شال (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق آج 12 اکتوبر 2026 کو بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ
آپریشن گوبٹ کے تحت قلات میں قابض پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے مخبروں کے ٹھکانوں پر چھاپے مار کر متعدد ریاستی آلہ کاروں کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں عبدالرسول ولد عبدالرشید، سکنہ دشت گوران، سعید احمد ولد نور محمد، سکنہ دشت گوران، جمیل احمد ولد عزیز محمد اور بارو شامل ہیں۔
بی ایل اے بلوچستان کے طول و عرض میں قابض پاکستان کے لیے جاسوسی، مخبری اور سہولت کاری میں ملوث عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ آپریشن گوبٹ یعنی گوئٹ کے تحت ہمارے سرمچاروں نے قلات میں دو ہفتے قبل چھاپہ مار کر قابض پاکستانی فوج، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے لیے کام کرنے والے گروہ کے کچھ لوگوں کو دبوچ لیا تھا۔ ان سب سے بی ایل اے کے تفتیش کاروں نے دو ہفتے سے زائد عرصے تک پوچھ گچھ کی اور ان سے ملنے والی معلومات اور انکشافات کی بنیاد پر مزید کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
گرفتار ہونے والے ریاستی آلہ کاروں نے ویڈیو اعترافی بیان میں اقبال جرم کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ انہوں نے قابض پاکستان کے خفیہ اداروں سے پیسے لے کر بی ایل اے کے جہدکار ساتھیوں کو شہید کروانے اور ان کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں اور ڈرونز سے بمباری کروائی ہے۔ مخبر عبدالرسول نے بھی اپنے ساتھیوں کی معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے قلات میں آئی ایس آئی کے ایک افسر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ان کے ساتھیوں کو چار عدد چِپ دیے گئے، جنہیں انہوں نے بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانوں کے قریب رکھا۔ اس کارروائی کے عوض انہیں دو لاکھ پاکستانی روپے دیے گئے تھے۔ چِپ کی مدد سے پاکستان کی فضائیہ نے اس جگہ پر حملہ کیا، جس سے وہاں موجود ایک مسجد شہید ہو گئی۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ایک آپریشن میں ان کے ہمراہ بارو، جمیل اور سعید کو بھی بھیجا گیا تھا، جس کے دوران تین بلوچ سرمچار شہید ہوئے تھے، جبکہ جوابی حملے میں پاکستانی فوج کے نو اہلکار مارے گئے تھے۔
مخبر سعید اور جمیل نے بھی اپنے اپنے ویڈیو اعترافی بیانات میں اقبال جرم کرتے ہوئے بی ایل اے کی قومی عدالت کو بتایا ہے کہ انہیں آئی ایس آئی کے اہلکار کاشف نے دفتر طلب کرکے بلوچ سرمچاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان کی ٹیم نے گدان ہوٹل کے مقام پر بی ایل اے کے دو سرمچاروں کو شہید کروانے میں پاکستان کے خفیہ اداروں کی مدد کی تھی، جس کے بدلے انہیں پیسے دیے گئے۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ آئی ایس آئی نے انہیں قلات میں بلایا اور چار چِپ دیے۔ فوج کے ساتھ مل کر اس گروہ نے بلوچ سرمچاروں کی گزرگاہوں اور ٹھکانوں کی نشاندہی کی اور انہیں نقصان پہنچانے میں دشمن کی سہولت کاری کی ہے۔
بی ایل اے کی قومی عدالت نے مجرموں کے اعترافی بیانات، ثبوتوں اور تمام تر زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے چاروں مخبروں کو سزائے موت سنائی ہے، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے فائرنگ اسکواڈ نے گزشتہ رات، بروز اتوار، دس بجے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔ ہم بلوچ قوم کے ہر فرد کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض دشمن پاکستان کی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے لیے مخبری اور سہولت کاری سے باز رہیں۔ قابض دشمن کے لیے چند پیسوں کے عوض اپنا ضمیر بیچنے والوں کے والدین، کنبے کے سرپرستوں اور علاقائی معتبرین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں۔ انہیں بلوچستان کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سرمچاروں کے خلاف مخبری کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور بلوچ تحریک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کے بارے میں بی ایل اے کو پیشگی اطلاع دیں۔ بلوچستان کی تحریک آزادی کے خلاف کام کرنے والے عناصر بارہا تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتے تو وہ کسی بھی طور معافی کے مستحق نہیں ہیں۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ ہماری یہ جنگ بلوچستان کی آزادی اور قابض پاکستان کے بلوچستان سے انخلا تک شدت سے جاری و سار
ی رہے گی۔


