دزاپ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی علاقہ دزاپ سے ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ حالیہ دنوں میں زاہدان سے باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پولیس کمانڈ نے ایک غیر رسمی حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت بلوچستان میں تمام پولیس گشت اور آپریشنل گاڑیوں میں کم از کم ایک بھرتی شدہ فوجی (سربازِ وظیفہ) کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ اگر پولیس کی گاڑیوں پر حملہ ہو جائے تو بھرتی شدہ فوجی کی موجودگی ایک تشہیری پردہ فراہم کرے؛ یعنی خبر میں فوجی کے مارے جانے کو نمایاں کیا جائے اور پولیس یا کمانڈر سطح کے اہلکاروں کی ہلاکت کو کم اہم دکھایا جائے۔ اس اقدام نے بھرتی شدہ فوجیوں کے اہل خانہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
مذکورہ ذرائع نے وضاحت کی: “اگر کسی حملے میں فوجی مارا جائے تو سپاہ اور سیکورٹی اداروں کی تشہیری حکمتِ عملی مکمل ہو جاتی ہے، اور ایسی اموات کو بطور پروپیگنڈہ استعمال کیا جاتا ہے۔”
ایک بھرتی شدہ فوجی نے حال وش سے بات کرتے ہوئے کہا: “بلوچستان اور ایران کے عوام نے بارہا بھرتی شدہ فوجیوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور انہیں حکومت کی پالیسیوں کا شکار قرار دیا ہے۔ لیکن پولیس اور سپاہ کے کمانڈروں یا مستقل اہلکاروں کی ہلاکت پر لوگ نہ ہمدردی کرتے ہیں اور نہ افسوس، اسی لیے ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے تاکہ عوام ان کے لیے ہمدردی محسوس کریں۔”
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بھرتی شدہ فوجی، جو اکثر ناتجربہ کار اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہوتے ہیں، انہیں براہِ راست خطرے کی صفِ اول میں دھکیل دیا جاتا ہے؛ ایک ایسی پالیسی جو انسانی اور قانونی نقطۂ نظر سے سخت تنقید کا باعث بنی ہے۔


