سه شنبه, مارچ 10, 2026

16 سالہ طالبعلم سید احسان شاہ بلوچ کا ماورائے عدالتی قتل دراصل انصاف کا قتل ہے۔ این ڈی پی

شال (ہمگام نیوز) این ڈی پی کے ترجمان نے کہا ہے کہ کل بروز اتوار سید احسان شاہ بلوچ کے والدہ اپنے معصوم بچی کے ہمراہ ساراوان پریس کلب مستونگ میں صحافیوں کے موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں پر الزام لگاتی ہوئی بتاتی ہیں کہ مورخہ 03 جون 2025 کو عید سے چار دن قبل انکا سولہ سالہ بیٹا سید احسان شاہ بلوچ کو کوئٹہ سے مستونگ کے جانب آتے ہوئے فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے روک کر اسے روڈ پر کھڑا کرکے گولیاں مار کر شہید کیا جبکہ انکے ہمراہ شعیب بلوچ کو زخمی کردیا گیا تھا-

انہوں نے کہا یہ بلوچ سرزمین پر پہلا واقعہ نہیں، بلکہ پچھلے چند سالوں میں سینکڑوں واقعات اسطرح کے رونما ہوئے ہیں، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچ نوجوانوں کو ماورائے آئین خفیہ عقوبت خانوں میں غیر قانونی حراست میں رکھے ہوئے ہیں، جس پر ریاستی اعلٰی عدالتوں میں اس وقت بھی سینکڑوں کے تعداد میں آئینی درخواست دائر ہیں جو بدقسمتی سے التواء کا شکار ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے عدالتی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آئے روز قانون نافذ کرنے والے ادارے آئین و قانون کو پاؤں تلے روندہ کر بے گناہ اور نہتے شہریوں کو ماورائے عدالت قتل بھی کر رھے ھیں، جنکی بڑی تعداد جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہیں- تربت میں 2023 کو بالاچ کا واقعہ بھی ایک ماورائے عدالتی قتل تھا ، جو عدالتوں میں ثابت بھی ہوا، جسکے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے قیادت میں بلوچ لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے اسلام آباد تک مارچ کرکے دھرنا دیا، لیکن بلوچ لواحقین کے فریاد کو نہیں سنا گیا- اسطرح کا ایک دوسرا واقعہ حیات بلوچ کا بھی تھا، جسے انکے والدین کے سامنے فرنٹیئر کور کے اہلکار نے گولی مار کر شہید کیا-

انہوں نے کہا سید احسان شاہ بلوچ کے شہادت پر انکی والدہ کے جانب سے لگائے جانے والے الزام شدید نوعیت کے ہیں، اور ضروری ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو اسطرح کے سانحات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں، انسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں اور وکلاء بارایسوسی ایشنز سمیت سول سوسائٹی ممبران کو ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے یہ سوال رکھنا ہوگا کہ بلوچ سرزمین کو نوآبادیاتی پالیسیوں کے تحت مقتل گاہ بنانے کا مقصد کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ماورائے آئینی اقدامات کے ذریعے بے گناہ لوگوں کو حراست میں رکھا گیا ہے؟ جب تک شفاف تحقیقات کے ذریعے حقیقی صورتحال کو واضح نہیں کیا جائے گا، تب تک سید احسان شاہ بلوچ، بالاچ اور حیات بلوچ جیسے سانحات جنم لیتے رہیں گے-

انہوں نے کہا سید احسان شاہ بلوچ کے انسانی سوز قتل کے بعد مقتول کے اہل خانہ نے جب انصاف کے لیے آواز بلند کی تو انہیں ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے دھمکیوں کے ذریعے حراساں کرنا شروع کردیا ہے- ایف آئی آر کے اندراج سے بھی انکار کیا گیا ہے، اور ضلعی انتظامیہ نے نہ صرف متاثرہ خاندان کی داد رسی سے انکار کیا بلکہ ریاستی مشینری کے تمام پرزے متاثرہ خاندان کو خاموشی کی تلقین کر رہے ہیں- سید احسان شاہ بلوچ کے والدہ نے پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا ہے کہ اگر وہ انصاف کے لئے آواز بلند کرتی ہیں تو ان کے سمیت ان کے باقی بچوں کو بھی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے-

انہوں نے کہا نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی 3 جون 2025 کو مستونگ کے قریب سید احسان شاہ بلوچ کے شہادت کے صورت میں پیش آنے والے واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، یہ واقعہ ایک نہتے، بے گناہ نوجوان کی زندگی کو ریاستی طاقت کے ہاتھوں چھیننے کا کھلا واقعہ ہے، جو کسی بھی قانون، اخلاقیات اور انسانی حقوق کے تصور کے برخلاف ہے- تمام مکتبہ فکر کو یکجا ہوکر سید احسان شاہ بلوچ کے شہادت پر انکے اہل خانہ کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے آواز کو بلند کرنا ہوگا، تاکہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے پر کھڑا کیا جاسکے-

یہ بھی پڑھیں

فیچرز