شال ( ہمگام نیوز ) بلوچ سیاسی سماجی سرگرم کارکن کامریڈ وسیم نے کہا ہےکہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق اب ہر قسم کی سیاسی سرگرمی، احتجاجی مظاہرہ یا عوامی اجتماع کے لیے انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام دراصل ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نافذ کردہ جابرانہ ایکٹس کا تسلسل ہے، جن کے تحت تمام ضلعی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ صوبے بھر میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا عوامی سرگرمی اجازت کے بغیر نہ ہونے دی جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ 2یہ احکامات واضح طور پر اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک میں عملاً سرفراز بگٹی کی شکل میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ کیا جا چکا ہے۔ پُرامن احتجاج، سیاسی سرگرمی اور آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانا بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر سرگرم ملکی و غیر ملکی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتیں اس کھلے جبر پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ریاستی مقتدرہ قوتیں اپنی استحصالی پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات کو چھپانے کے لیے اب آئین و قانون کو ہی اپنے حق میں بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئین کی توہین ہے بلکہ ملک کو مزید انتشار اور عوامی بے چینی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو کس آئینی اختیار کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ بنیادی شہری و سیاسی آزادیوں کو محدود کرے؟ آئینِ پاکستان ہر شہری کو پُرامن احتجاج، اظہارِ رائے اور سیاسی اجتماع کا حق دیتا ہے کسی محکمہ کو ان حقوق کی نفی کا اختیار نہیں۔ اگر حکومت اور مقتدرہ قوتیں واقعی احتجاج ختم کرنا چاہتی ہیں تو سب سے پہلے عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کریں: روزگار کے مواقع تعلیم و صحت کی سہولیات جان، مال اور عزت کا تحفظ جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ جب عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوں گے تو احتجاج ان کا فطری اور آئینی حق بن جاتا ہے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ آئینی جدوجہد کرنے والوں کو اجازت ناموں کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کرے۔ کامریڈ نے کہا ہے کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ محکمہ داخلہ بلوچستان کے یہ غیر آئینی احکامات عوامی حقوق، جمہوریت اور وفاقی آئین کے منافی ہیں۔ اگر آئینی و جمہوری جدوجہد کرنے والوں کو اس طرح دبایا گیا تو یہ صورتحال ریاست کے حق میں نہیں بلکہ ایک سنگین بحران کو جنم دے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری ان مقتدر قوتوں پر عائد ہوگی جو ایئرکنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر عوام کے آئینی حقوق سلب کر رہی ہیں۔ ریاست و ریاستی مقتدرہ قوتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آئین عوام کے تابع ہے، عوام آئین کے تابع نہیں۔ بلوچ عوام اور سیاسی جدوجہد کرنے والے اپنے آئینی، جمہوری اور انسانی حقوق کے دفاع سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