Homeخبریںسانحہ گدر بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں...

سانحہ گدر بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے ۔ این ڈی پی

شال (همگام نیوز) سانحہ گدر بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے۔ عام شہریوں پر حملے، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل ناقابلِ قبول ہیں – نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گدر بلوچستان میں پیش آنے والا المناک سانحہ بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے، جس نے نہ صرف پورے بلوچ و بلوچستان بلکہ ہر باشعور انسان کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ اس انسانیت سوز واقعے میں تیس کے قریب مرد، خواتین اور بچے زخمی ہوئے جبکہ متعدد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سانحے میں پانچ معصوم بچے بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو اس المیے کی سنگینی اور بے رحمی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ عام شہری آبادی کو اس طرح نشانہ بنانا ہر انسانی، اخلاقی اور قانونی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں رونما ہونے والا یہ سانحہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ اٹھہتر برسوں سے جاری ریاستی جبر، سیاسی انتقام اور بلوچ عوام کے خلاف منظم اجتماعی ظلم کے تسلسل کی ایک اور کڑی ہے۔ جب کسی معاشرے میں عام شہری، خواتین اور بچے بھی تشدد اور عدم تحفظ کا شکار ہوں تو یہ صورتحال کسی بھی مہذب، آئینی اور جمہوری معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہوتی ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اصولوں بلکہ پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی بھی نفی کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ آج بلوچستان میں عام شہریوں کی زندگی کو عملاً خوف، غیر یقینی اور عدم تحفظ کے ماحول میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ایک جانب جبری گمشدگیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تو دوسری جانب مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ سالوں سے جبری طور پر لاپتہ افراد کو بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کرکے ڈرامائی انداز میں مسلح قرار دیا جاتا ہے اور انہیں مبینہ مقابلوں میں ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں پنجگور سے تعلق رکھنے والے پیرجان بلوچ اور شعیب بلوچ کے واقعات اس افسوسناک طرزِ عمل کی تازہ مثال ہیں، جو کئی برسوں سے جبری طور پر لاپتہ تھے۔ ایسے اقدامات انصاف کے نہ صرف بنیادی اصولوں، بلکہ آئین اور قانون کے نام پر تمانچہ ہیں۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ عام شہریوں پر حملے، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی جانوں کی بے توقیری کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ قومی اور سیاسی مسائل کا حل طاقت، جبر اور تشدد نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، انصاف، مکالمے اور عوام کی رائے کے احترام میں مضمر ہے اور جہاں بات قومی بقا کی ہو وہاں خاموشی گناہ کبیرہ کے مترادف سمجھتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی انسانی حقوق کے تمام اداروں بشمول اقوام متحدہ کے متعلقہ فورمز سے مطالبہ کرتی ہے کہ گدر بلوچستان کے سانحے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں،دیگر ان عوامل کے شدید اثرات پورےخطے کی امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز