Homeخبریںزاہدان میں پولیس تھانہ نمبر 11 کی فائرنگ سے 15 سالہ بلوچ...

زاہدان میں پولیس تھانہ نمبر 11 کی فائرنگ سے 15 سالہ بلوچ نوجوان شدید زخمی؛ اہل خانہ کا تشدد اور شکایت درج نہ کرنے کا الزام

زاہدان (ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاہدان میں پولیس تھانہ نمبر 11، واقع خیابان دانشگاه، کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک 15 سالہ بلوچ نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور واقعے کے خلاف شکایت درج کرانے کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 6 اکتوبر 2026 کی شب بلوچ نوجوان اپنے خاندان کے 21 سالہ داماد کے ہمراہ گاڑی میں خیابان دانشگاه اور فلکہ پاسداران کے علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس دوران پولیس تھانہ نمبر 11 کے اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نوجوان کے سر پر دو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق، زخمی نوجوان کی شناخت عرفان جمال زہی، ولد عیدمحمد، عمر 15 سال، سکنہ زاہدان کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، فائرنگ رات تقریباً 11 بجے کی گئی اور اس سے قبل گاڑی کو رکنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی تنبیہ کی گئی۔ فائرنگ کے دوران عرفان کے سر میں دو گولیاں لگیں، جبکہ مزید چھ گولیاں گاڑی پر لگیں۔ زخمی نوجوان کو طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں سر پر زخموں کی شدت کے باعث اسے تقریباً 50 ٹانکے لگائے گئے۔

عرفان کے اہل خانہ کے مطابق، واقعے کے دوران ایک پولیس اہلکار نے اپنی بندوق کے بٹ سے نوجوان کے چہرے پر وار کیا، جس سے اس کی بھنویں کے قریب زخم آ گیا۔ اہل خانہ کا مزید کہنا ہے کہ خاندان کے داماد کے لباس کی آستین بھی گولی لگنے سے پھٹ گئی، تاہم وہ براہ راست گولی لگنے سے زخمی ہونے سے محفوظ رہا۔

اہل خانہ کے بیانات کے مطابق، انہوں نے فائرنگ کی وجوہات جاننے اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کی شناخت کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں زاہدان کے مشترکہ بازار کے علاقے میں جھڑپ ہونے کی اطلاع ملی تھی اور گاڑی میں سوار افراد کے مسلح ہونے کے شبہے کی بنیاد پر فائرنگ کی گئی۔

تاہم، اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے وقت فلکہ پاسداران کے علاقے میں کسی قسم کی جھڑپ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ان کے مطابق، اب تک انہیں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کارروائی کس بنیاد پر کی گئی۔

عرفان کے رشتہ داروں نے مزید بتایا کہ واقعے کے خلاف قانونی کارروائی اور شکایت درج کرانے کی کوششوں کے باوجود عدالتی خدمات کے دفاتر نے ان کی شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اہل خانہ نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات، پولیس اور سکیورٹی حکام سے جواب طلبی اور فائرنگ و تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مط

البہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز