قلات (ہمگام نیوز) بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ 12 جولائی کو رات نو بجے بلوچ لبریشن آرمی نے قلات کے علاقے بینچہ میں کوئٹہ کراچی مین آر سی ڈی شاہراہ پر ایک کامیاب پری ایمپٹو سٹرائیک کیا۔ قلات میں مذکورہ سٹرائیک اور گزشتہ کارروائی بلوچ مسلح تحریک کے عصری ضروریات کے پیش نظر ایک سلسلے کے تحت کیے گئے، اور ان میں متعلقہ علاقوں کا انتخاب خاص طور پر کیا گیا تاکہ پری ایمپٹو مینیور کا استعمال کرتے ہوئے ان حساس مقامات پر قابض و ان کے مقامی آلہ کاروں کیلئے زمین تنگ کی جاسکے۔
انہوں نے کہا بی ایل اے نے سٹرائیک کا آغاز بینچہ کے اہم مقامات پر combat-forward positions (کامبیٹ فارورڈ پوزیشنز) قائم کرنے سے کیا اور بعد ازاں علاقے سے گزرنے والی کوئٹہ کراچی مین آر سی ڈی شاہراہ کے اوپر متعدد کنٹرول اینڈ سکریننگ پوائنٹس ایکٹیویٹ کیے۔ قابض فوج و ان کے کرائے کے ایجنٹوں کی جانب سے دراندازی کی متعدد کوششوں کے باوجود بی ایل اے نے مسلسل چار گھنٹے تک علاقے پر آپریشنل برتری برقرار رکھا۔
ترجمان نے کہا سٹرائیک کے شروعات میں کامبیٹ فارورڈ پوزیشنز میں موجود سرمچاروں نے خضدار سے آنے والی فورسز کے ایک قافلے کی پیش قدمی کو روکھنے کیلئے ان پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا، دوطرفہ جھڑپ کے کچھ ہی دیر بعد بزدل دشمن پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس حملے کے نتیجے میں فورسز کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
پری ایمپٹو سٹرائیک کے دوران سرمچاروں نے بی ایل اے کے جنگی ڈاکٹرائن بلخصوص Stay, Hit and Run اور Safe-Engagement Doctrine (SED) کے گائیڈلائنز کا مکمل طور پر خیال رکھتے ہوئے خود سمیت نہتے عوام کو آپریشن کے اختتام تک محفوظ رکھا۔
مزید برآں آج 13 جولائی کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے خاران شہر میں شیخ مسجد کے قریب واقع ڈی آئی جی رخشان زون کے آفس پر یکے بعد دیگرے تین بم حملے کیے۔
مذکورہ ڈی آئی جی پولیس افسر کے لبادے میں ایک فوجی سہولت کار ہے جس کا کام پولیس کے مقامی بلوچ اہلکاروں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنا ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی اس جنگ کو ایک آزاد اور خودمختار بلوچستان کی تشکیل تک جاری رکھنے کا عہد کرتی ہے۔


