی بنایا ہے جہاں جو کوئی بھی کسی بھی تنظیم سے جرائم پیشہ کارکردگی اور قانون اور اصولوں کی خلاف ورزی پر معطل کیا جاتا ہے یا کہ فارغ کیا جاتا ہے تو وہ تمام معطل شدہ یا فارغ شدہ لوگ جرائم پیشہ تنظیمی کلب میں شمولیت کرکے چوری چکاری ،اغوا برائے تاوان اور ڈرگ کا کھل کر کاروبار کرتے ہیں ،بلوچ نظریاتی جرائم پیشہ کلب کی ٹیم کا چوری چکاری اور افیون کی خاطر بلوچوں کو مارنے کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے کچھ دن پہلے زامران سرکیزئی میں پانچ بلوچوں کو بے دردی سے جرائم پیشہ کلب کے ممبران نے قتل کرکے انکے افیون چراکر پھر ان افیون کو مکران میں سستے سودا کرکے جدوجہد اعلی مثال قائم کیا ،جرائم پیشہ بلوچ کلب کے لوگوں کا بھی عجیب منطق ہے جو بی ایل اے کے لوگ جدوجہد کو داغدار ہونے سے بچانے کی خاطر تنگی ،مشکلات اور غربت برداشت کرتے ہیں تو جرائم پیشہ کلب کے ممبران پارلیمانی لوگوں کی طرح پھر انکو شگان مارتے ہیں کہ تم لوگ تنگدست ہو حالانکہ نیشنل پارٹی ،عوامی اور باقی پارلیمانی لوگوں نے جدوجہد کے شروع کے زمانے میں غلام محمد اور باقی نظریاتی اور فکری لوگوں کو غربت اور غریبی کا شگان لگایا تھا اب جدوجہد کے سہارے چوری چکاری اور افیون کے کاروبار سے گاڑیاں اور بنگلہ بنانے والے جرائم پیشہ کلب کے ممبران بی ایل اے اور حیربیار مری کے دوستوں کو وہی نیشنل پارٹی والا حربہ استعمال کرکے شگان بازی کررے ہیں دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی جدوجہد نشیب وفراز ،خوشحالی و بدحالی کے دن کے بغیر نہیں گزرا ہے لیکن حقیقی اور قومی سوچ رکھنے والے تحریک کو بچانے کے لیے لوگوں کی قربانیاں دیتے ہیں جبکہ جنگی منافع خور اور جرائم پیشہ کلب کے لوگ اپنے لوگوں اور اپنے آسائش اور نمود ونمائش کے لیے تحریک کو قربان کرکے نظریاتی اور فکری تحریک کو جرائم پیشہ تحریک میں بدلتے ہیں لیکن بلوچ قومی تحریک میں،صرف بی ایل اے ہے کہ جس نے شروع میں اس تحریک کا داغ بیل ڈالا تھا آج تک بھی سخت تریں حالات میں بھی اس نے اپنی ساکھ اور بھروسہ کو نہیں توڑا ہے حالانکہ اس نے تنظیم کی ڈسپلن اور قانون کی خاطر بڑے بڑے نامی گرامی کمانڈروں کو معطل کیا بحران برداشت کیا لیکن قومی تحریک کو نقصان پہنچانے نہیں دیا آج تک اس نے کسی بھی جگہ کسی بلوچ کا مال نہیں چرا یا کسی منشیات کی لوٹ مار میں حصہ نہیں لیا کسی کا پراکسی نہیں بنا بلکہ مالی مشکلات برادشت کیے اور اپنے ممبران کی خاطر قومی تحریک کو قربان گاہ میں جاکر اس نے قربان نہیں کیا اور آج بھی بی ایل اے کسی حد تک مثالی ،پیروی کے لائق اور قابل نظیر تنظیم ہے لیکن دوسری طرف تو باقیوں نے فارک کا مکمل روپ اختیار کیا ہوا ہے کچھ تنظیموں نے تو جرائم پیشہ کاموں کی وجہ سے فارک کو بھی مات دیا ہوا ہے ایک سازش اور منصوبہ کی وجہ سے،شوق لیڈری نمود ونمائش کی وجہ ،اور مال و مڈی کی خاطر ،تقسیم درتقسیم کی وجہ سے مضبوط اور منظم قومی تحریک قوم کی نظروں اور دنیا کے سامنے بدنامی کا منظر نامہ اور خاکہ پیش کررہا ہے اور قومی تحریک ایک مثالی تحریک کے بجائے بدنامی کا باعث بن رہا ہے ،کوئی لتو ،جتو،ستو،متو شوشا اور نمود ونمائش کی خاطر قومی تحریک کا ستیا ناس کررہا ہے ،تو کوئی لتو،جتو،ستو،متواپنی غربت،تنگی کو دور کرنے کے لیے مقدس اور عظیم قومی نظریہ کا چادر اوڑھ کر چوری چکاری ،اغوا برائے تاوان ،منشیات کی لوٹ مار کا بازار گرم کرکے قومی نظریہ کو ہائی جیک کرکے خوب پیسہ روپیہ اور تمن کی وصولی کررہا ہے ،ماسوائے بی ایل اے کے جو آج تک مشکل حالات کے باوجود قومی نظریہ کے ساتھ مضبوطی کے سے ڈٹا ہوا ہے باقی کچھ تنظیموں میں کسی حد تک اصلاحات کی کوشش بھی ہورہا ہے لیکن جرائم پیشہ لوگوں کا ایک کلب ہے کہ جہاں کسی بھی تنظیم اور پارٹی سے جرائم پیشہ لوگوں کو معطل کیا جاتا ہے یا کہ نکال دیا جاتا ہے وہ جاکر اس فارک کے جرائم پیشہ بلوچ کلب میں شمولیت اختیار کرکے لوٹ مار ،چوری چکاری اور منشیات کی چوری اور پھر ان منشیات کو مکران کے بازاروں میں سستے داموں بھیج کرلوگوں میں فارک کی طرح ڈرگ کو عام کررہے ہیں ،جس طرح فارک نے انقلاب کے نظریہ کا سہارالیکر ڈرگ کا کاروبار کیا اسی طرح بلوچ قومی تحریک کے جرائم پیشہ کلب کے ممبران نے قومی نظریہ کا خوب استعمال کرکے قومی تحریک سے لوگوں کو مایوس کیا جرائم پیشہ بلوچ کلب میں بھی فارک کی طرح نظریہ کی جگہ جرائم نے لیا ،سیاسی کیڈر کی جگہ افیون اور منشیات کے مہارت والوں نے لیا ،کسی بھی طرح کی تنگ دستی اور مالی مشکلات پر پراکسی بننے کے عمل اور چوری چکاری اور افیون کے کاروبار اور اغوا برائے تاوان کو جرائم پیشہ کلب کے ممبر جواز کے طور پیش کرتے ہیں بلکل قومی تحریک میں جائز عمل کے لیے جائز طریقہ سے وسائل نکالنا ضروری ہے وسائل اس طرح سے نکالے جاتے ہیں کہ وہاں سے اپنی قوم اور لوگوں کو تکلیف دینے کے بجائے دُشمن اور قابض کو لوٹا جاتا ہے اور وہ قومی وسائل ،مال مڈی جسکو سرمچار روک نہیں سکتے ہیں لیکن وہ قابض لے جارہا ہے اسکواگرسرمچار اپنے مالی مشکلات کے لیے استعمال کریں، ،اپنی قوم کو مشکل حالات میں مدد دیکر خود پر جب مشکل حالات آئے تو قوم کا مال چوری کرنے کے بجائے قوم سے مدد مانگ لی جائے اور بہت سے طریقہ ہیں جو دنیا اور بلوچ قوم دونوں کو تحریک سے ناامید اور مایوس کرنے کے بجائے بھی تنظیمی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔ تحریک کی ضروریات چھوٹے چھوٹے اخراجات سے بھی پورے ہوسکتے ہیں لیکن فارک اور بلوچ جرائم پیشہ کلب کے کمانڈران کی طرح بنگلہ ،گاڑیاں اور عیاشیاں کرنے کے لیے ایک ریاست کی بجٹ بھی ناکافی ہے کجا تحریکی محدود وسائل ،دنیا کے تمام جرائم پیشہ لوگوں میں ایک چیز مماثل رہا ہے کہ جن لوگوں نے قومی نظریہ ،یا انقلابی نظریہ ہو جب اسکے ساتھ زنا کیا اور خالص انقلابی یا قومی نظریہ کی بدن سے جو ناجائز جرائم پیشہ کلب کا وجود ہوا اس میں اپنے نزدیکی حقیقی اور فکری سوچ سے لیس لوگوں کو بس اس بات پر گمراہ کیا جاتا رہا کہ انکو تسلی دی جاتی رہی ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں ہم اپنے عمل سے ثابت کریں گے اور ضرور جو کوئی قابض یا کسی ریاست کے ساتھ نبرد آزماہے وہ بھی جرائم پیشہ چوروں اور مافیا کی طرح کسی نہ کسی دن مارا جائے گا یا بہت سے لوگ مایوس ہوکر سرنڈر ہونگے کچھ مارے جائیں گے کیا باقی بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ جدوجہد کررے ہیں وہ نہ کسی کا مال چوری کررہے ہیں ناکسی تنظیم کو توڑ رے ہیں نا گاڑی بنگلہ بنا رے ہیں صرف اور صرف تحریک کی خاطر جدوجہد کررے ہیں تو یہ لوگ جو جرائم پیشہ کام کی وجہ سے تحریک کے نقصان