زابل(ھمگام نیوز) حالوش نیوز کے مطابق ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زابل اور سراوان میں گزشتہ دو روز کے دوران دو الگ الگ مسلح جھڑپوں میں کم از کم 10 افراد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم ہلاک شدگان کی شناخت اور واقعات کی تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔
سرکاری میڈیا اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق، جمعہ 5 جون 2026 کی شام زابل کے سرحدی علاقے میں مسلح افراد اور قابض ایرانی سرحدی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں 6 افراد کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اسی طرح سرکاری ذرائع نے اتوار 7 جون 2026 کو سراوان میں ایک اور مسلح تصادم کی اطلاع دی، جس میں 4 افراد کے ہلاک ہونے اور ایک سیکیورٹی اہلکار کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سرکاری میڈیا نے دونوں واقعات میں ہلاک ہونے والوں کو “دہشت گرد”، “شرپسند” اور “مسلح عناصر” قرار دیا ہے، تاہم اب تک ان افراد کی تصاویر، شناختی معلومات، رہائشی علاقے، تدفین کی تفصیلات یا کوئی ایسا آزادانہ ثبوت سامنے نہیں لایا گیا جو ان دعوؤں کی تصدیق کرسکے۔
ماضی میں بھی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قابض ایرانی سیکیورٹی اداروں اور سرکاری ذرائع کی جانب سے مسلح افراد کی ہلاکت کے حوالے سے متعدد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، جن میں بعض مواقع پر بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ کچھ متاثرین مقامی شہری تھے یا سرکاری بیانیے کے بعض پہلوؤں پر سنگین سوالات اٹھے تھے۔
اسی تناظر میں موجودہ واقعات کے بارے میں بھی آزاد اور قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنے تک سرکاری دعوؤں کی تصدیق یا تردید ممکن نہیں ہے۔
حالوش نیوز کے مطابق مقامی اور آزاد ذرائع کے ذریعے دونوں واقعات کی مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ادارے نے شہریوں، متاثرہ خاندانوں اور باخبر افراد سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس ہلاک شدگان، زخمیوں یا ان واقعات سے متعلق کوئی مصدقہ معلومات موجود ہوں تو وہ فراہم کریں۔
رپورٹ کی اشاعت تک کسی سرکاری ادارے نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ان واقعات کے بارے میں مزید آزادانہ تفصیلات دستیاب ہوسکی ہیں۔


