پاکستان اور ایران میں سخت پابندیوں کے باوجود آج بلوچستان کے مختلف علاقوں سمیت دنیا بھر میں یومِ شہدائے بلوچ، جوش اور جذبے کے ساتھ منایا گیا۔

موصولہ تصاویر اور اطلاعات کے مطابق، زاہدان، چابہار، کوئٹہ اور نیمروز سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں بلوچ عوام نے گھروں میں رہ کر اور سوشل میڈیا پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں شمعیں روشن کیں، بلوچستان کا پرچم آویزاں کیے، اور شہداء کے نام پر خصوصی دعائیں کیں۔

دنیا بھر سے بلوچ کمیونٹی کے افراد نے بھی آن لائن سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی۔ فری بلوچستان موومنٹ (Free Balochistan Movement) کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے ایک عالمی آن لائن اسپیس کا اہتمام کیا گیا، جس میں بلوچی، اردو، انگریزی، براہوی، جرمن اور عربی زبانوں میں گفتگو اور آگاہی مہم چلائی گئی۔ دنیا کے مختلف ممالک — برطانیہ، جرمنی، سویڈن، کینیڈا، عمان اور خلیجی ریاستوں سے لوگوں نے اس میں شرکت کی

شرکاء نے کہا کہ بلوچ شہداء نے اپنی سرزمین، شناخت اور آزادی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ہم اپنے شہداء کے مشن کو زندہ رکھیں گے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

اس موقع پر بلوچستان بھر اور دنیا کے مختلف حصوں میں بلوچ عوام نے یہ پیغام دیا کہ یومِ شہدائے بلوچ صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد ہے — مزاحمت، یاد اور امید کا۔