کا سبب بن رہے کیا یہ لوگ ان ہزاروں جہدکاروں اور پوری قوم کا ایک طرح سے استحصال نہیں کررے ہیں لیکن کیا وہ چند لوگ جو اس جرائم پیشہ کلب کے ممبر ہیں اور نظریہ و فکر اور قومی پروگرام کو نقصان دیکر ان ہزاروں گمنام ،غر بت ،تنگ دستی ،مشکلات ،مصائب اور مصیبت میں نظریہ ،قومی پروگرام اور فکر کو محفوظ کرنے والے جہدکاروں کے برابر ہوسکتے ہیں کیا دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا بھی واقع ہے کہ تاریخ میں شہادت نے جہدکاروں اور جنگجوں اور سیاست دانوں کے تمام داٖغ اور دبے دھو لیئے ہوں ۔ اگر ایسا ہوتا تو مشرقی تیمور کے معطل شدہ مولک کا داغ اسکی شہادت دھو سکتا اگر ایسا ہوتا تو اریٹیریاں کے اریٹیریا لبریشن فرنٹ کے تمام جرائم پیشہ کمانڈروں کے داغ انکے شہادت صاف ستھرے کرتے اور تو اور بلوچ قومی تحریک میں بقول ایک زانتکار دوست کے نصیر خان نوری جس نے بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کی اور بلوچ قوم کو ایک حقیقی معنوں میں ملک دیا لیکن آج تک اسکی ایک غلطی یا ریاست کی اس وقت کی ضروریات کہیں کہ اس نے مکران کے لوگوں کو مذہب کے نام پر مارا اسکو لوگ نہیں بخشتے ہیں ،تو کس طرح مکران میں ایک ہزار لوگوں کو افیون اور منشیات کی چوری اور خاندانی دُشمنی میں قتل کرنے اور مضبوط قومی تنظیموں کو پراکسی بننے اور منشیات اور افیون کی چوری کے لیے پارٹیاں توڑنے کے عمل کو کس طرح تاریخ فراموش کرسکے گا ،کوئی بھی شہادت ان دبوں اور تحریک کے نقصانات کے نشانات کو زندگی بھر نہیں مٹا سکے گا فارک کے جرائم پیشہ کام کو انکے جرائم پیشہ لوگوں کی شہادت بھی نہیں مٹا سکا کیونکہ موت تو ہر کسی کا آتا ہے لیکن کیا وہ لوگ جو تحریک کو بچانے کے لیے تنگی ،مشکلات ،مصائب،مصیبت،اور غربت برداشت کرکے قومی نظریہ اور قومی پروگرام کا دفاع کررہے ہیں اور ایک وہ جو قومی بندوق ہاتھ میں رکھ کر چوری چکاری ،منشیات کی لوٹ مار کرکے گاڑیاں اور بنگلہ بنا کر قومی نظریہ کومقدس قومی پروگرام سے ہٹا کر جرائم پیشہ بناکر نظریہ کا ملاوٹ کررہا ہے وہ کس حد تک اس خالص حقیقی اور فکری اور نظریات کے محافظ جہدکار کا نعم البدل ، یکسان اور برابر ہوسکتا ہے ۔ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اپنا مال ،گھر،دولت ،شہرت،ہستی اور سب کچھ تیاگ کر قومی تحریک میں صرف اور صرف قومی پروگرام کے کامیابی کے لیے کام کررہے ہیں اور اس راستے میں دکھ ،تکلیف،مصائب،اور مشکلات برداشت کرکے قومی پروگرام اور قومی نظریہ کو محفوظ کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف مخصوص جرائم پیشہ کلب کے وہ جہدکار ہیں جو قومی تحریک سے پہلے مالی حوالے سے کمزور تھے لیکن قومی فکر اور پروگرام کا سہارا لیکر اب قومی تحریک میں لوٹ مار،چوری چکاری ،منشیات کی چوری اور چوری کردہ منشیات کی بازاروں میں فرخت سے دھن وان اور زردار بن چکے ہیں اور یہی جہدکار عام لوگوں کو خاندانی دشمنی میں مخبری کالیبل لگاکر مارنے اور مسلح اور سیاسی قومی پارٹیوں میں تقسیم درتقسیم کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں جنکے اعمال قومی تحریک کو روز بہ روز فائدے کے بجائے نقصانات سے دوچار کررہے ہیں اور اس کلب میں بھی فارک کے مخلص جہدکاروں کی طرح سینکڑوں کی تعداد میں اچھے اور قومی سوچ اور پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے والے کیڈر اور کمانڈراور ممبران بھی ہونگے لیکن سارے جرائم پیشہ لوگوں کی وجہ سے یرغمال بنے ہوئے ہیں آج کے موجودہ حالات میں یہ لوگ اپنے جرائم پیشہ کاروائیوں اور تقسیم درتقسیم کی وجہ سے قومی تحریک کو ضررپہنچارہے ہیں ،فارک کی تعداد اور جنگی کاروائیاں بلوچ جرائم پیشہ کلب کی تعداد اورکاروائیوں سے دو سوگناہ زیادہ تھا اور فارک تحریک میں 260,000,لوگ مارے گئے ان لوگوں نے ایسے کاروائیاں کی کہ جو کامیاب انقلابی تحریکوں کیوبا اور باقی جگہوں میں بھی نہیں ہوئے لیکن وہ ناکام ہوئے اور اتنی قربانیاں بے کار گئے بلکہ فارک کی انقلاب نے
ایک جنگی منافع خور گروہ کو پیدا کیا لیکن قوم اور وہاں کے لوگوں کو فارک کی تحریک سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تو بلوچ قومی تحریک کس طرح سے جرائم پیشہ کاروائیوں سے اپنے قوم اور لوگوں کی مدد اور کمک کے بغیر کامیاب ہوسکتا ہے اور تقسیم درتقسیم اور قومی تحریک کو اندرونی اور بیرونی طور پر تنہائی سے دوچار کرکے کس طرح کامیاب کراسکتا ہے اگر جرائم پیشہ کلب کے ممبران کے پاس کوئی اچھا فارمولا ہے وہ ہمیں قائل کریں ،تاریخ کا حقیقت میں یہی درس اور سبق رہا ہے کہ جنگی منافع خوری،جرائم پیشہ تنظیمی کاموں ،تقسیم درتقسیم سے فارک کی طرح ایک مخصوص ٹولہ کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن قومی تحریک کو بدنامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ،کیا ہزاروں شہدا کی قربانیوں ،ستر سال کے تنگی مشکلات اور مصائب پر مبنی قومی سفر اور قومی پند کو چند مخصوص لوگوں کے فائدے ،لیڈری ،نمود ونمائش اور بے وقوفیوں کا نظر کرکے مقدس قومی تحریک کو فارک کی طرح رسوا کرکے ناکام کرنے دیا جائے یا کہ قومی تحریک کو تقسیم در تقسیم ،جرائم پیشہ مخصوص کلب ،اور نمود ونمائش سے پاک کرکے پاک اور مقدس قومی جہد بناکر کامیاب کریں اب ایک راستہ فارک کے جرائم پیشہ لوگوں کا راستہ ہے جو سیدھا نمود ،نمائش ،تقسیم درتقسیم سے ہوتے ہوئے جرائم پیشہ کلب میں جاکر ناکامی کی طرح جارہا ہے جبکہ دوسراشاہراہ اور راہ ایک مقدس قومی مقصد اور تقسیم در تقسیم کی حوصلہ شکنی اور تحریک کو جرائم پیشہ لوگوں سے پاک کرکے آزاد قومی ریاست کی بحالی کی طرف جارہا ہے ،فارک کی طرح بلوچ جرائم پیشہ کلب کے راستے میں لیڈری،نمود ونمائش، شوشا افیوں کی چوری چکاری،گاڑی ،بنگلہ اور اسائش ہے جبکہ آزاد قومی ریاست کی تشکیل کی راہ میں ویت نام ،الجزائر،کینیا، اریٹیریا،مشرقی تیمور کی طرح مالی مشکلات ،نشیب وفراز،تکلفیں، تنگ دستی اور گمنامی ہے ،جرائم پیشہ کلب کا راستہ فارک کی طرح قوم ،سرزمین اور تحریک کو مسماری،تخریب اور بربادی کے در پر لے کر جائے گا اور ریاست کی بحالی کا خالص اور صعیح راستہ قوم ،سرزمین اور تحریک کو تعمیرکے دروازے پر لے جائے گا ،اب اس مشکل اور سخت حالات میں تمام پارٹیوں اور مسلح تنظیموں میں موجود جہدکاروں اور بلوچ نوجوانوں اور شعور رکھنے والے لوگوں کو شعوری فیصلہ کرتے ہوئے ایک راستہ کا چناؤ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قومی تحریک کو اس دلدل سے بھی نکالنا ہوگا تب جاکر بلوچ قومی تحریک کنفیوژن اور ابہام کے ماحول سے نکل کر ایک توانا اور مضبوط شکل اختیار کرسکے گا۔















