یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںخواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف پانچ روزہ احتجاجی مہم کا آغاز۔...

خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف پانچ روزہ احتجاجی مہم کا آغاز۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

شال (ہمگام نیوز) یکجہتی کمیٹی کی مرکزی عہدیدار ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب نوجوانوں اور مردوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ بلوچ خواتین تک بھی پھیل چکی ہیں، جن میں آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق، یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف پانچ روزہ احتجاجی و آگاہی مہم کا آغاز کر رہی ہے۔

مہم کی سرگرمیاں:

  • بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور انصاف کے مطالبے کے لیے آن لائن پٹیشن کا اجرا۔

  • متاثرہ خاندانوں، کارکنان، طلبہ، لکھاریوں اور حامیوں کی جانب سے کہانیوں، بیانات اور مہم کے مواد کا اشتراک۔

  • مزاحمت اور یادداشت کے طور پر فن کا استعمال، جس میں شاعری، تحریر، موسیقی اور بصری فن شامل ہوں گے۔

  • بلوچ خواتین کی تکالیف کو اجاگر کرنے اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے علامتی اقدامات اور پُرامن احتجاج۔

  • اختتامی ویبینار، جس میں کارکنان، لاپتا افراد کے اہلِ خانہ اور بلوچستان بھر سے مختلف آوازیں شامل ہوں گی۔

ہر آواز اہم ہے۔ خاموشی ظلم کو طاقت دیتی ہے۔
کھڑے ہوں۔ آواز بلند کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز